امریکہ ایک زوال پذیر سپر پاور ہے،فلسطین ایک آزاد اور خودمختار ریاست بن کر رہے گا

 

ممبئی میں واقع ایران کے ایکٹنگ کونسل جنرل کا مشرف شمسی سے گفتگو

 

ممبئی میں تقریباً تیس سالہ صحافتی زندگی میں پہلی بار اسلامی جمہوریہ ایران کے ممبئی کونسلیٹ کے رابطے میں آیا۔وہ بھی اس طرح کے گزشتہ تین چار مہینوں سے میں اپنا اردو ہفتہ وار پہلی خبر ممبئی میں واقع ایران اور خلیجی ممالک کے کونسلیٹ ڈاک سے بھیجوا رہا ہوں ۔

ایرانی کونسلیٹ سے گزشتہ بدھ کو فون آیا کہ ایکٹنگ کونسل جنرل آپ سے ملنا چاہتے ہیں تو آپ کونسلیٹ آ سکتے ہیں ۔میں نے کہا آج تو نہیں آ سکتا ہوں اور کل بھی مجھے کام ہے۔آخر پیر کے دن چار بجے ملنے کا وقت طے ہوا اور بات خود ایکٹنگ کونسل جنرل ایچ۔ای ۔حسان محسنی فرد نے کی۔میں مقررہ وقت پر ایرانی کونسلیٹ پہنچ گیا ۔کونسلیٹ میں کونسل جنرل حسان محسنی نے خود اندر میں استقبال کیا اور اپنے ساتھ مہمان خانے میں لے گئے۔ساتھ میں اُنکے نائب شریفی بھی تھے۔میں انگریزی روانی سے بات نہیں کر سکتا تھا تو میرے اردو میں کیے سوال کا ترجمہ فارسی میں سعید مرائی کر رہے تھے ۔

ایکٹنگ کونسل جنرل ایچ۔ای ۔حسان محسنی فرد سے مشرف شمسی کی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔

سوال – اسرائیل سے بارہ روزہ جنگ کے بعد آج ایران اپنے آپکو کہاں دیکھ رہا ہے؟

 

حسان محسنی ـ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران پر ہوئے حملے میں ایران کا بہت بڑا نقصان ہوا لیکن اسرائیل کے ساتھ ہوئے بارہ روزہ جنگ میں ایک قوم کی شکل میں اسلامی جمہوریہ ایران پوری طرح متحد نظر آیا۔ ایرانی قوم کی ایسی یکجحتی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔اسلامی جمہوریہ ایران کا حوصلھ اور جوابی حملھ کرنے کی طاقت دنیا نے دیکھا ۔ایران نے اسرائیل کے ساتھ قطر کے امریکی فوجی اڈہ پر حملھ کر بتا دیا کہ ہم کسی سپر پاور سے نہیں ڈرتے ہیں ۔یہ ہم نے سب کچھ بنا کسی دوسرے ملک کی مدد سے کیا۔

سوال – کیا روس اور چین نے اس بارہ روزہ جنگ میں مدد نہیں کی ؟

حسان محسنی – روس اور چین نے اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارتی مدد بھرپور انداز سے کیے ۔ھم اُن دونوں ممالک کے شکر گزار ہیں لیکِن ایران نے یہ جنگ اپنے بل بوتے لڑا اور چار دنوں کی جنگ کے بعد ہی اسرائیل مِنتیں مانگنے لگا کہ سيز فائر کرا دیں ۔

 

سوال – اسلامی جمہوریہ ایران چاہے جوہری بم بنانے کے قریب پہنچنے یا مغربی ایشیا میں اپنے پراکسی کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے نشانے پر رہتا ہے تو آخر ایران کے اندر اتنے بڑے پیمانے پر اسرائیلی ایجنٹ کیسے گھس آئے جس کا پتہ ایرانی انٹیلیجنس کو نہیں چل پایا جبکہ ایران کو چوکنا رہنے کی ضرورت تھی؟

 

حسان محسنی ـ اسرائیل کے ساتھ پہلے دن کے پہلے آٹھ گھنٹے ایران کے اندر چھوٹے چھوٹے ڈرون سے ایرانی ملٹری اور جوہری سائنس دانوں پر حملے ہوئے اس میں صرف موساد کے ایجنٹ شامل نہیں تھے بلکہ یورپ اور امریکہ کی سالہاسال کی محنت تھی۔

امریکہ جب افغانستان کو چھوڑ کر بھاگا تو اس کے ساتھ ہزاروں افغانی جو امریکی نواز سرکار کے حمایتی تھے بھاگ کر ایران آئے تھے۔اُنہیں افغانی کو یورپ میں لے جاکر باضابطہ ٹریننگ دی گئی ۔افغانی ویسے بھی ایرانی سماج میں آسانی سے مل جاتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کی زبان ایک ہے یعنی فارسی ہے۔اسلئے افغانیوں پر شک بھی نہیں ہو رہا تھا۔لیکِن ایران نے محض آٹھ گھنٹے میں اُن اندرونی حملوں پر قابو پا لیا اور دشمنوں کو ایرانی افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔

 

سوال – اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ میں پاکستان کا کیا کردار تھا؟

حسان محسنی ـ پاکستان سے اُمید تھی کہ وہ اس جنگ میں اسٹریٹجک مدد فراہم کریگا۔پاکستانی حکومت عوامی دباؤ میں صرف زبانی مدد کر پائی ۔میرے خیال میں اس کی وجہ امریکی صدر کا پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ڈنر ڈپلومیسی تھی۔اگر عوامی دباؤ نہیں ہوتا تو شاید پاکستان اسرائیل کے خلاف بات بھی نہیں کر پاتا ۔

 

سوال – شام کے حالات کیا ہیں اور شام کے اس پیچیدہ حالات میں ایران کہاں کھڑا ہے؟

 

حسان محسنی – اسد کی حکومت جانے کے بعد اسرائیل شام کو چار حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے ۔شام میں ترکیہ کے بھی اپنے مفاد ہیں۔اسرائیل شام کے جنوب میں ایک کوریڈور بنانا چاہتا ہے جو یورپ تک جائیگا جبکہ ترکیہ ایک شمال میں کوریڈور بنانا چاہتا ہے جو عراق تک جائیگا۔لیکِن ایران ایک متحد شام دیکھنا چاہتا ہے جو کسی باہری مداخلت سے پاک ہو اور ایران اس سمت میں اپنی کوشش کر رہا ہے ۔اسرائیلی منصوبے کو شام میں کبھی پورا ہونے نہیں دیا جاسکتا ہے ۔

 

سوال – غزہ میں عام فلسطینی بے یار و مددگار مارے جا رہے ہیں ۔کوئی بھی ملک غزہ کی حمایت میں کھل کر اسرائیل کے سامنے نہیں آ رہا ہے ۔

حسان محسنی – غزہ کی مدد کھل کر اگر کوئی ملک کر رہا ہے تو صرف ایران کر رہا ہے۔باقی عرب ممالک زبانی خرچ کر رہے ہیں ۔غزہ کے لوگوں کو جس طرح سے بھوک اور پانی سے تڑپایا جا رہا ہے وہ ایک تاریخ بن رہی ہے اور یورپ کے اخلاقیات اور تہذیب کا پول کھل رہا ہے ۔لیکِن یہی بھوکی اور پیاسی قوم ایک دن آزاد اور خودمختار فلسطین کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے گا ۔یہ ہمیں امید نہیں بلکہ یقین ہے ۔ہمیں یقین اسلئے بھی ہے کہ امریکہ ایک زوال پذیر سپر پاور ہے اور وہ بہت دنوں تک اسرائیل کا ساتھ نہیں دے سکتا ہے ۔

 

سوال – سعودی عرب اور مصر کے رشتے ایران سے کیسے ہیں؟

حسان محسنی – سعودی عرب اور مصر کو اب سمجھ آ چکا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کسی کے نہیں ہیں ۔وہ دونوں ممالک یہ بھی جان چکے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ خطّے میں کوئی بھی ملک رقبہ یا طاقت سے بڑا نہ ہو ۔وہ دونوں ممالک خطّے میں چھوٹے چھوٹے ملک چاہتے ہیں جس سے اُنکا رُعب اور دبدبہ خطے میں بنا رہے۔سعودی عرب اور مصر دونوں ممالک برکس میں شامل ہو چکے ہیں اور روس اور چین کے نزدیک ہوتے جا رہے ہیں ۔اسی میں صرف سعودی عرب اور مصر کی بھلائی ہے بلکہ خطّے کے دوسرے اسلامی ممالک کے لئے بھی اب دوسرا راستہ نہیں ہے۔

 

سوال – بھارت اور ایران کے رشتے پر آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟

 

حسان محسنی – بھارت کا ایران سے بہت ہی قدیم رشتہِ رہا ہے ۔اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تجارتی رشتے حالیہ برسوں میں مضبوط ہوئے ہیں لیکِن جس طرح سے امریکہ صدر بھارت کے ساتھ سلوک کر رہا ہے اس سے بھارت سرکار میں بھی احساس گھر کر رہا ہے کہ وہ قدرتی طور پر ساؤتھ بلاک کا ملک ہے اور ساؤتھ بلاک یعنی چین ،روس اور ایران کے اتحادی بننے میں ہی انکا مفاد ہے۔امریکہ اور مغربی یورپ جسے نارتھ بلاک کہتے ہیں انکا ایک ہی کام ہے کہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کرو اور پھر ضرورت نہیں رہے تو اُسے پھینک دو۔بھارت ایک بڑا ملک ہے اور اس ملک میں ہر طرح کی معدنیاتی خزانہ ہے ۔بھارت اپنے آپ میں خود کفیل ہے ۔ساؤتھ بلاک میں بھارت جیسے بڑے ملک کا ایک بڑا کردار ہو سکتا ہے ۔

 

سوال – ایران کی جوہری افزودگی سے امریکہ،اسرائیل اور مغربی یورپ اتنا خوف زدہ کیوں ہے ؟

 

حسان محسنی – جوہری بم پاکستان اور شمالی کوریا کے پاس بھی ہے اور ایران بنا لےگا تو اس سے کیا فرق پڑےگا۔ویسے بھی ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ ہے کہ ہم جوہری بم نہیں بنائیں گے ۔اُسکے باوجود امریکہ اور یورپ چاہتا ہے کہ ایران جوہری افزودگی زیرو فیصدی تک محدود رکھے ۔دراصل ایران جوہری توانائی کا استعمال کھیتی میں میڈیسن بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے میں کر رہا ہے ۔ایران نے جوہری توانائی کا استعمال کر کینسر کی سستی دوا بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔دراصل جوہری توانائی کا استعمال کر ایران چو طرفہ ترقی کر رہا ہے جس سے نارتھ بلاک کے ممالک بوکھلائے ہوئے ہیں ۔وہ نہیں چاہتے ھیں ایران ترقی کرے اور پوری طرح خود کفیل بنے۔

میرا روڈ ،ممبئی

9322674787

signature

 

Comments are closed.