معروف عالم دین مبلغ و داعی کبیر مولانا علاء الدین میواتی کا 80 سال کی عمر میں انتقال

 

مولانا کی رحلت سےخطہ میوات کے دینی تعلیمی تبلیغی اصلاحی حلقے سوگوار، دیر رات ہوئی تدفین میں خطہ میوات کے سینکڑوں علماء آئمہ و مبلغین نے نم آنکھوں سے کیا سپرد خاک

 

نوح (محمد صابرقاسمی)

 

میوات کے معروف بزرگ عالم دین ، مبلغ و داعی مولانا علاء الدین،میواتی، مختصر علالت کے بعد انتقال کر گے۔

طبیعت ناساز ہونے پر شہید راجہ حسن خاں میواتی میڈیکل کالج واقع نلہڑ نوح میں داخل کرایا گیا، یہاں چند دن زیر علاج رہنے کے بعد طبیعت بگڑتی چلی گئی جس کے بعد اچانک انتقال کرگئے، مولانا علاؤالدین کی اچانک رحلت سےخطہ میوات کے دینی تعلیمی تبلیغی حلقے سوگوار ہوگیے، دور دراز سے نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی خاطر، بعد نمازِ عشاء تدفین عمل میں لائی گئی، آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے خلیفہ مجاز مفتی غلام نبی استاذ مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ نے ادا کرائی

 

موسم کی خرابی کے باوجود۔نماز جنازہ و تدفین کے عمل میں میوات و بیرون میوات کے ہزاروں علماء و آئمہ اور بڑی تعداد میں عوامی جم غفیر نے شرکت کی، جو آپ کی عوام و خواص و اہل علم کے درمیان یکساں طور پر مقبولیت کی علامت سمجھی جا رہی ہے،

آپ نے اپنے پسماندگان میں ایک بیواہ دو بیٹے سمیت چار بیٹیاں چھوڑی ہیں،

قابل ذکر ہے کہ مرحوم مولانا علاء الدین کا شمار خطہ میوات کے ان جلیل القدر علماء میں ہوتا تھا جنہوں نے ساری زندگی ہمہ جہت دینِ اسلام کی خدمت، علمِ شریعت کی ترویج، اور نوجوان نسل کی دینی اصلاحی رہنمائی میں گزار دی۔ آپ کی ذات خطہ میوات میں کئی دہائیوں سے تعلیم و تبلیغ کا محور بنی ہوئی تھی، جہاں سے سیکڑوں شاگردوں اور متعلقین متوسلین نے فیض پایا۔ مرحوم مولانا کی ذات نہ صرف علاقہ میوات میں بلکہ بیرون میوات میں بھی داعی مبلغ اور ایک شیخ طریقت و مربی کی حیثیت سے متعارف تھی، اس لحاظ سے آپ کے خلفاء و مجازین و مربین کا ایک وسیع حلقہ بھی پایا جاتا ہے،آپ کی دینی تعلیمی تبلیغی حیات و خدمات کو قلم بند کرنے والے مفتی محمد یوسف قاسمی مدرس معدن العلوم جھمراوٹ نے بتایا کہ گذشتہ کچھ سالوں سے مولانا سے والہانہ تعلق تھا اس تعلق کی بنیاد پر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ ہمیشہ اتحاد کے داعی رہے،

جمعیتہ علماء میوات کے سابق جنرل سیکرٹری، مولانا محمد صابر قاسمی نے بتایا کہ آپ کا خصوصی امتیاز یہ تھا کہ میواتی شناخت کی حامل پگڑی کے اہتمام کے ساتھ میوات میں ہونے والے جمعیتہ علماء ہند کے جلسوں میں آپ تبلیغی جماعت اور جمعیتہ علماء ہند کے درمیان باہمی ربط اور عوامی فہمائش کی خاطر آپ عالمانہ تبلیغی بیان فرماتے تھے،

مولانا نے خطہ میوات کے نصف درجن مقامات پر رہتے ہوئے دینی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، آپ نے تعلیم و تبلیغ کے میدان میں بڑے نمایاں خدمات انجام دیں، جس میں مرکز نظام الدین کے تحت کاماں واقع مدرسہ میں عنفوانِ شباب ميں ١٧ سال درس و تدریس تعلیم و تبلیغ سے وابستگی سمیت میوات کے دیگر مقامات جیسے صدر مقام میوات نوح، کوسی کلاں، چاؤنڈی مدرسہ میں خدمات انجام دی، اس کے علاوہ پانچ سال مرکز نظام الدین میں مقیم ریتے ہوئے ہمہ تن یکسو ہوکر تبلیغی سرگرمیاں انجام دی، آپ نے اپنے تلامذہ متعلقین و متوسلین مبلغین محبین کا بڑا وسیع حلقہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے، آپ کی ہمہ جہت خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،

 

آپ کے جنازہ میں اکثر اکابر علماء میوات میں مولانا راشد میل کھیڑلا ،مفتی زاہد حسین، مولانا یحی کریمی، مولانا حکیم الدین اٹاوڑی، مولانا خالد اسحق اٹاوڑی، مولانا عثمان اویسی چلی مولانا محمد الیاس جھمراوٹ مولانا اسجد میل کھیڑلا مولانا شیر محمد امینی سمیت بڑی تعداد میں نوجوان فضلاء و آئمہ و علماء کی شرکت قابل ذکر ہے.

Comments are closed.