تذکرۂ اسلافِ بارہ بنکی: ایک مختصر جائزہ
نام کتاب: تذکرۂ اسلافِ بارہ بنکی
مؤلف: فرحان بارہ بنکوی
ناشر: فرحان بارہ بنکوی
سن اشاعت: 2024
صفحات: 320
قیمت: 450 روپئے
رابطہ: 9935499983

مبصرہ: نکہت انجم ناظم الدین
(ریسرچ اسکالر، کوییتری بہنا بائی چودھری شمالی مہاراشٹر یونیورسٹی، جل گاؤں مہاراشٹر)
’’تذکرۂ اسلافِ بارہ بنکی‘‘ فرحان بارہ بنکوی کی پہلی ادبی تخلیق ہے۔ مؤلف کا تعلق بارہ بنکی سے ہے۔ ان کا اصل نام محمد فرحان انصاری اور قلمی نام فرحان بارہ بنکوی ہے۔ انہوں نے ’’اتر پردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ سے منشی، عالم، کامل اور فاضل کی سند حاصل کی۔ نیز دارالعلوم دیوبند سے فضیلت کے بعد تکمیل اِفتاء کی سند حاصل کی۔ حصولِ تعلیم کے بعد ’’مدرسہ دارالرشاد بنکی، بارہ بنکی‘‘ سے تدریسی سفر کا آغاز کیا۔ ان کے تحریر کردہ مضامین و مقالے ملک کے مؤقر اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔
’’تذکرۂ اسلافِ بارہ بنکی‘‘ بارہ بنکی سے تعلق رکھنے والے صوفیا و اولیا، علما و قضاۃ، شعرا و ادبا، ملی، سماجی و سیاسی شخصیات کا تذکرہ ہے۔ ایک نوجوان ادیب نے اپنے علاقے کی علمی، ادبی اور روحانی تاریخ کو محفوظ کرنے کا جو عزم کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ان کی یہ کوشش نہ صرف ماضی کے سنہرے نقوش کو محفوظ کرنے کی کامیاب کوشش ہے؛ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے علم و ادب اور روحانی ورثے کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہ کتاب قارئین کو اہم شخصیات کے کارناموں سے روشناس کراتی ہے ساتھ ہی ان کے بلند مقام اور مرتبے کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اسی طرح سے یہ تحقیقی نقطۂ نظر سے بھی بہت اہم ہے؛ کیونکہ اس میں درست تاریخی واقعات، مستند معلومات اور حوالہ جات کو شامل کیا گیا ہے۔ عصر حاضر میں نوجوان نسل کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی عظمتوں اور ان کی خدمات کو یاد رکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معاشرے کے لیے کارآمد فرد ثابت ہوں۔

یہ کتاب مصنف کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ’’تذکرۂ اسلافِ بارہ بنکی‘‘ کی اجمالی فہرست چار حصوں پر مشتمل ہے۔ صوفیا و اولیا، علما و قضاۃ، شعرا و ادبا اور ملی، سماجی و سیاسی شخصیات۔ کتاب کے آخر میں مآخذ و مصادر دیے گئے ہیں۔ مصنف نے اپنی کتاب کا انتساب اپنے والد مولانا نور الحسن قاسمی، والدہ، اساتذۂ کرام، معاہد علمی اور کتاب کی اشاعت میں مدد کرنے والے مخلصین کے نام کیا ہے۔
اگلے صفحے پر مولانا نور الحسن قاسمی نے ’’دعائیہ کلمات‘‘ اپنے فرزند کے نام لکھے ہیں اور ان کی اس بہترین کاوش پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ’’کلمات عالیہ‘‘ میں مولانا مفتی ابوالقاسم نے فرحان بارہ بنکوی کی اس کوشش کو سراہا ہے اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ ’’تائیدی کلمات‘‘ مولانا مفتی محمد نسیم نے لکھے ہیں۔ انہوں نے مصنف کو اس تذکرہ نگاری پر مبارکباد پیش کی ہے۔ ’’کلمات بابرکت‘‘ مولانا حبیب احمد نے تحریر کیے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ: ’’اسلاف و اکابر کے حالات اور ان کے تذکرے ان سے محبت اور ان سے عقیدت کی دلیل اور ان کی صحبت کے مساوی ہیں۔ یہ روحانی سلسلے ہیں، ان کے برکات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
پروفیسر ڈاکٹر شارب ردولوی نے ’’تشجیعی کلمات‘‘ تحریر کیے ہیں۔ انہوں نے فرحان بارہ بنکوی کی کڑی محنت اور جد و جہد سے کیے گئے اس کام کو سراہا ہے اور لکھا ہے کہ:
’’مفتی محمد فرحان نے بڑی محنت، تگ و دو اور مختلف لائبریریوں میں بیٹھ کر ان معلومات کو فراہم کیا ہے اور اپنے پورے اطمینان کے بعد کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس طرح یہ ’’تذکرۂ اسلافِ بارہ بنکی‘‘ ضلع بارہ بنکی کی تہذیبی، علمی اور ادبی تاریخ میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں اس کی تدوین و اشاعت پر انھیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘
رہبر عارفی صفوی نے دلکش منظوم تأثر تحریر کیا ہے۔ جس میں کتاب میں شامل کئی شخصیات کی کارناموں کو اجاگر کیا ہے۔نظم کے آخری حصے میں شاعر نے فرحان بارہ بنکوی کی اس عمدہ کاوش کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اگلے صفحے پر مؤلف کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ ’’سخن ہائے گفتنی‘‘ کے عنوان سے فرحان بارہ بنکوی نے کتاب کی وجہ تالیف بیان کی ہے اور اس کی غرض و غایت کو واضح کیا ہے۔ حصہ اول میں ۲۵؍ صوفیائے کرام اور اولیا کا تذکرہ کیا گیا ہے، جس میں پانچویں صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری تک صوفیا اور اولیائے کرام شامل ہیں۔ جس میں سے کچھ بارہ بنکی کے رہنے والے تھے اور کچھ تلاشِ معاش میں ہجرت کرکے یہاں آئے تھے۔ ولادت، ہندوستان آمد، تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت کے ذیلی عناوین سے مؤلف نے ان کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی ہیں۔
دوسرے حصے میں علما و قضاۃ کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس حصے میں مؤلف نے نویں صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری تک اسمائے گرامی شامل کیے ہیں، جس میں ۵۵؍ علما و قضاۃ کا تذکرہ شامل کیا گیا ہے۔
تیسرا حصہ شعرا و ادبا سے متعلق ہے۔ اس حصے میں مؤلف نے ۷۲؍ شعرا و ادبا کا ذکر کیا ہے۔ اس میں تیرہویں صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری تک کے شعرا و ادبا کے نام شامل ہیں۔ نام و نسب، ولادت، سکونت، شعر و شاعری، شعری اساتذہ اور تلامذہ وغیرہ ذیلی عناوین سے قادر الکلام شعرا و ادبا کی معلومات کو محفوظ کیا گیا ہے۔
چوتھے حصے میں ملی، سماجی و سیاسی شخصیات کی کارکردگی اور قابل ذکر کارناموں کا مختصراً ذکر آیا ہے۔ اس فہرست میں ۱۷؍ عظیم شخصیات کے نام شامل کیے گئے ہیں اور ان کے کارناموں سے قارئین کو متعارف کرایا گیا ہے۔ اس حصے میں چودہویں صدی ہجری اور پندرہویں صدی ہجری کی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ اپنے اسلاف کی تاریخ اور ان کے کارناموں کو محفوظ کرنا اور مستند معلومات اور حوالہ جات کے ساتھ قارئین کی نظر کرنا بلاشبہ محنت اور عرق ریزی کا کام ہے۔ میں ’’تذکرۂ اسلافِ بارہ بنکی‘‘ کی اشاعت پر فرحان بارہ بنکوی کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ ان کا یہ تخلیقی سفر یونہی جوش و جذبے اور توانائیوں کے ساتھ اگلے مراحل طے کرے گا۔ اللہ سے دعا گو ہوں کہ فرحان بارہ بنکوی اسی طرح دینی و علمی خدمات انجام دیتے رہیں اور ان کا قلم صدا رواں دواں رہے۔ آمین
Comments are closed.