سِریا گاؤں میں دو طرفہ تصادم، نوجوان لہو لہان، بعد میں گھر پر حملے اور بندوق چھیننے کا الزام، دونوں جانب سے ایف آئی آر درج
جالے (محمد رفیع ساگر/بی این ایس)
سِمری تھانہ حلقہ کے تحت سِریا گاؤں میں 22 جولائی کی شام دو فریقوں کے درمیان ہوئے پے در پے واقعات میں مارپیٹ، زخمی کرنے، جان سے مارنے کی کوشش، بدسلوکی اور لائسنسی ہتھیار چھیننے جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ دونوں جانب سے تھانے میں ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے جس سے معاملہ پولیس کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
خبر کے مطابق مارپیٹ میں زخمی نوجوان محمد شہباز کے چچا کی درخواست پر درج ایف آئی آر کے مطابق 22 جولائی کی شام پانچ بجے محمد شہباز گھر سے مدرسہ چوک سامان لانے جا رہا تھا۔ اسی دوران وسیم حیدری کے بیٹے محمد معاذ اور دیگر دو تین افراد نے راستے میں اسے گالیاں دینا شروع کیا۔ جب شہباز نے مخالفت کی تو معاذ نے جیب سے لوہے کا فائٹر نکال کر اس پر حملہ کر دیا۔
الزام ہے کہ معاذ نے پہلے اس کی گردن پر وار کیا، پھر ڈائیگر نکال کر اس کی پیشانی پر مارا، جس سے وہ بری طرح لہو لہان ہو گیا۔ جائے وقوع پر بھیڑ اکٹھا ہو گئی۔ موقع پر وسیم حیدری بھی پہنچے اور مبینہ طور پر شہباز کو گالیاں دینے کے ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
اسی طرح وسیم حیدری نے جوابی ایف آئی آر درج کراتے ہوئے محمد سجاد عرف تقی احمد، محمد عامر، شہنشاہ، افتخار کلیم عرف گلاب، عبدالبارق، محمد شہباز اور دیگر 4-5 افراد پر سنگین الزامات عائد کیے۔واقعہ اسی دن شام تقریباً 35:6 کا بتایا گیا ہے۔
ان کے مطابق مذکورہ افراد زبردستی گھر میں گھس آئے، ان کے بیٹے محمد معاذ پر لوہے کی راڈ سے سر پر حملہ کر کے اس کے دائیں ہاتھ کی دونوں ہڈیاں توڑ دیں۔ بیچ بچاؤ کے لیے پہنچی وسیم کی اہلیہ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان کے کپڑے پھاڑ دیے گئے اور دھکا دے کر گرا دیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان کمرے میں گھس کر لائسنسی بندوق چھیننے کی کوشش کرنے لگے اور رنگداری مانگتے ہوئے پورے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ ساتھ ہی نوجوان کے گلے سے چاندی کی دو چین چھیننے اور جیب سے ایک ہزار روپے نکالنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ وسیم حیدری کے مطابق واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ ان کے پاس موجود ہے، جو پولیس کو تحقیقات کے دوران پیش کی جائے گی۔
تھانہ انچارج منیش کمار نے دونوں فریقوں کی شکایت کی بنیاد پر الگ الگ ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تفتیش کی ذمہ داری سب انسپکٹر وجے شنکر چودھری کو سونپی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے الزامات کی غیرجانبدارانہ تفتیش کی جا رہی ہے اور حقائق کی روشنی میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Comments are closed.