کشف الدجیٰ نے ایس ایم پلس 2 ہائی اسکول بسیٹھا کے انچارج ہیڈ ماسٹر کا مکمل چارج سنبھالا، تعلیمی نظام کو معیاری بنانا اور تدریسی ماحول کو بہتر کرنا اولین ترجیح ہوگی: کشف الدجیٰ

جالے (محمد رفیع ساگر/بی این ایس)
بہار پبلک سروس کمیشن (BPSC) کے ذریعہ حالیہ دنوں ریاست کے اپگریڈیڈ ہائی اسکولوں میں مستقل ہیڈ ماسٹروں کی تقرری کے بعد سیتا مرلی دھر ہائی اسکول، بسیٹھا میں قیادت کی منتقلی عمل میں آئی۔ پیر کے روز مقامی بلاک کے دوگھرا باشندہ کشف الدجیٰ عرف لڈن نے اسکول کے انچارج ہیڈ ماسٹر کا مکمل چارج سنبھال لیا، جس کے ساتھ ہی اسکول احاطہ سمیت پورے گاؤں میں خوشی کی فضا دیکھی گئی۔اس موقع پر جہاں نئی تقرری کو لے کر مقامی سطح پر جوش و خروش تھا، وہیں اسکول کی موجودہ ہیڈ مسٹریس محترمہ وینیتا کماری کی رخصتی اساتذہ اور عملے کے لیے جذباتی لمحہ ثابت ہوئی۔ واضح ہو کہ بی پی ایس سی کے ذریعہ وینیتا کماری کا انتخاب ضلع سیتامڑھی کے پوپری بلاک میں واقع رام نگر بیدول پوپری ہائی اسکول کی مستقل ہیڈ مسٹریس کے طور پر کیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے اسکول میں ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی جہاں انہیں نیک خواہشات کے ساتھ رخصت کیا گیا۔

تقریب کے دوران اساتذہ کرام نے محترمہ وینیتا کماری کی انتظامی و تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسکول کے نظم و نسق اور طلبہ کی تعلیمی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

نئے انچارج ہیڈ ماسٹر کشف الدجیٰ نے چارج سنبھالنے کے بعد کہا کہ محترمہ وینیتا کماری نے اس ادارے کو جن اصولوں پر چلایا، وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کی تعلیمی نگرانی، اساتذہ سے ہم آہنگی، اور طلبہ کے ساتھ مشفقانہ سلوک ادارے کی شناخت بن چکی ہے۔ ان کی رخصتی میرے لیے ذاتی طور پر ایک تکلیف دہ لمحہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسکول کی بہتری کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے پوری ایمانداری اور محنت سے کام کریں گے۔
تعلیم کو معیاری بنانا، خوشگوار تعلیمی ماحول فراہم کرنا اور طلبہ کو ہر ممکن سہولت دینا میری اولین ترجیح ہوگی۔ میں اپنے تمام تدریسی و غیر تدریسی عملے کے ساتھ مل کر اس ادارے کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوشش کروں گا۔

واضح رہے کہ کشف الدجیٰ کی بطور انچارج ہیڈ ماسٹر تقرری کو علاقے میں خوش آئند اور امید افزا قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور مقامی لوگ امید رکھتے ہیں کہ ان کی قیادت میں اسکول ایک نیا تعلیمی معیار قائم کرے گا۔

Comments are closed.