اچھے اعمال جن کاہمیں اہتمام کرناچاہئے

(پیغام جمعہ)

 

مفتی احمد نادر القاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

 

اسلام کے اخلاقی نظام پراستوار ایک مسلم معاشرے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہےکہ اس کے اندرانسانیت کے ساتھ ہمدردی کےجذبات پائےجاتےہوں۔اپنی ذات کےساتھ دوسرے کے آرام اوربھلائی کی فکربھی ہو اورعملااس کااظہاربھی۔چنانچہ ایک حدیث میں ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاگیاکہ کونسے اعمال اچھے ۔عمدہ اورافضل ہیں تو آپ ص۔نے ترتیب سے سوال کاجواب عنایت فرمایا۔حدیث کے راوی حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ ہیں:*وہ کہتےہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ کون ساعمل افضل ہے؟ توآپ ص نےسب سے پہلے فرمایاایمان باللہ۔اوراس کے راستے میں جہادکرنا۔پھرمیں نےپوچھاکون ساغلام آزادکرناافضل ہے۔{یہ اس زمانے کے اعتبارسے ہے۔آج کے زمانے میں بےقصوراورمظلومانہ طریقے پرقیدکی سزاکاٹ رہےافراد کی مددکورکھاجاسکتاہے۔اگرچہ دونوں میں فرق ہے۔مگرانسانی مددکی حیثیت سے مماثلت ہے}۔اس کےجواب آقاعلیہ السلام نے فرمایاکہ جس غلام کی قیمت زیادہ ہو۔اوروہ اپنے مالک کاپسندیدہ ہو۔پھرمیں نے دریافت کیا اگرمیں ایسانہ کرسکوں توآپ ص نے ارشادفرمایا کسی مفلس۔ضرورت مند اورفاقہ کش کی مددکرنا۔یاکسی بےہنر اناڑی۔بےروزگارکوکوئی ہنرسکھادینا۔پھرمیں نے دریافت کیااگریہ بھی نہ کرسکوں تو؟ ۔توآپ ص۔نے ارشادفرمایاکہ تم اپنے شرسے لوگوں کومحفوظ رکھو۔ایساکروگے توتم اپنی ذات پر صدقہ کرنےوالے قرارپاؤگے*۔[بخاری کتاب العتق باب ای الرقاب افضل ۔حدیث نمبر 2518](اے میرے رب میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں)۔

اس حدیث شریف میں کتنااہم پیغام ہے۔سوشل ورک کی کتنی اہمیت آقانے فرمائی کہ کسی بےروزگارکوکوئی ہنرسکھانا۔یااسکے گزراوقات کی تدبیربتانا یہ افضل اعمال میں سے ہے۔ہمیں چاہئےکہ اپنے عزیزواقارب اورپاس پڑوس میں بےروزگارپھرنےوالے بچوں کوروزی سےلگانےکی فکرکریں۔تاکہ وہ دوسروں کےسامنے دست سوال درازکرکے ذلیل ورسوانہ ہو۔ یہ بڑاعظیم کام ہے۔ جسےلوگ یاتومعیوب سمجھتےہیں یاغیرضروری سمجھ کراس سے غافل رہتےہیں۔۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطافرمائے آمین۔

ہراچھی بات کوآگے بڑھاناصدقہ ہے۔اس کابھی اہتمام کریں۔

Comments are closed.