معصوم بچے اور ان کی معصومیت

الطاف جمیل ندوی

شاہ سوپور کشمیر

____________________________
معصوم بچوں کا بچپن اور ہماری توقعات
معصوم بچے، قدرت کا انمول تحفہ ہیں، اور ان کا کام ہی شرارت کرنا، کھیلنا کودنا اور بے فکری سے زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ یہ ان کے بچپن کا لازمہ ہے، وہ فطری طور پر متجسس، چنچل اور آزاد روح کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی ہنسی میں دنیا کی سب سے بڑی سچائی اور ان کی معصوم شرارتوں میں زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی چھپی ہوتی ہے۔
ہم جب انہیں ‘ادب کے دائرے’ میں رہنے کو کہتے ہیں، انہیں ‘شریف’ بننے کی تلقین کرتے ہیں، یا ان کی فطری شرارتوں اور کھیل کود کو روکتے ہیں، تو درحقیقت ہم انجانے میں ان سے ان کا بچپن چھین رہے ہوتے ہیں۔ بچپن نام ہی بے فکری، اچھل کود، مٹی میں کھیلنے، اور اپنے تخیل کی دنیا میں گم رہنے کا ہے۔ اگر ہم انہیں ان سرگرمیوں سے باز رکھیں گے تو وہ بچپن کی بہت سی خوبصورت یادوں اور تجربات سے محروم رہ جائیں گے۔
یہ درست ہے کہ بچوں کو تہذیب اور اخلاق سکھانا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی فطری جبلتوں کو کچل دیا جائے۔ انہیں حدود و قیود میں قید کرنا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے اور انہیں اندر ہی اندر دبا ہوا محسوس کرا سکتا ہے۔ بچے کھیل کود کے ذریعے ہی سیکھتے ہیں، سماجی رابطے قائم کرتے ہیں، اور دنیا کو سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کی شرارتیں دراصل ان کی توانائی، جستجو اور سیکھنے کی خواہش کا اظہار ہیں۔ انہیں بے جا روک ٹوک سے روکنے کے بجائے، ہمیں ان کی توانائی کو مثبت سمت میں موڑنے کی ضرورت ہے۔ انہیں ایسے مواقع فراہم کرنے چاہئیں جہاں وہ آزادانہ طور پر کھیل سکیں، سوالات پوچھ سکیں، اور اپنی دنیا دریافت کر سکیں۔
بچوں کو ادب سکھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم خود ان کے سامنے ایک اچھا نمونہ پیش کریں۔ انہیں محبت اور شفقت سے سمجھائیں، نہ کہ سختی اور پابندیوں سے۔ اگر ہم ان کے بچپن کو ان کی فطری شکل میں پروان چڑھنے دیں گے تو وہ نہ صرف ایک صحت مند اور خوش باش زندگی گزاریں گے بلکہ ایک ذمہ دار اور متوازن شخصیت کے مالک بھی بنیں گے۔ ان کا بچپن ان کا حق ہے، اور ہمیں یہ حق ان سے چھیننے کا کوئی جواز نہیں۔

معصوم بچوں کا بچپن
معصوم بچے، یہ دنیا کی سب سے خوبصورت اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کا بچپن ایک ایسی حسین دنیا ہوتی ہے جہاں ہر شے نرالی اور ہر لمحہ یادگار ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی ایک منفرد انداز سے گزارتے ہیں، جو بڑوں کی دنیا سے بالکل مختلف ہے۔
بچپن میں شرارتیں اور معصوم شوخیاں ان کی پہچان ہوتی ہیں۔ ان کے چہروں پر ہمیشہ ایک چمک اور آنکھوں میں ایک تجسس نظر آتا ہے۔ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں خوشی ڈھونڈ لیتے ہیں اور ان کی ہنسی کی گونج پورے ماحول کو روشن کر دیتی ہے۔ ان میں کھیلنے کودنے کا ایک بے پناہ جذبہ ہوتا ہے۔ کھلے میدان ہوں یا گھر کا کوئی کونہ، وہ ہر جگہ اپنی ایک الگ دنیا بسا لیتے ہیں۔ ان کے کھیل، ان کی تخیلاتی دنیا کا عکس ہوتے ہیں جہاں وہ بادشاہ، ہیرو یا کوئی بھی کردار بن کر اپنے خوابوں کو جی سکتے ہیں۔
معصومیت ان کے رگ رگ میں بسی ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی مکاری یا بناوٹ سے پاک ہوتے ہیں۔ ان کا دل بالکل صاف اور شفاف ہوتا ہے، جس میں کسی کے لیے کوئی بغض یا کینہ نہیں ہوتا۔ وہ بہت جلد کسی سے بھی گھل مل جاتے ہیں اور ان کی محبت خالص اور غیر مشروط ہوتی ہے۔
بچپن کا یہ دور دراصل آزادی اور بے فکری کا ہوتا ہے۔ انہیں دنیاوی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا اور وہ اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو حیرت اور تجسس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور یہی تجسس انہیں نئی چیزیں سیکھنے اور سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کی دنیا میں کوئی حد نہیں ہوتی، اور وہ اپنے خیالات کی پرواز کو کسی قید میں نہیں رکھتے۔
یقیناً، معصوم بچوں کا بچپن ایک ایسی نعمت ہے جسے ہمیں ہمیشہ قدر کرنی چاہیے۔ یہ وہ سنہرا دور ہے جہاں زندگی اپنی خالص شکل میں موجود ہوتی ہے۔ ہمیں ان کے بچپن کو محفوظ رکھنا چاہیے اور انہیں کھل کر جینے کا موقع دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی معصومیت اور بے فکری کے ساتھ ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔
آج کل بچوں سے ان کا بچپن چھینا جا رہا ہے، ان کے کھیلنے کودنے پر قدغن لگائی جا رہی ہے، اور تعلیم کے نام پر ان پر اتنا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے کہ ان کی معصومیت اور شرارتیں کہیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اس صورتحال پر ایک بہتر مربوط متن (coherent text) پیش خدمت ہے:
بچوں سے چھنتا بچپن: تعلیم یا بوجھ؟
آج کا دور جہاں ترقی اور جدت کا علمبردار ہے، وہیں اس نے ہمارے معاشرے سے کچھ قیمتی چیزیں بھی چھین لی ہیں۔ ان میں سب سے اہم اور افسوسناک چیز بچوں سے ان کا بچپن چھن جانا ہے۔ ایک وقت تھا جب بچے کھلے میدانوں میں کھیلتے، کودتے، شرارتیں کرتے اور فطرت کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ ان کا بچپن ہنسی، خوشی اور بے فکری کا مظہر ہوتا تھا۔ لیکن آج، یہ سب ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
کھیل کود سے محرومی اور غیر ضروری آداب کا بوجھ
افسوس کی بات ہے کہ ہم نے بچوں کو کھیلنے کودنے سے منع کر رکھا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کھیل کا وقت محض ضیاع ہے، حالانکہ کھیل ہی بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوڑنا، بھاگنا، اچھلنا کودنا ان کی ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے، دماغ کو متحرک کرتا ہے اور انہیں سماجی رشتوں کو سمجھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم انہیں طرح طرح کے مختلف آداب سکھانے کے نام پر قید کر دیتے ہیں۔ "ایسے بیٹھو، ویسے بولو، یہ نہ کرو، وہ نہ کرو” کی لا متناہی فہرست ان کی فطری شرارتوں اور معصومیت کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ بچے فطری طور پر متجسس اور نڈر ہوتے ہیں، وہ چیزوں کو چھو کر، توڑ کر یا نئی حرکتیں کر کے سیکھتے ہیں۔ جب انہیں ہر قدم پر روکا جائے، تو ان کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں اور وہ ایک خود ساختہ خول میں بند ہو جاتے ہیں۔
تعلیم کے نام پر مسلط کردہ بوجھ
سب سے بڑی زیادتی جو ہم بچوں کے ساتھ کر رہے ہیں، وہ ہے تعلیم کے نام پر مسلط کیا گیا ناقابل برداشت بوجھ۔ صبح اسکول، اس کے بعد ٹیوشن، پھر ہوم ورک کا پہاڑ اور اس کے بعد کسی "اسکل ڈویلپمنٹ” کلاس کی تیاری۔ یہ سلسلہ اتنا طویل ہوتا ہے کہ بچوں کو سانس لینے کی فرصت نہیں ملتی۔ نصاب کا غیر ضروری بوجھ، امتحانوں کا مسلسل دباؤ، اور نمبروں کی دوڑ نے بچوں کی زندگی سے کھیل اور تفریح کو خارج کر دیا ہے۔
ہم بھول گئے ہیں کہ بچے صرف کتابی کیڑے نہیں ہوتے۔ انہیں ذہنی سکون، جسمانی سرگرمی اور جذباتی تعلق کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ان کی معصوم شرارتیں، جو ان کے بچپن کا حسن ہیں، دبا دی جائیں تو وہ یا تو باغی ہو جاتے ہیں یا پھر اندر ہی اندر گھٹ کر ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں وہ وقت نہیں ملتا جہاں وہ صرف بچے ہوں، جہاں وہ اپنی مرضی کے مالک ہوں اور جہاں ان کی معصوم ہنسی گونجے۔
ایک منصفانہ جائزہ کی ضرورت
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔ تعلیم ضروری ہے، لیکن صرف ڈگریوں کا حصول یا نمبروں کی دوڑ زندگی نہیں ہے۔ ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود، تخلیقی سرگرمیاں، اور آزادانہ سوچ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ہمیں بچوں کو وہ ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں وہ کھل کر جئیں، ہنسیں، کھیلیں اور سیکھیں۔ انہیں تعلیم کا بوجھ نہیں، بلکہ ایک روشن مستقبل کا راستہ دکھانا چاہیے جہاں ان کی معصومیت اور شرارتیں بھی محفوظ رہیں۔ بصورت دیگر، ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو کامیاب تو ہوگی، لیکن بچپن کی خوشیوں اور مسرتوں سے محروم ہوگی۔

معصوم بچّے: بچپن سے محروم
_________________________
بچپن سے محرومی اور ذہنی پریشانیاں
آج کا دور، جہاں ہمیں بظاہر ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں، وہیں ایک سنگین مسئلہ بھی تیزی سے سر اٹھا رہا ہے: معصوم بچّوں کا ذہنی پریشانیوں کا شکار ہونا اور ان سے ان کا بچپن چھین لیا جانا۔ یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ جس عمر میں انہیں بے فکری سے کھیلنا، کودنا اور اپنی معصوم شرارتوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے، اسی عمر میں وہ ذہنی دباؤ اور بے جا پابندیوں کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں۔
گھر کا ماحول: آداب کی زنجیریں
جب ایک ننھا بچّہ گھر میں قدم رکھتا ہے، تو اسے فوراً "آداب” سکھانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ "ایسے بیٹھو، ویسے بولو، یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، شور مت مچاؤ، اپنی چیزیں ٹھیک رکھو۔” یہ ہدایات، جو بظاہر درست لگتی ہیں، رفتہ رفتہ بچّے کی فطری آزادی کو چھین لیتی ہیں۔ ان کی معصوم شرارتیں، جو ان کے بچپن کا حصہ ہوتی ہیں، ناپسندیدہ قرار دی جاتی ہیں۔ جب ہر قدم پر انہیں روکا جائے، ان کی تجسس کو دبایا جائے اور ان کی فطری حرکات کو "بدتمیزی” کا نام دیا جائے، تو بچّہ اپنے اندر ایک گھٹن محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کیسا برتاؤ کرے تاکہ سب خوش رہیں۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتا اور رفتہ رفتہ ذہنی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسکول کا میدان: تعلیم کا بوجھ
گھر سے نکل کر جب بچّہ اسکول جاتا ہے، تو وہاں بھی اسے سکون نہیں ملتا۔ اسکول کا مقصد بظاہر تعلیم دینا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اکثر تعلیم کے نام پر ذہنی پریشانیوں کا ایک نیا باب کھول دیتا ہے۔ نصاب کا غیر معمولی بوجھ، بے شمار مضامین، مسلسل امتحانات اور اچھے نمبر لانے کا دباؤ بچّوں پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ انہیں رٹّا لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ انہیں سوچنے، سمجھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا موقع دیا جائے۔
اسکول میں کھیل کے میدانوں کی کمی، جسمانی سرگرمیوں کو کم ترجیح دینا اور ہر وقت صرف پڑھائی پر زور دینا، بچّوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ وہ گھنٹوں کلاس رومز میں بند رہتے ہیں، اور جب گھر آتے ہیں تو ہوم ورک کا ایک اور پہاڑ ان کا منتظر ہوتا ہے۔ اس مسلسل دباؤ کے نتیجے میں، بچّے چڑچڑے، ضدّی اور بعض اوقات ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا ہنستا کھیلتا بچپن، جو فطرت کا ایک حسین تحفہ ہے، تعلیم کے اس بے جا بوجھ تلے کہیں دب کر رہ جاتا ہے۔
چھینتا بچپن اور اس کے اثرات
یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ ہم نے اپنے بچّوں سے ان کا معصوم بچپن چھین لیا ہے۔ وہ وقت جب انہیں صرف کھیلنا، ہنسنا، اور ننھی شرارتیں کرنا چاہیے تھا، اس وقت کو ہم نے آداب اور تعلیم کے غیر ضروری بوجھ سے بھر دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کے بچّے صحت مند ذہنی نشوونما سے محروم ہو رہے ہیں۔ ان میں اضطراب، خوف اور خود اعتمادی کی کمی بڑھ رہی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ بچّوں کی بہترین تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہے۔ ان کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما اتنی ہی اہم ہے۔ انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع دیں، ان کی معصوم شرارتوں کو سراہا جائے، اور تعلیم کو ایک خوشگوار تجربہ بنایا جائے، نہ کہ ایک بوجھ۔ اگر ہم آج یہ تبدیلی نہیں لائے، تو ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہوں گے جو کامیاب تو ہو گی، مگر بچپن کی خوشیوں سے محروم اور ذہنی طور پر غیر مطمئن۔
کیا آپ کے خیال میں، بچّوں کو اس صورتحال سے نکالنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو کس قسم کے عملی اقدامات کرنے چاہیئں؟

اسلام میں بچوں سے شفقت کا حکم
اسلام میں بچوں سے شفقت اور مہربانی کا بہت زیادہ حکم دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک اچھی عادت ہی نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے جس پر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زور دیا ہے۔ یہاں چند اہم نکات اردو میں پیش کیے گئے ہیں:
قرآن و حدیث کی روشنی میں:
* رحمت و شفقت: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خود کو "الرحمن الرحیم” یعنی نہایت مہربان اور رحم کرنے والا کہا ہے۔ اسی طرح، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو "رحمت اللعالمین” (تمام جہانوں کے لیے رحمت) قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں بھی انہی صفات کو اپنانے کا حکم ہے، اور بچوں سے شفقت اسی کا ایک حصہ ہے۔
* نبی کریم ﷺ کا اسوۂ حسنہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں سے محبت اور شفقت کی بے مثال مثالیں قائم کیں۔ آپ بچوں کو گود میں لیتے، ان سے کھیلتے، انہیں پیار کرتے، اور ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے تھے۔
* ایک مشہور حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے۔” (ترمذی)
* آپ ﷺ نے ایک بچے کو روتے دیکھا تو اس کی ماں کو تسلی دی اور بچے کو چپ کرایا۔
* سجدے کی حالت میں جب بچے آپ ﷺ کی پشت پر بیٹھ جاتے تو آپ ﷺ سجدہ لمبا کر دیتے تاکہ بچوں کو تکلیف نہ ہو۔
* آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بچوں پر رحم کرو اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔” (ابوداؤد)
* جنت میں مقام: بچوں سے حسن سلوک اور ان کی تربیت کرنے والوں کے لیے جنت میں بڑے درجات کا وعدہ کیا گیا ہے۔
شفقت کے عملی پہلو:
* پیار و محبت: بچوں کو گلے لگانا، چومنا، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور انہیں یہ احساس دلانا کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔
* حسن سلوک: ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، انہیں اچھی تعلیم و تربیت دینا، ان کے ساتھ نرمی سے بات کرنا اور انہیں ڈانٹنے ڈپٹنے سے گریز کرنا۔
* عدل و انصاف: بچوں کے درمیان انصاف کرنا اور کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دینا، چاہے وہ اپنی اولاد ہو یا یتیم بچے۔
* حوصلہ افزائی: ان کے اچھے کاموں پر ان کی تعریف کرنا اور انہیں مزید بہتر کرنے کی ترغیب دینا۔
* ** کھیل کود:** ان کے ساتھ کھیلنا اور ان کے معصوم دل کو خوش کرنا بھی شفقت کا حصہ ہے۔
بچوں کی تربیت کا حصہ:
بچوں سے شفقت کا مطلب صرف لاڈ پیار نہیں بلکہ ان کی صحیح اسلامی تربیت کرنا بھی ہے۔ انہیں اخلاقی اقدار سکھانا، نماز، روزہ، اور دیگر اسلامی احکامات کی طرف راغب کرنا بھی شفقت کا ایک اہم جزو ہے۔
اگر آپ بچوں کی تربیت یا اسلامی احکامات سے متعلق مزید کچھ جاننا چاہتے ہیں تو پوچھ سکتے ہیں۔

بچوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک
_______________________________________
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بچوں کے ساتھ سلوک محبت، شفقت اور احترام کی بے مثال مثال تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ نہایت نرمی اور پیار سے پیش آتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کے ساتھ برتاؤ کئی پہلوؤں پر مشتمل تھا:
* پیار اور اپنائیت: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے کھلے عام محبت کا اظہار کرتے تھے۔ انہیں گلے لگاتے، بوسہ دیتے، سر پر ہاتھ پھیرتے اور اپنی گود میں اٹھا لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہنسانے کے لیے مزے دار چہرے بھی بناتے اور ان کے ساتھ کھیلتے بھی تھے۔
* نرمی اور صبر: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ انتہائی صبر اور نرمی سے پیش آتے تھے، چاہے وہ غلطیاں ہی کیوں نہ کریں۔ سخت ڈانٹنے کے بجائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نرمی سے سمجھاتے اور صحیح طریقہ بتاتے۔ مثال کے طور پر، جب ایک بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض پانی منگوا کر اسے صاف کر لیا، کوئی ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔
* احترام اور وقار: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو عزت دیتے تھے، ان کی موجودگی کو تسلیم کرتے اور ان کی بات سنتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سلام کرتے، ان کا حال پوچھتے اور انہیں کبھی شرمندہ نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو بھی بچوں کی قدر کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی تلقین کی۔
* شمولیت اور کھیل کود: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ سرگرمی سے شامل ہوتے تھے، ان کے ساتھ کھیلتے اور حتیٰ کہ اگر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز کو بھی مختصر کر دیتے تاکہ ماں کو پریشانی نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو اپنے اونٹ پر سواری کراتے اور ان کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے انہیں سادہ کاموں میں شامل کرتے۔
* انصاف اور مساوات: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، چاہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بچے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوتے پوتی ہوں یا صحابہ کرام کے بچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کو نصیحت کی کہ وہ تحفوں یا مہربانی کے معاملے میں اپنے بچوں کے درمیان فرق نہ کریں۔
* تعلیم اور رہنمائی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو اخلاقی اقدار جیسے کہ ایمانداری، مہربانی اور احترام سکھانے کے لیے نرم طریقے استعمال کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک محبت بھرے اور معاون ماحول میں سیکھنے اور پروان چڑھنے کی ترغیب دی۔
* یتیموں کی دیکھ بھال: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کی دیکھ بھال اور حفاظت کی سختی سے وکالت کی، ان کی ضروریات کو پورا کرنے اور ان کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کی فضیلت پر زور دیا۔
خلاصہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ثابت کیا کہ بچوں کو محبت، صبر اور احترام سے پروان چڑھانا چاہیے، تاکہ ان کا اعتماد اور فلاح و بہبود پروان چڑھ سکے۔ بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاؤ تمام والدین اور نگہداشت کرنے والوں کے لیے ایک لازوال مثال ہے۔

Comments are closed.