کیا تعلم سے روکنے نفرت پھیلانے کا ہے ایجنڈہ
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے قیام کا صدی سال چل رہا ہے ۔ یہ سال اچھے کام کے بجائے بی جے پی کے منفی تنازعات کی وجہ سے چرچا میں ہے ۔ ایک طرف بچوں کو تعلیم سے روکا جا رہا یے ۔ تو دوسری طرف درسی کتب کے ذریعہ کچے ذہنوں میں نفرت کے بیج بونے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ 2014 کے بعد سے اب تک ملک بھر میں 89441 پرائمری اور اپر پرائمری اسکول بند کئے جا چکے ہیں ۔ ان میں سے 60 فیصد مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں بند ہوئے ہیں ۔ صرف اترپردیش میں 2024 تک 27380 اور 2025 میں اب تک 26000 اسکول بند کئے جا چکے ہیں ۔ اسکولوں کے بند ہونے کی وجہ سے 2021 سے 2024 تک تین سال میں ملک بھر میں پہلی آٹھویں جماعت تک کے دو کروڑ پڑھائی چھوڑ کر گھر بیٹھ گئے ہیں ۔ 22-2023 اور 23-2024 کے بیچ 133035 پرائمری و اپر پرائمری سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں پورے 24 لاکھ کی کمی ہوئی ہے ۔ اس طرح نئی تعلیمی پالیسی کے نام پر اسکولی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو ہی ڈھایا جا رہا ہے ۔ سیاسی مفاد کے لئے جذبات کو کریدنے کا یہ ایسا کھیل ہے جس میں بچوں کے حقیقی مفاد کی قربانی دی جا رہی ہے ۔ کانگریس کی سربراہی والی یو پی اے حکومت نے رائٹ ٹو ایجوکیشن (تعلیم کا حق) قانون بنایا تھا ۔ جس کے تحت آٹھویں تک کی تعلیم کو مفت اور لازمی قرار دیا گیا تھا ۔ موجودہ حکومت اسکول بند کرکے مفت لازمی تعلیم کے قانون کو ہی غیر موثر کر دینا چاہتی ہے ۔ حکومت کے اس منصوبہ سے عوام واقف بھی نہیں ہوتے اگر چھوٹے اور سوشل میڈیا نے روتے بلکھتے چھوٹے چھوٹے بچوں کو سرکار سے اسکول بند نہ کرنے کی گوہار لگاتے ہوئے نہ دکھایا ہوتا ۔ یا پھر اترپردیش میں مدھو شالہ نہیں پاٹھ شالہ چاہئے والے بینر، پوسٹر حکومت نہ ہٹوائے ہوتے ۔ دور دراز علاقوں کے غریب لوگ اس سے سیدھے طور پر متاثر ہو رہے ہیں ۔
نئی تعلیمی پالیسی کی آڑ میںآر ایس ایس کے ایجنڈے کی خاطر اسکولی تعلیم کو تباہ کرنے کا ایک ایسا ہی واقعہ خبروں میں رہا ہے ۔ اسکولی تعلیم میں ہندی کو مسلط کئے جانے کی کوشش کا ہے ۔ تاہم یہ کوشش صرف ہندی کو مسلط کرنے پر رکنے والی نہیں ہے ۔ جموں و کشمیر سے آنے والی اطلاعات، لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت میں ریاست میں اسکولی بچوں پر سنسکرت کو مسلط کیا جا رہا ہے، اس مہم کے اگلے مرحلے کی طرف اشارہ کررہی ہیں ۔ تاہم، جیسا کہ مہاراشٹر میں پہلی جماعت سے ہندی کو لازمی کرنے کی کوشش کے خلاف وسیع پیمانے پر مزاحمت کا تجربہ ظاہر کرتا ہے، اس طرح کی کوششیں لوگوں کو آسانی سے ہضم ہونے والی نہیں ہیں ۔ تمل ناڈو کے بعد مہاراشٹر میں بھی مودی حکومت کو تین زبانوں کے فارمولے کو نافذ کرنے کی کوششوں کو واپس لینا پڑا ہے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس تنازعہ کے بعد تعلیم کو بالعموم اور ہندی کو بالخصوص نقصان پہنچا ہے ۔ سیاسی مفاد کے لیے زبان کو نفرت اور سماج کو بانٹنے کا ذریعہ بنانا زیادہ افسوسناک ہے ۔
تازہ معاملہ این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی سماجی علوم خاص طور پر تاریخ کی کتاب "ایکسپلورنگ سوسائٹی انڈیا اینڈ بیونڈ (حصہ۔1) میں دہلی سلطنت اور مغل دورِ حکومت کی ایک نئی تصویر پیش کی گئی ہے ۔ اس کے ذریعے طلبہ کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ یہ تاریخ کا ایک اندھیرا دور تھا ۔ کتاب میں باقاعدہ ایک وضاحت (ڈسکلیمر) دیا گیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ "تاریخ کے اندھیرے دور” کے لیے آج کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے ۔ یہ وضاحت کافی مضحکہ خیز لگتی ہے کیونکہ تاریخ، اور وہ بھی صدیوں پرانی تاریخ کے لیے تو ویسے بھی کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ جو کچھ ماضی میں ہوا، اس کا منطقی تجزیہ کرنا اور غلطیوں کو نہ دہرانے کا سبق لینا ہی تاریخ پڑھنے کا مقصد ہونا چاہیے ۔ یہ تبھی ممکن ہے جب تاریخ کو متوازن اور حساس انداز میں پڑھایا جائے ۔ تاریخ اس لحاظ سے پیچیدہ ہوتی ہے کہ وہاں اچھے اور برے، صحیح اور غلط کی سیدھی لکیر کھینچنا ممکن نہیں ۔ ان کے بیچ کئی ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں حالات واقعات کی وضاحت کرتے ہیں ۔ کبھی کوئی بادشاہ اپنا راج بچانے کے لیے ظلم کرتا ہے اور کبھی کسی بادشاہ کی نا اہلی میں رعایا پس کر رہ جاتی ہے ۔ قتل و غارت، خونریزی، انسانوں کی تجارت جیسے کئی غیر انسانی واقعات ہندوستان سمیت دنیا کی تاریخ میں درج ہیں ۔ خصوصاً قرونِ وسطیٰ کی تاریخ تو انہی سے بھری پڑی ہے کیونکہ اس وقت تک انسان نے تہذیب اور ترقی کے معنی سمجھ لیے تھے ۔ آگ اور پہیے کی ایجاد کے بعد انسان دوسرے جانوروں سے آگے نکل گیا اور اس کی زندگی میں تجارت، مذہب اور سیاست نے جگہ بنا لی ۔ اس وقت نہ کوئی آئین تھا نہ آج جیسی جمہوریت، اس لیے اخلاقیات کے پیمانے بھی مختلف تھے ۔ اُس وقت کے واقعات کی آج کے تناظر میں تشریح نہیں کی جا سکتی ۔
مگر نریندرمودی حکومت اسے ممکن بنانے میں لگی ہے ۔ 2014 کے بعد تاریخ کے ازسرِ نو تحریر کا باضابطہ کام شروع ہو چکا ہے ۔ اس سے قبل ایمرجنسی کے بعد جب جن سنگھ کو 1978 میں جنتا پارٹی کے مرکزی اقتدار تک پہنچنے کا موقع ملا تھا ۔ تب بھی اس کی شروعات کی گئی تھی لیکن چوطرفہ مخالفت کی وجہ سے اس میں کامیابی نہیں ملی ۔ پھر 1989 میں بی جے پی واجپائی کی سر براہی والی حکومت میں بھی آر ایس ایس کی سوچ کے مطابق بھارتی تاریخ کو "بھگوا رنگ” دینے کی خوکوشش کی گئی تھی، مگر اتحادی جماعتوں اور علمی حلقوں کی مخالفت کی وجہ سے اس میں زیادہ کامیابی نہیں ملی ۔ لیکن اس وقت کے وزیر تعلیم مرلی منوہر جوشی نے اتنا نقصان ضرور پہنچا دیا کہ اسے ٹھیک کرنے میں یو پی اے حکومت کو دس سال لگے ۔ مگر اب چونکہ مودی حکومت کا تیسرا دورِ اقتدار چل رہا ہے تو بی جے پی کو یہ گمان ہو گیا ہے کہ ملک میں اس کی حکومت مستقل ہو چکی ہے، اسی لیے اب تاریخ کو بدلنے کے ادھورے کام کو پورا کیا جا رہا ہے ۔ اسٹینڈرڈز انسٹی ٹیوٹ این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو اس کا ذریعہ بنایا گیا ہے تاکہ نئی نسل کے ذہنوں میں زہر با آسانی بویا جا سکے ۔ اور اگر کوئی الزام لگائے تو کتاب کا ڈسکلیمر دکھا دیا جائے گا ۔
سن 25-2026 کے سیشن کے لیے شائع کی گئی جماعت ہشتم کی نئی کتاب "ایکسپلورنگ سوسائٹی انڈیا اینڈ بیونڈ (حصہ 1)” میں بابر، اکبر اور اورنگ زیب سب کو انتہائی ظالم اور بے رحم حکمرانوں کی طرح پیش کیا گیا ہے، جنہوں نے ہندوؤں کے مندر توڑے، ان پر جزیہ لگایا اور عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا ۔ اسی لیے اس پورے دور کو "اندھیرا” کہا گیا ہے ۔ حالانکہ اسی "اندھیرے دور” میں رام چرِت مانس لکھی گئی اور اسی دور میں تاج محل جیسا عالمی شہرت یافتہ شاہکار تعمیر ہوا، جسے دیکھنے آج بھی دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں ۔ زمین کی پیمائش، راگ راگنیوں کی تخلیق، کھانے پینے اور لباس میں تجربے سب اسی دور میں ہوئے ۔ اسی دور میں بھارت برما سے لے کر افغانستان تک پھیلا ہوا تھا ۔ ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور کے مطابق ملک کا جی ڈی پی 38 فیصد تھا، اسی دور میں کیلاش پربت پر بھارت کا قبضہ تھا ۔ جن مغلوں کو ہندوؤں کے دشمن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے انہیں کی حکومت میں ہندو بڑے بڑے عہدوں پر فائض تھے ۔ اسی دور میں بھارت کو سونے چڑیا کے طور پر یاد کیا گیا ۔ اور سب سے بڑی بات کہ جس "اندھیرے دور” کا ذکر کر کے مغل حکمرانوں پر ظلم و ستم کا الزام لگایا جا رہا ہے اور ہندوؤں کے لیے اسے خطرہ بتایا جا رہا ہے، اس کے گزرنے کے بعد بھی ملک میں ہندو اکثریت میں اور مسلمان اقلیت میں ۔ 1526 سے 1857 تک مغل دور 331 سال چلا، اتنے طویل عرصے میں تو بھارتی سماج کی مذہبی شناخت آسانی سے بدل سکتی تھی ۔ جیسا کہ کتاب میں دعویٰ ہے کہ جزیہ "تحقیر آمیز ٹیکس” تھا جو غیر مسلموں پر مذہب کی تبدیلی کے دباؤ کے لیے لگایا جاتا تھا ۔ اس کتاب میں مندروں اور گردواروں کو توڑنے کا الزام بھی مغل حکمرانوں پر لگایا گیا ہے ۔ اگر یہ سب سو فیصد درست ہوتا تو ملک میں نہ چار پانچ سو سال پرانے مندر بچتے اور نہ ہی ہندوؤں کی آبادی مسلمانوں سے زیادہ ہوتی ۔ اندھرے دور کی اصطلاح بھی یورپ سے ادھار لی گئی ہے ۔ یورپ نے پورے مسلم دور اور سائنسی ترقیات کو "اندھیرادور” کہا جبکہ یورپ کی ایجادات مسلم سائنسدانوں کے تجربات پر مشتمل ہیں ۔ یورپ نے ان کی ایجادات کو چرا کر اپنے نام سے نئی پیکجنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرکے اسے روشن دور کا نام دیا ۔ یہی کام آر ایس ایس اور بی جے پی کر رہی ہے ۔
اس کتاب میں ٹیپو سلطان اور انگریزوں کے خلاف لڑائیوں کا ذکر تک نہیں کیا گیا ۔ مسلم حکمرانوں کا تذکرہ اتنا مختصر کیا ہے کہ رضیہ سلطان، چاند بی بی اور نورجہاں جیسی طاقتور حکمراں خواتین کو بھی جگہ نہیں دی گئی ۔ درحقیقت کتاب میں جو کچھ لکھا ہے وہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکبر نے جنگیں نہیں لڑیں یا اورنگ زیب نے مندر نہیں توڑے، مگر اورنگ زیب نے مندروں کو عطیات بھی دیے اور اکبر نے جزیہ ختم کیا ۔ اس کے بعد مذہبی ہم آہنگی بڑھانے کے لیے "صلح کل” کی پالیسی اپنائی، جس کی تعریف خود چھترپتی شیواجی نے کی تھی ۔ انہوں نے لکھا کہ اکبر نے 52 سال تک تمام برادریو، عیسائی، برہمن، جین، سکھ پر یکساں کرم فرمایا، اسی وجہ سے انہیں "جگت گرو” کہا گیا ۔ تو کیا اب این سی ای آر ٹی میں تاریخ بدلنے والے بتائیں گے کہ کیا شیواجی بھی اکبر کے بارے میں غلط تھے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ ظلم و ستم اور مذہبی مقامات کی تباہی صرف مغل یا سلطنت کے دور تک محدود نہیں ہے ۔ اس سے پہلے اور بعد میں بھی ایسا ہوتا رہا کیونکہ کسی بھی حکومت کا پہلا مقصد اپنے راج کی توسیع اور اردگرد کے حکمرانوں پر اثر قائم کرنا ہوتا تھا ۔ آج بھارت میں سمراٹ اشوک کو عظیم مانا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے کلنگ جنگ کے بعد تشدد کو ترک کیا اور بدھ مت اپنا لیا ۔ اشوک کے کتبوں کے مطابق کلنگ جنگ میں ایک لاکھ لوگ مارے گئے اور ڈیڑھ لاکھ قیدی بنائے گئے، پھر بھی اشوک کو ہم ظالم حکمران کے طور پر یاد نہیں کرتے، تو اکبر یا دیگر مغل حکمرانوں کے لیے یہ پیمانہ کیوں ہے، یہ غور طلب ہے ۔ کئی ہندو حکمرانوں نے اپنے راج کے لیے خونریزی کی ۔ پشپمتر شنگ (185 قبل مسیح) نے موریہ خاندان کو اکھاڑ کر لاکھوں بدھ مت کے ماننے والوں کا قتلِ عام کیا اور بودھ وہار تباہ کر دیئے ۔ راج ترنگنی میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کے راجا ہرش نے مندروں کو توڑنے کے لیے ایک خاص افسر مقرر کیا تھا ۔ جنوبی بھارت میں چولا، چیر اور پانڈیا خاندانوں نے ایک دوسرے کے مندروں اور مٹھوں کو تباہ کیا ۔ آج کے دور میں کانشی کاریڈور بنانے، ایوھیا اور گجرات میں ڈولپمنٹ کے نام پر کتنے مندر ٹوٹے سرکار کو بتانا چاہئے ۔
پیشوا شاہی قائم ہوئی تو شودر ذات کے لوگوں کو گلے میں ہانڈی اور کمر پر جھاڑو باندھ کر چلنا پڑتا تھا تاکہ ان کے قدموں کے نشان اور تھوک سے "اعلیٰ” ذاتیں "ناپاک” نہ ہوں ۔ یہ سب مورخ ڈی۔ڈی۔ کوسانبی نے اپنی کتاب "این انٹروڈکشن ٹو دی اسٹڈی آف انڈین ہسٹری” میں بیان کیا ہے ۔ دلت عورتوں کو اپنے پستان کھلے رکھنے پڑتے تھے ۔ ڈھکنے کے لئے سائز کے لحاظ سے ٹیکس دینا پڑتا تھا ۔ دلت اور چھوٹی ذات کے لوگوں کو ویدوں کی تعلیم لینے کی اجازت نہیں تھی ۔ آج بھی کوئی کتھا واچک پچگڑا یا دلت نہیں ہو سکتا ۔ دلتوں کو گھوڑی پر چڑھنے اور اعلیٰ ذات کے مندروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ تو کیا این سی ای آر ٹی ان سب وجہوں سے اعلیٰ ذاتوں کے اعمال کو "اندھیر نگری” کہے گی؟ یہ بھی غور طلب ہے ۔ کم سن بچوں میں تاریخ پڑھنے کی صحیح سمجھ پیدا کرنا ایک چیلنج ہے ۔ اس عمر میں جمی ہوئی باتیں ان کی شخصیت کو تشکیل دیتی ہیں ۔ انہیں نفرت کی طرف دھکیل کر مودی حکومت صرف ملک کا نقصان نہیں کر رہی بلکہ سماج کو گمراہ کرنے بھی کوشش کر رہی ہے ۔ کل جب بچے صحیح تاریخ پڑھیں گے یا غلط تاریخ پڑھنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر انہیں ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ تو وہ غلط تاریخ پڑھانے والے کے بارے میں کیا سوچیں گے ۔ اس پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔
Comments are closed.