جمعہ نامہ: اختیارنہ رہا افتخار نہ رہا، اقتدار اب ترا اعتبارنہ رہا

 

ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:’’کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جس سے چاہے، چھین لے‘‘۔سابق نائب صدر مملکت جگدیپ دھنکرکا آناً فاناً اقتدار محروم ہوجانا اس آیت کی بہترین تفسیر ہے۔ فی الحال ان پر غالب کا یہ مصرع ہو بہو صادق آرہا ہے کہ ’ دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو‘۔ عام حالات میں اقتدار کی کرسی سے برسہا برس تک جونک کی مانند چپکے ہوئے حکمرانوں کو دیکھنے پر مذکورہ بالا آیت کے مفہوم کا ادراک کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے مگر جب مشیت الٰہی کسی طاقتور اور محفوظ و مامون حکمراں کو پلک جھپکتےآسمانِ سیاست سے اقتدار کے کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے تو بے ساختہ یہ آیت یاد آجاتی ہے۔ اس بات کا علم اگر ان کو ہوتا کہ 21؍ جولائی (2025)کی شب اچانک ان کا سورج ڈوب جائے گا تو اس سے ٹھیک گیارہ دن قبل انہوں نے یہ نہیں کہا ہوتا کہ میں 22؍ اگست 2027 کو سبکدوش ہوجاوں گا الاّ یہ کہ کوئی قدرتی مداخلت ( یعنی آسمانی سلطانی) ہوجائے۔ ان کے دعویٰ کا اختتامی فقرہ حیرت الہ بادی کے اس شعر میں موجود اندیشے کی یاد دلاتا ہے؎

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

دس دن قبل اگلے دوسالوں تک اپنے محل میں رہنے کا خواب دیکھنے والے جگدیپ کو کیا پتہ تھا کہ دوہفتوں کے اندر ان کا ٹکٹ کٹ جائے گا اور ایک ماہ میں بوریہ بستر گول کرکے باہر کا راستہ دیکھنا پڑے گا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم حکومت کا لالچ کرو گے اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے باعث ندامت ہو گی۔ پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہے دودھ چھڑانے والی۔“ دودھ پلانے والی سے مراد یہ ہے کہ جاہ و منصب اور مال کے ساتھ اختیار اور دنیوی لذتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں۔ دودھ چھڑانے والی کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار سے جدائی بڑی کربناک ہوتی ہے۔آج یہ عالم ہے کہ سابق نائب صدر جمہوریہ اپنے محل میں نظر بند ہیں ۔ وہ نہ تو کسی سے مل سکتے ہیں اور نہ کوئی ان سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکتا ہے۔ جس سنگھ پریوار کی خوشنودی کے لیے انہوں نے ساری دنیا سے دشمنی مول لی وہ ان سے منہ موڑ چکا ہے۔ جس نظریاتی قبیلےسے رشتہ توڑ کر انہوں نے زعفرانی چولہ اوڑھا تھاوہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے ملنا چاہتاہے مگر اس کی اجازت نہیں ہے۔

مذکورہ بالا آیت کے دوسرے حصے میں فرمانِ قرآنی ہے:’’(اللہ تعالیٰ ) جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے ‘‘۔ جگدیپ دھنکر پر کی جانے والی سیاسی سرجیکل اسٹرائیک کا حال بھی بالکل آپریشن سیندور جیسا ہے۔ اپنے ہدف میں کامیابی کے بعد اس بار پھر حملہ آورکے حصے میں ملک کے اندر اور باہر رسوائی آئی اور حملے کا شکار ہونے والے کی بیرون و اندرونِ ملک پذیرائی ہوئی ۔ جگدیپ دھنکر کو عہدے سے ہٹانے والے ان کے سیاسی آقا فی الحال منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اور ان کی مخالفت کرنے اور سہنے والاحزب اختلاف ہمدردی و حمایت کا اظہار کررہا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ موصوف نے سنگھ پریوار کی شاکھا میں ہوش نہیں سنبھالا بلکہ اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جنتا دل سے کیا اور پھر کانگریس میں چلے گئے ۔ اٹل بہاری کے دورِ حکومت میں انہوں نے بھانپ لیا کہ اب اقتدار کا لطف زعفرانیت سے وابستہ ہوچکا ہے اس لیے وہاں کا رخ کیا ۔

گورنر کے عہدے پر فائز کرکے ممتا بنرجی کے خلاف انہیں خوب استعمال کیا گیا۔ ان کی بیش بہا خدمات کے اعتراف میں ترقی دے کر نائب صدر بنانے کے لیے دہلی بلایا گیا کیونکہ اس وقت ملک کا جاٹ سماج کسان تحریک کے مودی سرکار کی بے رخی سے بہت ناراض تھا ۔ دھنکر کی دہلی آمد میں اس سیاسی مجبوری کا بھی خاصہ عمل دخل تھا۔ مودی سرکار کے اس اقدام نے سنگھ پریوار کے اندر بددلی پیدا کردی ۔وہ چاہتا تھا کہ ہندوتوا کے فروغ کی خاطر اپنی پوری زندگی کھپا دینے والے نیکردھاریوں کوعمر کےآخری پڑاو میں سرکاری خزانےپر عیش کرنے کا موقع دیا جائے لیکن فی الحال مودی و شاہ کے نزدیک نظریہ و اخلاق کے مقابلے اقتدار و انصرام کی اہمیت زیادہ ہے۔ دھنکر کو بھی اس داخلی مخالفت کا احساس تھا اس لیے وہ خود کواپنے آقاوں کا سب سے زیادہ وفادار اور لائق و فائق سپہ سالار ثابت کرنے کی سعی میں لگے رہتے تھے۔ اس کوشش میں انہوں نے حزب اختلاف کے نہ صرف ڈیڑھ سو سے زیادہ ارکان کو بیک جنبش معطل کرنے کی ہمت دکھائی بلکہ آئے دن مختلف سیاسی رہنماوں سے الجھتے رہے۔

دھنکر خود پیشے سے وکیل ہیں اس کےباوجود انہوں نے عدلیہ کے ساتھ کھلی جنگ چھیڑ دی۔ مقننہ کو منتخب ہونے کے سبب عدلیہ سے برتر قرار دیا۔ کالیجیم کی مخالفت کی اور بدعنوان جج یشونت ورما کی برخواستگی کی خاطر حزب اختلاف کے ارکانِ پارلیمان کی تجویز کو بحث کے لیے منظور کرلیا۔ وہ مسلمانوں کو کٹھ ملاّ کہہ کر ہندو اکثریت کی مرضی سے ملک چلانے کی وکالت کرنے والےالہ باد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر ورما کو بھی سبق سکھانا چاہتے تھے۔ویسے جگدیپ دھنکر کا رسوا ہوکر سیاسی افق سے معدوم ہوجانا ملک کے لیے اچھا شگون ہے۔ آیت کا اختتام بھی اسی طرح ہوتا ہے کہ: ’’ بھلائی تیرے(اللہ کے) اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

آگے فرمان قرآنی ہے :’’ تو ہی رات کو (بڑھا کر) دن میں اور دن کو (بڑھا کر) رات میں داخل کرتا ہے‘‘ یہ آیت ممبئی ٹرین بلاسٹ کے رہا ہونے والے بے قصور قیدیوں کے لیےہے کہ ان کی 19 ؍ سالہ شب تاریک اچانک صبح کی کرنوں سے جگمگا نے لگی اور مہاراشٹر سرکار کےروشن دن کو رات کی تاریکی نے نگل لیا۔ دس سال سے بے جان پڑے مقدمہ میں زندگی آگئی اور سب کے سب ملزم باعزت بری ہوگئے۔ ارشادِ فرقانی ہے: ’’اور تو(اللہ) جاندار کو بے جان اور بے جان کو جاندار سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی عطا کرتا ہے‘‘۔ ان سارے بے قصور ملزمین کا اس قدر ٹھوس بنیادوں پر باعزت بری ہوجانا ایسا بے حساب رزق ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ اتنا طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے والابے گناہ قیدیوں کا کمال اعتماد کے ساتھ میڈیا میں اپنا موقف کا اظہار اس شعر کی مصداق ہے؎

آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں

کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں

Comments are closed.