ناصبیت کا ارتقاء و انحراف اور ملت پر اس کے اثرات
حسن مدنی ندوی (ریسرچ اسکالر)
ناصبیت، اسلامی فرقہ واریت کی تاریخ کا ایک ایسا تاریک پہلو ہے جو رسول اکرم ﷺ کے اہل بیت اطہار کی محبت کے خلاف دشمنی اور بغض پر مبنی ہے۔ یہ محض ایک فکری اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسا شدید انحراف ہے جس نے ملتِ اسلامیہ میں نہ صرف فتنہ و فساد برپا کیا بلکہ لاتعداد المناک واقعات کو جنم دیا، جن میں سب سے دردناک واقعہ کربلا ہے۔
ناصبیت کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
"ناصبیت” کا لفظ عربی کے مادہ "ن ص ب” سے مشتق ہے، جس کا لغوی معنی "نصب کرنا”، "کھڑا کرنا” یا "دشمنی ظاہر کرنا” ہے۔ اصطلاحی طور پر، یہ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اہل بیت رسول ﷺ سے کھلی دشمنی، بغض اور عداوت رکھتے ہیں اور ان کے فضائل و مناقب کا انکار کرتے ہوئے ان کی تنقیص کرتے ہیں۔ یہ بغض کبھی قول کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی اہل بیت کے محبین کے خلاف عملی تشدد کی شکل اختیار کرتا ہے۔
اہل سنت کی معتبر کتب میں بھی اس کی تعریف موجود ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ (شرح صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 177) نے لکھا ہے: "ناصبی وہ ہیں جو علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں اور ان کی گالی گلوچ کرتے ہیں، یا جو اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں۔”
شیعہ نقطہ نظر سے، ناصبی وہ ہیں جو اہل بیت، خاص طور پر حضرت علی علیہ السلام اور آئمہ طاہرین علیہم السلام سے عداوت رکھتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ شیخ مفید رحمہ اللہ اپنی کتاب "اوائل المقالات” میں ناصبی کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "ہر وہ شخص ناصبی ہے جو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام اور ان کی اولاد سے دشمنی رکھے۔”
ناصبیت کا تاریخی ارتقاء
ناصبیت کوئی یکلخت نمودار ہونے والا فتنہ نہیں بلکہ اس کے بیج رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد ہی بونا شروع ہوگئے تھے۔ اس کا ارتقاء چند مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے:
1. ابتدائی علامات اور سیاسی پس منظر:
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد خلافت کا مسئلہ امت میں پہلا بڑا فتنہ بنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابتدا میں خلافت سے محروم کیا جانا اور پھر ان کے دورِ خلافت میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات نے مسلمانوں کے درمیان شدید اختلاف اور گروہ بندی کو جنم دیا۔ معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان سیاسی کشیدگی نے کچھ ایسے عناصر کو ابھارا جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے حامیوں کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا۔
شیعہ روایات کے مطابق: "کافی” میں امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امام علی علیہ السلام کو خلافت سے محروم کیا گیا تو یہ اہل بیت کے خلاف عداوت کا ایک آغاز تھا۔ جنگ صفین کے بعد، تحکیم کے معاملے پر خوارج کا حضرت علی علیہ السلام سے انحراف بھی ناصبی فکر کی ایک شاخ تھی۔
حوالہ: طبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 4، صفحات 55-58 (جنگ صفین کے واقعات)؛ شیخ کلینی، اصول کافی، جلد 8، کتاب الروضہ، صفحہ
34۔
اسی طرح امام حسن کو صلح پر راضی کرنا اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ وہ جنت کے سردار ہیں زہر دے کر شہید کرادینا اور اس ناپاک ساش میں امویوں کا جوجرمانہ دور رہا وہ کسی سے مخفی نہیں، آل بیت کو صرف کربلا میں نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی وقتا ف وقتا شہید کیا گیا۔
2. سبِ علی کا فتنہ:
ناصبیت کے ارتقاء میں سب سے خطرناک اور نمایاں مرحلہ حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کا عام کیا جانا تھا۔ معاویہ بن ابی سفیان کے دورِ حکومت میں، خاص طور پر مساجد میں جمعہ کے خطبوں کے دوران، حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کا حکم جاری کیا گیا، جو تقریباً 60 سال تک جاری رہا۔ یہ عمل علی الاعلان اہل بیت سے بغض کی ترویج اور ان کے فضائل کی پردہ پوشی تھا۔
حوالہ: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علی رضی اللہ عنہ، حدیث 2409۔ اس حدیث میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ نے ان سے پوچھا کہ تم ابو تراب (حضرت علی) کو کیوں گالی نہیں دیتے؟ سعد نے جواب دیا کہ جب تک مجھے رسول اللہ ﷺ کی تین باتیں یاد ہیں، میں ہرگز انہیں گالی نہیں دوں گا۔
شیعہ روایات کے مطابق: اس دور میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام پر سب و شتم کو سنت قرار دیا گیا اور جو کوئی حضرت علی علیہ السلام سے محبت کا اظہار کرتا تھا، اسے سزائیں دی جاتی تھیں۔ یہ سب و شتم اتنی عام ہو گئی تھی کہ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اسے بند کیا تو لوگوں نے کہا کہ کیا آپ سنت کو ترک کر رہے ہیں؟
حوالہ: ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 11، صفحہ 44 (اس میں سب علی کے حکم کا تفصیلی ذکر ہے)؛ شیخ عباس قمی، منتہی الآمال فی تواریخ النبی والآل، جلد 1، صفحہ 240۔
3. خوارج کا ظہور:
خوارج اگرچہ ناصبیت کی مکمل شکل نہیں تھے، لیکن ان کا حضرت علی علیہ السلام سے بغض اور ان کے خلاف خروج ناصبی افکار کے فروغ میں مددگار ثابت ہوا۔ خوارج وہ گروہ تھا جس نے جنگ صفین میں تحکیم کے معاملے پر حضرت علی علیہ السلام سے علیحدگی اختیار کی اور بعد میں انہیں کافر قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کا ارتکاب کیا۔ خوارج اہل بیت اور اکثر صحابہ کے خلاف بھی تھے۔
حوالہ: ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، جلد 7، صفحات 321-325 (خوارج کی سرگرمیاں اور حضرت علی کا قتل)
4. اموی دور میں عروج:
اموی حکمرانوں نے اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور اہل بیت کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ناصبی افکار کی ترویج کی۔ اہل بیت اور ان کے چاہنے والوں کو ہر سطح پر دبایا گیا، ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، اور ان کی فضیلت کے پرچار پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس دور میں کربلا کا المناک واقعہ پیش آیا، جس میں امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا، جو ناصبیت کی انتہا تھی۔ یزید بن معاویہ اور اس کے حامیوں کا کردار ناصبیت کی عملی شکل تھا۔
شیعہ روایات کے مطابق: ائمہ علیہم السلام پر سختیاں کی گئیں، قید کیا گیا، زہر دے کر شہید کیا گیا اور ان کے شیعوں کو ہر ممکن طریقے سے اذیتیں دی گئیں۔ یہ اموی دور ناصبیوں کے ظلم و ستم کا عکاس ہے، حوالہ: ابومخنف، مقتل الحسین؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، جلد 6، صفحہ 33 وہی دیگر موثوق روایات کے رو سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نسائی جو کہ صحاح ستہ کو مؤلفین میں سے ایک رھے اور علم حدیث میں بہت اعلی مقام کرتے تھے انہیں اذیت دے کر اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ آل بیت کے مناقب و فضائل بیان کرتے تھے، اور جب ان سے پوچھا گیا کہ معاویہ کے بارے میں کوئی حدیث بتائیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے صرف لا اشبع اللہ بطنہ والی حدیث سندا سنی ہے، جو ابن عباس سے مروی ہے کہ “ اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے” یہ الفاظ آقائے دو جہاں حضور اکرم ﷺ کے ہیں، تو یہ سن کر اموی بوکھلا گئے اور امام نسائی کو سخت اذیت دی یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے۔
2۔
ناصبیت کا فکری انحراف
ناصبیت ایک شدید فکری انحراف ہے جو کئی وجوہات کی بنا پر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہے:
1. اہل بیت کی محبت کا انکار اور بغض:
اسلام میں اہل بیت رسول ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ قرآن و سنت میں ان کی فضیلت پر واضح نصوص موجود ہیں۔ ناصبی اس محبت کا انکار کرتے ہیں اور اس کے بجائے بغض کو فروغ دیتے ہیں۔
* قرآنی حکم: سورۃ الشوریٰ، آیت 23: "کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ قرابت داروں سے محبت کرو۔” مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے اس آیت میں قرابت داروں سے مراد اہل بیت رسول ﷺ لیے ہیں۔
* نبوی تعلیمات (اہل سنت): رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی سی ہے، جو اس میں سوار ہوا، نجات پا گیا اور جو پیچھے رہا، وہ ہلاک ہو گیا۔” (مستدرک حاکم، جلد 2، صفحہ 343)۔
* نبوی تعلیمات (شیعہ و سنی): رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت (اہل بیت)، جو ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں۔” (صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 1873؛ سنن ترمذی، جلد 5، صفحہ 663)۔
ناصبی ان نصوص کو یا تو مسترد کرتے ہیں یا ان کی غلط تاویل کرتے ہیں۔
2. صحابہ کرام کے عدول پر اعتراض اور تحریف:
ناصبیوں کی ایک اور نشانی یہ ہے کہ وہ بعض صحابہ کرام، خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے حامیوں پر شدید تنقید کرتے ہیں اور انہیں غلط قرار دیتے ہیں۔ بعض ناصبی، حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو غیر شرعی قرار دیتے ہیں اور ان کے فضائل کا انکار کرتے ہیں۔
3. فضائلِ اہل بیت کا انکار یا تحریف:
احادیث میں اہل بیت کی عظمت اور فضیلت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ ناصبی ان احادیث کا یا تو انکار کرتے ہیں، یا انہیں ضعیف قرار دیتے ہیں، یا پھر ان کی تحریف کرتے ہیں تاکہ اہل بیت کی برتری کو چھپایا جا سکے۔ مثال کے طور پر، حدیث کساء اور حدیث غدیر خم کا انکار یا ان کی غلط تاویل۔
شیعہ روایات کے مطابق: حدیث غدیر خم میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا، مگر ناصبی اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد محبت یا نصرت ہے۔ حدیث کساء اہل بیت کی فضیلت اور طہارت پر دلالت کرتی ہے، لیکن ناصبی اس کو محض ایک عام گھرانے کا ذکر قرار دیتے ہیں۔
حوالہ: علامہ امینی، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، جلد 1، صفحہ 9؛ شیخ صدوق، الامالی، صفحہ 381۔
4. خارجی و تکفیری ذہنیت:
ناصبیوں میں اکثر اوقات تکفیری ذہنیت پائی جاتی ہے، جہاں وہ اپنے مخالفین کو، خاص طور پر اہل بیت کے محبین کو، کافر یا بدعتی قرار دیتے ہیں۔ اس ذہنیت نے امت میں فتنہ و فساد کو فروغ دیا ہے۔
موجودہ دور میں ناصبیوں کی غلط تاویلات
آج کے دور میں ناصبی اپنے آپ کو واضح طور پر "ناصبی” نہیں کہتے بلکہ وہ اپنے افکار کو چھپانے کے لیے مختلف تاویلات اور دلائل کا سہارا لیتے ہیں:
* "اہل بیت کی محبت سب کو ہے” کا دعویٰ: ناصبی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بھی اہل بیت سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان کی محبت محض زبانی ہوتی ہے یا پھر وہ اس کو عام مسلمانوں کی محبت کی طرح قرار دیتے ہیں اور اہل بیت کے خصوصی مقام و مرتبہ کا انکار کرتے ہیں۔ جب اہل بیت کے فضائل بیان کیے جائیں تو ان کو "غلو” یا "شرک” قرار دیتے ہیں۔
اگر ان سے پوچھا جائے کہ احد میں جو فرقہ الگ ہوا تھا وہ بھی تو صحابہ تھے لیکن قرآن میں جا بجا صحابہ کی بھیس اوڑھ ان منافقین سے خبردار کیا گیا ہے جو مدینہ میں رہتے تھے صحابہ بن کر اور اسلام کو نقصان پہونچاتے تھے! اگر احد میں نبی کے خلاف بغاوت کی، خندق میں بغاوت کری تو علی کے خلاف بھی تو بغاوت کی گئی اور اس کو یہ اجتھادی غلطی بتاتے ہیں تو نبی علیہ السلام کے خلاف باغیوں کی بھی اجتھادی غلطی بتائیں! امویوں کی من گھڑت روایات کے چپیٹ میں اس قدر آگئے ہیں کہ جہاں تفرقہ بازی کا موقعہ ملتا ہے وہاں یہ دفاع صحابہ کے نام پر آل بیت کی تنقیص کرتے ہیں اور تاویلیں پیش کرتے ہیں اور ابن سبا جیسے منافقین کی روش کو لے کر آگے بڑھتے ہیں۔
* "شیعہ کافر ہیں” کا فتنہ: ناصبی آج بھی اہل بیت کے ماننے والوں کو کافر، رافضی یا مشرک قرار دیتے ہیں۔ وہ شیعہ عقائد کو بنیاد بنا کر انہیں اسلام سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ اہل بیت سے محبت کرنے والوں کو بدنام کیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں ان کے خلاف قتل و غارت گری کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔
* تاریخی واقعات کی تحریف: کربلا جیسے المناک واقعات کی حقیقت کو مسخ کرتے ہوئے یا تو یزید کو معصوم قرار دیتے ہیں یا امام حسین علیہ السلام کے خروج کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک "سیاسی جنگ” تھی اور اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یزید نے امام حسین کو شہید نہیں کیا بلکہ یہ ان کے اپنے حامیوں کی سازش تھی یا یہ کہ اس میں "اجتہادی خطا” تھی۔
* فضائلِ اہل بیت کی احادیث پر تنقید: آج بھی بعض نام نہاد محققین اہل بیت کے فضائل میں موجود صحیح احادیث (جیسے حدیث ثقلین، حدیث غدیر خم، حدیث کساء) کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں یا ان کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو ان کے حقیقی معنی و مفہوم کو بدل دیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اہل بیت سے مراد "امت مسلمہ” ہے، نہ کہ رسول اللہ ﷺ کے خاص اہل خانہ۔
* "شیعہ نے دین گھڑا” کا پروپیگنڈا: ناصبی یہ پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں کہ شیعہ نے دین کو گھڑا ہے اور وہ قرآن و سنت کو نہیں مانتے، حالانکہ شیعہ بھی قرآن و سنت کو ہی اپنے دین کی بنیاد مانتے ہیں، لیکن ان کی روایات کا سلسلہ اہل بیت ائمہ سے ہوتا ہے۔
ملتِ اسلامیہ پر ناصبیت کے اثرات
ناصبیت نے ملتِ اسلامیہ پر انتہائی گہرے اور تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں:
1. فرقہ واریت کا فروغ:
ناصبیت نے مسلمانوں کو اہل بیت کے محبین (شیعہ) اور اہل سنت کے درمیان تقسیم کیا۔ اس فکری انحراف نے ان دونوں گروہوں کے درمیان کدورت، عداوت اور جنگ و جدل کو جنم دیا جو آج تک جاری ہے۔
حوالہ: شہرستانی، الملل والنحل، جلد 1، صفحہ 147 (فرقوں کا تذکرہ)
2. باہمی قتل و غارت گری:
اہل بیت سے بغض نے ایسے واقعات کو جنم دیا جن میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا، خاص طور پر کربلا کا واقعہ جو ناصبیت کی سفاکی کا بدترین مظہر ہے۔ اس کے علاوہ، اموی دور میں اہل بیت کے چاہنے والوں پر مسلسل مظالم اور قتل و غارت گری جاری رہی۔ موجودہ دور میں بھی ناصبی گروہ، جو خود کو اہل سنت سے جوڑتے ہیں، محرم میں معاویہ کے نام پر جلسے جلوس کرتے ہیں، امویوں کے قصیدے اور کارنامے گناتے ہیں، اہل بیت اور ان پر ہوئے مظالم کا ذکر تو کیا مضحکہ خیز انداز میں تاویل اور مذاق بناتے ہیں، نفرت کے لئے عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کو کسی بھی طرح مولی علی علیہ السلام پر فوقیت دینے کی کوشش کرتے ہیں اور صرف بغض و کدورت کی وجہ سے ملت کو آل بیت اور مولی علی کے پیغامات سے دور کرتے ہیں، محرم میں آل بیت کا ذکر نہ کرنے کے بجائے امویوں کی داستانیں سنانا اور صحابہ کی آڑ لے کر دفاع صحابہ نامی جھوٹے اور فریبی جلسے کرنا ان کا شیوہ ہے اور افسوس کے ہمارے بہت سے سادہ لوح علماء و عوام بھی ان کی ناپاک سازش کو نہیں سمجھ پاتے ہیں اور ان کے جھانسے میں آکر جذباتی ہوجاتے ہیں، یہاں جذبات کا نہیں بلکہ ایمان کا معاملہ ہے کہ آل بیت پر درود بھیجے بغیر نماز نہیں ہوتی تو ایمان کیسے مکمل ہوجائے گا؟ علی کی ولایت کا اعلان عمومی تھا اور مستند ہے پھر بھی خود ساختہ تاویلات بغض علی میں پیش کرتے ہیں اور مولی کا مطلب دوست سمجھتے ہیں: حالانکہ فرمان نبی علیہ السلام ہے کہ علی سے محبت کرنے والا مومن اور نفرت کرنے والا منافق ہوگا، اسی کے ساتھ شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں، جن میں مساجد پر حملے اور عزاداری کے جلوسوں پر بم دھماکے شامل ہیں اور کئی علاقوں بائیکاٹ کرتے ہیں سمیت کا لبادہ اوڑھے یہ منافقین قوم کا ناسور بن چکے ہیں اور ملت اسلامیہ کو ان سے بہت خطرات کا اندیشہ ہے جیسے امویوں نے ایک دور میں اہل مدینہ کو خون سے لہولہان کیا اور مکہ میں کعبہ کی عظمت کا لحاظ نہ کرتے ہوئے حد حرم میں قتل وغارت گیری کری ویسے ہی یہ ناصبی جہاں اقتدار میں ہوتے ہیں وہاں محبان آل بیت کے لئے زہر و سلاسل بنتے ہیں اور جہاں محکوم ہوتے ہیں وہاں بغض و عناد کا مظاہرہ مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔
3. علمی اور اخلاقی انحطاط:
جب امت کا ایک حصہ اہل بیت رسول ﷺ سے بغض رکھتا ہے، تو یہ ایک عظیم علمی و اخلاقی انحطاط ہے۔ اہل بیت علوم نبوت کے وارث تھے، اور ان سے دوری نے امت کو علم اور اخلاق کے ان سرچشموں سے محروم کیا۔ ناصبیت نے بحث و مباحثہ کے بجائے تکفیر اور تشدد کو فروغ دیا جو علمی پیشرفت کے لیے زہر قاتل ہے۔
4. سیاسی استحصال:
ناصبیت کو اکثر حکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تاکہ وہ اہل بیت کے اثر و رسوخ کو کم کر سکیں اور اپنی حکمرانی کو دوام بخشیں۔ اس سیاسی استحصال نے امت کو مزید کمزور کیا۔ آج بھی بعض ممالک میں حکومتی سرپرستی میں ناصبی افکار کی ترویج کی جاتی ہے تاکہ مخصوص گروہوں کو کمزور کیا جا سکے۔
5. امت کی وحدت کا نقصان:
اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک مسلمانوں کی وحدت ہے۔ ناصبیت نے اس وحدت کو شدید نقصان پہنچایا اور امت کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کمزور پڑ گئی۔ یہ ناصبی افکار امت کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہے ہیں اور بیرونی دشمنوں کے لیے آسانی پیدا کر رہے ہیں۔
خلاصہ
ناصبیت ایک فکری اور تاریخی انحراف ہے جس نے اہل بیت اطہار سے بغض اور دشمنی کی بنیاد رکھی۔ اس کا ارتقاء سیاسی محرکات سے ہوا اور یہ اموی دور میں اپنے عروج پر پہنچی، جس کے نتیجے میں کربلا جیسے المناک واقعات رونما ہوئے۔ ناصبیت کے فکری انحرافات میں اہل بیت کی محبت کا انکار، فضائل کا تحریف اور تکفیری ذہنیت شامل ہیں۔ موجودہ دور میں ناصبی اپنے حقیقی چہرے کو چھپاتے ہوئے مختلف غلط تاویلات اور پروپیگنڈوں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اہل بیت کے محبین کو بدنام کر سکیں۔ اس کے ملتِ اسلامیہ پر فرقہ واریت، قتل و غارت گری، علمی انحطاط اور امت کی وحدت کے نقصان جیسے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوئے، تفریق امہ کا سبب اگر ایک طرف تبرا کرنے والے رافضی ہیں تو وہیں دوسری جانب یہ ناصبی ہیں دونوں کا ہی مقام امت میں منافقین جیسا ہے جو مستقل اسلام کو بدنام اور عالم اسلام کو آزمائش میں ڈالے ہوئے ہیں، آج بھی، امت کو اس فتنہ کے خلاف چوکنا رہنے اور اہل بیت رسول ﷺ کی محبت کو دل میں بسانے کی ضرورت ہے، تاکہ ملتِ اسلامیہ دوبارہ حقیقی وحدت اور استحکام حاصل کر سکے۔
Comments are closed.