مہاراشٹر اے ٹی ایس کا گھناونا چہرہ
سہیل انجم
ہندوستانی عدالتوں کی جانب سے بعض اوقات ایسے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں جو عدلیہ کے بارے میں عوامی اعتماد کو متزلزل کرتے اور اس کی انصاف پسندی پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ لیکن انھی عدالتوں کی جانب سے ایسے فیصلے بھی سنا دیے جاتے ہیں جویاس و ناامیدی کی تاریکی میں امید کی کرن بن کر جگمگانے لگتے ہیں۔ ممبئی ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ ایسے فیصلوں میں سے ایک ہے۔ جسٹس انل ایس کولر اور شیام سی چانڈک کی اسپیشل بینچ نے 2006 کے ممبئی سلسلے وار ٹرین بم دھماکوں کے بارہ ملزموں کو موت اور عمر قید کی سزا سے بری کر دیا۔ یہ ملزمان بلا قصور و خطا 19 سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔ ان کی زندگی کے قیمتی ایام جیل کی نذر ہو گئے۔ اس مظلومیت کی تمام تر ذمہ داری مہاراشٹر اے ٹی ایس کے سر عاید ہوتی ہے جس نے فرضی طریقے سے ان کو پھنسایا۔ مہاراشٹر مکوکہ عدالت نے 2015 میں پانچ کو پھانسی اور سات کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا۔ عدالت نے اپنے 671 صفحات کے فیصلے میں بجا طور پر کہا کہ جرم کے حقیقی ذمہ داروں کو سزا دینا مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن یہ جتا کر کہ ملزمان کو عدالتی کٹہرے تک لایا گیا ہے، کیس کو حل کرنے کا دعویٰ ایک فریب ہے۔ اس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اصل خطرہ اب بھی لاحق ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ بے قصور افراد کو پھنسایا گیا جبکہ اصل مجرموں کو چھوڑ دیا گیا۔ استغاثہ یعنی اے ٹی ایس نے جو ثبوت پیش کیے وہ انتہائی لچر تھے اور جو گواہیاں دلوائیں وہ جھوٹی تھیں۔ ان میں ایک گواہ ایک ٹیکسی ڈرائیور بھی تھا جس نے سو دنوں کے بعد بیان دیا کہ ملزمان اس کی ٹیکسی میں بیٹھ کر آئے تھے۔ عدالت نے اس پر سوال کیا اور کہا کہ سو دنوں کے بعد کوئی ٹیکسی ڈرائیور اپنی سواریوں کو کیسے پہچان سکتا ہے۔ ایک گواہ نے پولیس کو بیان دیا کہ جب وہ ملزموں میں سے ایک کے گھر میں داخل ہوا تو اس نے ملزم اور دوسروں کو بم بناتے ہوئے دیکھا۔ لیکن جرح کے دوران اس نے اپنا بیان بدل دیا اور کہا کہ وہ گھر میں نہیں گیا تھا البتہ اس کے ایک دوست نے بم بنانے کے بارے میں اسے بتایا تھا۔ عدالت نے اے ٹی ایس کی جانب سے آر ڈی ایکس، گرینول، ڈینونیٹر، کوکر، سرکٹ بورڈ، ہُک اور نقشوں کی برآمدی کو بھی ناقابل یقین اور غیر اہم بتایا۔ دراصل اے ٹی ایس کا پورا کیس اعتراف جرم پر مبنی تھا۔ جبکہ پولیس کے سامنے اعتراف جرم کی عدالت میں کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ پولیس ملزموں سے جبراً بیانات دلواتی ہے۔
آشیش کھیتان تہلکہ کے سابق تفتیشی رپورٹر ہیں۔ انھوں نے گجرات فسادات سمیت متعدد فسادات اور بم دھماکوں کی تفتیشی رپورٹنگ کی تھی۔ ان کی رپورٹوں کو احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ اب وہ ایک وکیل ہیں۔ انھوں نے اس کیس کے سلسلے میں 2014 میں ممبئی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی۔ اس کا مکمل متن نیوز ویب سائٹ ’دی وائر‘ پر شائع ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے اے ٹی ایس کے دعووں پر سوالات کھڑے کیے ہیں اور کیس کی جانچ او راس کے طریقہ کار پر شدید تشویش کا اظہا رکیا ہے۔ انھوں نے بھی یہ بات کہی ہے کہ اے ٹی کا یہ کیس صرف اعتراف جرم پر مبنی تھا۔ ان کے مطابق دھماکوں کے بعد جب پولیس کو کوئی سراغ نہیں مل پا رہا تھا اور عوام میں شدید ناراضگی تھی تو اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا کہ اس نے کیس حل کر لیا ہے۔ اس نے سیمی کے بعض سابق ارکان کے گھروں پر چھاپے مارے اور ان کو مجبور کیا کہ وہ پیشگی تیار شدہ اعتراف نامے پر دستخط کر دیں۔ اس اعتراف نامے کی بنیاد پر اسی سال یکم دسمبر کو 13 گرفتار شدگان اور 15 مفرور ملزموں کے خلاف چاج شیٹ داخل کی گئی۔ اس کے بعد مکوکہ عدالت میں کیس چلا اور اس نے ملزموں کو سزا سنا دی۔ اس طرح اے ٹی ایس نے عدالت کو گمراہ کیا۔ آشیش کھیتان کی پٹیشن کے مطابق 26 نومبر 2008 کو اس وقت کے اے ٹی ایس کے چیف ہیمنت کرکے کی موت ہو گئی۔ وہ ایک ایماندار پولیس افسر رہے ہیں۔ وہ بعض زعفرانی شدت پسند گروہوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ مالیگاوں بم دھماکہ کیس کی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور دیگر نے کرکرکے کے خلاف بیانات دیے تھے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر وہ زندہ رہتے تو مالیگاوں بم دھماکہ کیس میں اب تک فیصلہ ہو چکا ہوتا اور ممبئی ٹرین بم دھماکہ کیس کے حقیقی مجرموں کو سامنے لانے میں کامیابی مل گئی ہوتی۔ بہرحال کرکرے کے بعد کے پی رگھوونشی نے اے ٹی ایس کا چارج سنبھالا۔ انھوں نے اس کیس کو دوسری سمت میں موڑ دیا۔
آشیش کھیتان نے اپنی پٹیشن میں اس کی تفصیل پیش کی ہے کہ حراست اور جیل کے اندر ملزموں کو کس طرح ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے نو ملزموں کے انٹرویوز کیے جس میں ٹارچر کے حقائق سامنے آئے۔ انھوں نے عدالت کے گلیارے میں ملزموں کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی۔ انھوں نے اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی تھی۔ ٹارچر کا ایک طریقہ ’واٹر بورڈنگ‘ ہے۔ یعنی ملزم کے سر کو پانی میں ڈبویا جاتا ہے جس سے اس کو لگتا ہے کہ اس کی سانس اب ٹوٹی کہ تب ٹوٹی۔ یہ بدترین طریقہ کار امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے گوانتاموبے کے قیدیوں پر آزمایا تھا۔ آشیش کھیتان کے مطابق دھماکہ کے ملزموں پر بھی اسے آزمایا گیا۔ ان کی مقعد اور رگوں میں کیمیکل ڈالا گیا۔ ان کی ٹانگیں بالکل مخالف سمت میں چیر دی گئیں۔ ان کی شرمگاہوں کو بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ ان کے گھروں کی خواتین کی عصمت دری کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان مظالم کا مقصد ان سے اعتراف جرم کرانا تھا۔ ٹارچر کا یہ سلسلہ پولیس حراست اور پولیس ریمانڈ میں تین چار ماہ تک چلا۔ اے ٹی ایس کالاچوکی ٹارچر چیمبر تھا۔ آشیش کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کے پولیس کمشنر اے این رائے، اے ٹی ایس چیف کے پی رگھوونشی اور اے ٹی ایس ڈی سی پی نول بجاج بھی اس ٹارچر میں ملوث تھے۔
جمعیت علما ہند کی ممبئی شاخ قابل مبارکباد ہے کہ اس نے جی توڑ محنت کرکے اور قابل وکلا کی خدمات حاصل کرکے ان بے گناہوں کو بری کرایا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی زندگی کے جو قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضائع ہو گئے اس کی ذمہ داری کس پر عاید ہوگی اور اس کا ازالہ کیسے ہوگا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس کیس میں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا، اس قسم کے دیگر کیسوں میں کیا ہوگا۔ (حالانکہ مہاراشٹر حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جس پر 24 جولائی کو سماعت ہوگی)۔ جب بھی کہیں کوئی و اردات ہوتی ہے پولیس بے قصوروں کو گرفتار کرتی ہے اور انھیں حقیقی مجرم کے طور پر پیش کرتی ہے۔ میڈیا اس کا ساتھ دیتا ہے اور بغیر ٹرائل اور ثبوت کے ان کو مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ پولیس کے اس رویے اور میڈیا ٹرائل سے ملزموں اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے اس کے بارے میں کبھی نہیں سوچا گیا۔ اس بارے میں بھی کبھی نہیں سوچا گیا کہ جو پولیس افسران بے قصوروں کو پھنساتے اور حقیقی مجرموں کو چھوڑ دیتے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جمعیت علما کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بجا طور پر کہا ہے کہ یہ انصاف اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک کہ بے قصوروں کو پھنسانے والے پولیس اہل کاروں کو سزا نہیں دی جاتی۔ پہلے بھی عوامی طور پر یہ جائز مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ خاطی پولیس اہل کاروں کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی بے قصور کی زندگی برباد نہ ہو۔ لیکن اس پہلو پر نہ پہلے غور کیا گیا اور نہ ہی آئندہ غور کیے جانے کا امکان ہے۔
موبائل: 9818195929
Comments are closed.