عدل کا تقاضا: جھوٹے مقدمات بنانے والوں کو عمر قید کی سزا دی جائے، اور مظلوم سے باقاعدہ معافی مانگی جائے

 

پریس ریلیز:پھلواری شریف ۲۵؍جولائی ۲۰۲۵

امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کےقائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ امارت شرعیہ کو اس امر پر شدید تشویش ہے کہ ملک میں بڑی تعداد میں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردی، بغاوت یا دیگر سنگین الزامات میں گرفتار کرلیا جاتا ہے، جبکہ بعد میں برسوں جیل کاٹنے کے بعد عدالت انہیں بے گناہ قرار دیتی ہے، یہ نہ صرف انصاف کا قتل ہے بلکہ ایک فرد، اس کے خاندان، اس کے کیریئر، اس کے خواب اور اس کی ساکھ کی مکمل بربادی ہے، جیساکہ ایک اہم فیصلے میں،بمبئی ہائی کورٹ نے پیر 21 جولائی کو 2006 میں ممبئی ٹرین دھماکوں کے لیے قصوروار ٹھہرائے گئے تمام 12 افراد کو، یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ’’بالکل ناکام‘‘ رہا۔

 

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت آرٹیکل 21 (زندگی اور شخصی آزادی کا حق) اور آرٹیکل 14 (مساوات کے اصول کے تحت جرم و سزا کی برابری) اور ریاست کی اخلاقی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر ایک جامع، بااختیار اور مؤثر قانون بنائے جس کے تحت مندرجہ ذیل نکات کو شامل کیا جائے:

 

کیا ایک بے گناہ شخص کو برسوں تک جیل میں رکھ کر اس کی زندگی، ذہن، احساسات اور خوابوں کو کچل دینے کے بعد صرف "بے قصور قرار دیا گیا” کہنا کافی ہے؟ کیا وہ نفسیاتی صدمہ، جو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر دن سہنا پڑا، اس کی کوئی قیمت نہیں؟ ایک ایسا انسان جو معاشرے، خاندان، دوستوں حتیٰ کہ خود اپنی نظر میں بھی مشکوک بن گیا، کیا اس کی ذہنی اذیت، بے بسی، اور مسلسل کرب کا کوئی اعتراف نہیں ہوگا؟ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت نہ صرف ان افراد کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا باقاعدہ جائزہ لے، اور ان کے صدمے کا مؤثر مالی اور اخلاقی ازالہ بھی کرے۔

 

کیا یہ انصاف ہے کہ ایک وہ شخص جو اعلیٰ تعلیم یافتہ یا غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل شخص بن سکتا تھا، جو کسی سرکاری عہدے یا نمایاں پیشہ ورانہ مقام پر پہنچ سکتا تھا، صرف جھوٹے الزام کی بنیاد پر اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل میں گزار دے اور رہائی کے بعد اسے صفر سے شروعات کرنی پڑے؟ کیا اس کی قابلیت، خواب اور معاشرے میں ممکنہ کردار کی تلافی نہیں ہونی چاہیے؟ کیوں نہ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والے افسران کی تنخواہوں یا محکموں کے بجٹ سے معاوضہ کی رقم کاٹ کر ان بے گناہوں کو دی جائے، تاکہ یہ واضح پیغام جائے کہ کسی کی زندگی برباد کرنے کی قیمت ضرور چکانی پڑے گی؟

 

جو قانونی فیس، سفر، آمدنی کا نقصان اور دیگر مصارف متاثرہ خاندان نے برداشت کیے، ان سب کا تفصیلی حساب لگا کر فوری طور پر معاوضہ دیا جائے۔

 

حکومت ہر مہینے ان افراد کے نام، تصویر اور عدالتی فیصلے کے ساتھ ایک اشتہار تمام قومی و علاقائی اخبارات و سوشل میڈیا پر دے کہ فلاں شخص بے گناہ ثابت ہوچکا ہے اور ریاستی سطح پر متاثرہ فرد سے باقاعدہ تحریری اور عوامی معافی مانگی جائے، تاکہ اس کی عزتِ نفس بحال ہو اور ریاست کی اخلاقی ذمہ داری پوری ہو۔

 

جن افسران، سیاسی افراد یا ایجنسیوں نے جان بوجھ کر جھوٹے ثبوت تیار کیے یا بے بنیاد الزام لگاکر گرفتار کیا یا کروایا، ان کو کم از کم عمر قید کی سزا دی جائے، تاکہ ان کے جرم کا تدارک ہو اور دوسروں کے لیے عبرت ہو؛ یا پھر ایک رکن پارلیمنٹ کو اگر کسی نے جھوٹے الزام میں گرفتار کر لیا تو اس گرفتار کرنے والے کو کیا سزا ملنی چاہئے، وہی سزا اس بے گناہ کی زندگی برباد کرنے والے کو بھی دی جائے۔

 

ایسے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ برسوں تک لوگ جیلوں میں نہ سڑتے رہیں۔ ہر مقدمے کی سماعت کی ایک میعاد مقرر ہو۔

 

ہر ریاست میں ایسے افراد کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے جنہیں عدالت نے بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے لیے الگ سے ایک بحالی بورڈ تشکیل دیا جائے اور حکومت ایسے افراد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق سرکاری اداروں میں باوقار ملازمت دے، تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو اور وہ سماج کے لیے مفید ثابت ہوں۔

 

امارت شرعیہ حکومت سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ اس ظالمانہ روش کا سد باب کرنے کے لیے فوری طور پر پارلیمنٹ میں ایک مضبوط قانون پیش کیا جائے، اور جو افراد بے گناہی کے باوجود برسوں جیل میں سڑتے رہے، ان کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے۔

Comments are closed.