عدم تحفظ کی شکار حکومت کا عوامی تحفظ قانون
ڈاکٹر سلیم خان
حکومتِ مہاراشٹر اچھی طرح جانتی ہے کہ اس نے انتخابی نظام پر ڈاکہ ڈال کر یہ غیر معمولی اکثریت حاصل کی ہے اور اگر اگلی بار اس کا موقع نہیں ملا تو وہ اقتدار سے بے دخل ہو جائے گی ۔ ایسے میں چاہتی ہے کہ موقع غنیمت جان کر ان تمام آوازوں کو کچل دیا جائے جو اس کی کمیوں اور کوتاہیوں کو اجاگر کرسکتی ہیں ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر مہاراشٹرسرکار نے ابھی حال میں اسمبلی کے اندر متنازعہ "عوامی تحفظ بل” کو منظوری دے دی۔ حکومت نے اس نئے قانون کا مقصدشہروں میں سرگرم نکسل وادی سرگرمیوں پر قابو پانا بتایا۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کے مطابق اگرچہ ودربھ کے کئی اضلاع میں نکسل واد تقریباً ختم ہو چکا ہے، لیکن نکسل نظریات رکھنے والے لوگ شہری علاقوں میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ان "شہری نکسلیوں” سے نمٹنے کے لیے سخت قانون کی ضرورت تھی جسے بناکر نافذ کیا جارہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نکسل واد کوچیلنج ہے یا ’کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ‘ والا کھیل چل رہا ہے؟
وزیر اعلیٰ نے نظریاتی بنیاد پر کی جانے سرگرمیوں پر لگام کسنے کی بات کی بات تو کردی مگر وہ نہیں جانتے کہ عدالتِ عظمیٰ کے مطابق نظریات کے سبب لوگوں کو گرفتار کرنا درست نہیں ہے۔ یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں بلکہ ابھی 22 مئی (2025) کو سپریم کورٹ نے واضح انداز میں کہہ دیا کہ ’’کسی کو محض اس کے نظریے کی بنیاد پر جیل میں نہیں ڈالا جاسکتا‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ تبصرہ عبدالستا ر نامی مسلمان ملزم کے بارے میں ہے جو ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیاکی کیرالا اکائی کا سابق سیکریٹری جنرل تھا ۔ اس پر2022ء میں پالککاڈ کے اندر آرایس ایس کارکن سری نواسن کے قتل کا الزام ہے۔ یعنی ایک ایسا ملزم جس پر آر ایس ایس کے کارکن کو قتل کرنے کا الزام ہو نیز اس کا تعلق ممنوعہ تنظیم سے رہا ہو تب بھی وہ ضمانت کا حقدار ہے ۔ایسے میں اگر مہاراشٹرکے اندر اس نئے عوامی تحفظ قانون کے تحت اگر عبدالستا کی گرفتاری ہوتی تو کیا سپریم کورٹ ضمانت نہیں دیتا؟ جبکہ جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس اجل بھویان کی بینچ نے اس بابت کیرالا ہائی کورٹ کے ذریعہ ضمانت سے انکار کو یہ کہہ کرخارج کردیاکہ آپ کسی کو صرف اس کے نظریے کی بنیاد پر جیل میں نہیں ڈال سکتے۔
مذکورہ بالا مقدمے کی سماعت کے دوران این آئی اے کے وکیل نے بھی مہاراشٹر کی ڈبل انجن کے وزیر اعلیٰ کی ذہنی عکاسی کردی ۔اس نے کورٹ میں یہ تسلیم کیا اگرچہ عبدالستار کا نام سری نواسن کے قتل کی بنیادی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا، لیکن اس پر پی ایف آئی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کارکنوں کو بھرتی کرکے اسلحہ کی تربیت دینے کا الزام ہے نیزاس کے خلاف دفعہ 353 (سرکاری ملازم پر حملہ) کے تحت 7 اور دفعہ 153 (فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے) کے تحت 3 مقدمات درج ہیں ۔اس کے جواب میں عبدالستار کے وکیل نے دلیل دی کہ وہ ہڑتالوں کا معاملہ تھا اور ان میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ اس پراین آئی اے کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ مزید جرائم کو روکنے کیلئےحراست ہی واحد راستہ ہے اور یہ کہ بنیادی نظریہ خود سنگین مجرمانہ اعمال کے لیے ابھارتا ہے۔ اسے جیل میں رکھنا چاہیے تاکہ وہ مزید جرائم نہ کر سکے۔ یہی دلیل تو وزیر اعلیٰ فڈنویس پیش کرتے ہیں مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس بابت سہریم کورٹ کی کیا رائے ہے؟
مذکورہ بالا احمقانہ دلیل کے جواب میں عدالت نے کہا کہ احتجاج ایک شہری حق ہے، اور نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر کسی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ملزم کا قتل میں کوئی براہ راست رول نہیں ہے، تو محض نظریہ یا احتجاج میں شرکت اسے جیل میں رکھنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ لہٰذا، عدالت نے عبدالستار کو ضمانت دے دی ۔ سپریم کورٹ کی بینچ نے این آئی کے وکیل سے کہا کہ ’’ ہمیں وہ رجحان نظر آ رہا ہےکہ صرف ایک خاص نظریہ اپنانے کے سبب انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔‘‘ یہاں جس پر تنقید کی گئی وہی تورجحان تو عوامی تحفظ قانون کی روح ہے۔ اس معاملے میں ہونے والی بحث نے حکومت کی ذہنیت اور ارادوں کو بے نقاب کردیا ہے۔وزیر اعلیٰ ببانگ دہل اسی منطق کا سہارا لے رہے ہیں کہ جس کے جواب میں جسٹس اوکا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہی تو مسئلہ ہے۔ آپ اس شخص کو جیل میں ہی رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ جسٹس بھویان نے واضح کیا کہ مقدمے سے پہلے حراست کو سزا کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔سپریم کورٹ کے مطابق چونکہ عبدالستار کا سری نواسن کے قتل سے براہ راست کوئی واسطہ نہیں ہےاور ان پر پرانے معاملات احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق ہیں اس لیے وہ ضمانت کے حقدار ہیں نیز یحییٰ کویا تھنگل اور عبدالروف سی اے کو بھی اس لیےضمانت دے دی کیونکہ مستقبل قریب میں مقدمہ ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ پہلے بھی تاخیر کے سبب صدام حسین ایم کے، اشرف اور نوشاد ایم کو ضمانت دی گئی تھی۔
عدالت عظمیٰ کا مذکورہ بالا رویہ اس گناہ کا کفارہ ہے جس کی جانب ملک کے چیف جسٹس بی آر گوئی نےاس ماہ کے اوائل میں اشارہ کیا تھا ۔ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھاکہ حال کےدنوں میں ‘ضمانت قانون ہے اور جیل استثنیٰ’ کے اصول کو فراموش کر دیا گیا ہے۔سی جے آئی گوئی نےاعتراف کیا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران عدالتی فیصلوں میں اس معیار کو شامل کرنے کے باوجود حالیہ برسوں میں اسےنیک نیتی سے لاگو نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے خود مختلف مقدمات میں ضمانت دےکر ہائی کورٹس اور نچلی عدالتوں کے لیے اسی اصول پر عمل کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔جسٹس گوئی نے اپنی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہاکہ انہیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ گزشتہ سال، 2024 میں، پربیر پرکایستھ، منیش سسودیا اور کویتا بنام ای ڈی کے معاملات میں انہوں نے اس قانونی اصول کو دہرایا ۔ یہ سارے تو سیاسی لوگ تھے مگر حقوق انسانی کے معاملات میں پھنسائے جانے والےعمر خالد، شرجیل امام، سنجیو بھٹ اور یلغار پریشد کے ملزمین کا نام بھی اگر اس فہرست میں شامل ہوتا تو شاید ان کا چیف جسٹس بننا مشکل ہوجاتا۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اپنے مختلف فیصلوں میں ہائی کورٹس اور نچلی عدالتوں سے ضمانت دینے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ضمانت کا معاملہ بنتا ہے تو سنگین جرائم میں بھی راحت دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ عدلیہ کا رجحان تو بے قصور لوگوں بیجا حراست میں رکھنے کے بجائےرہاکرنے کا ہے مگر اس کے برعکس مقننہ اپنے سیاسی مفادات کے پیش نظر بالکل مخالف سمت میں رواں دواں ہے۔ عوامی تحفظ بل کے تحت کسی بھی ایسی سرگرمی کو، جو ریاست میں امن و امان کو بگاڑنے یا قائم شدہ اداروں اور ان کے اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بنے، غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو دو سے سات سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یعنی انتظامیہ الزام لگا دے گا اور خود کو بے قصور ثابت کرتے کرتے ۷؍ سال گزر جائیں گے۔ مجوزہ قانون میں چونکہ غیرقانونی سرگرمی کی تعریف یہ کی گئی کہ کسی تنظیم یا فرد کا ایسا عمل، تقریر یا تحریر جو امن عامہ میں خلل ڈالنے کا خدشہ پیدا کرے تو وہ قابلِ گردن زدنی ہوگا۔ یہاں تنظیم کے ساتھ فرد کو بھی نہیں بخشا گیا نیز کسی واردات میں ملوث ہونا تو دور امن عامہ کے لیے واقعی خطرہ نہیں بلکہ خدشے کی صورت میں محض تقریر یا تحریر کا الزام ہی حراست میں لینے کے لیے کافی ہوجائےگا۔
مہاراشٹر کے اندر حزب اختلاف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قانون جمہوری حقوق پر قدغن لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہےکیونکہ اس قانون کے کئی دفعات مبہم اور غیر واضح ہیں اور اس کے لپیٹے میں حکومت کے سیاسی مخالفین، سماجی کارکنوں، اور احتجاج کرنے والوں کو بہ آسانی پھنسایا جاسکتا ہے۔کئی رہنماوں اور دانشوروں نے سوال کیا کہ مکوکا (MCOCA) اور یو اے پی اے (UAPA) جیسے سخت قوانین کی موجودگی میں اس نئے قانون کی ضرورت ہی کیا ہے؟چور کی داڑھی میں تنکہ کی مصداق وزیراعلیٰ فڈنویس نے یہ یقین دلایا ہے کہ اس قانون کا مقصد سیاسی کارکنوں یا احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنانا نہیں ہےمگر ان کا اصلی چہرا تو یلغار پریشد کے معاملے میں سامنے آچکا ہے۔ اس وقت چونکہ کوئی قانون نہیں تھا اس لیے ایس آئی ٹی اور این آئی اے وغیرہ کی مدد لینی پڑی لیکن اب وہ اپنے جورو ظلم کو قانون کی آڑ میں جاری و ساری رکھنا چاہتے ہیں ۔ انہیں کی قیادت میں ریاستی حکومت نے پونے فساد کے مجرم ملند ایکبوٹے اور سمبھا جی بھِڑےکو بچانے کی خاطر ‘اربن نکسل ازم’ کے نام پر اپنے نظریاتی مخالفین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونس دیا تھا۔ سنگھ پریوار کے اندر فکری سطح پر مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے اس لیے اقتدار کا استعمال کرکے بزورِ قوت غنڈہ گردی کرتا ہے۔
)۰۰۰۰جاری)
Comments are closed.