غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت وقت کی اہم ضرورت
انوار الحق قاسمی
نیپال
خدائے ذوالجلال نے مذہب اسلام کے تمام شیدائیوں کو ایک لڑی میں پروتے ہوئے ان کے مابین باہمی الفت ومحبت اور مودت و رافت کے لیے اخوت و بھائی چارے جیسے عظیم اور بلند تر رشتے کو ہمیشگی کےلیے قائم کر دیا ہے،تاکہ دنیا کا کوئی بھی مسلمان اس ناسوتی دنیا میں خود کو تنہا اور بے سہارا خیال نہ کرے۔ مگر افسوس کہ جہاں ایک جانب دنیا کے ہر مسلمان اور مومن کا کنیکشن اور کنیکٹنگ ایک دوسرے سے نہایت ہی مضبوطی کے ساتھ مربوط ہے،تو وہیں دوسری طرف غزہ کے مسلمان ،دنیا کے ان گنت اور لا تعداد مسلمانوں کے جسموں میں ایمانی روحوں کے بر قرار رہتےہوئے بھی مٹھی بھر یہودیوں کے ظلم و ستم کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور آئے دن بھوک مری سے سیکڑوں لوگ راہی ملک عدم ہورہے ہیں اور حیرت ہے کہ دنیا بھر کے لا تعداد مسلمان بس تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
کیا ایسی صورت حال میں بھی مسلمانوں کی غیرت اور ان کا ضمیر غزہ کے بے بس اور مظلوم مسلمانوں کی حمایت و نصرت کےلیے زندہ ہونے کو تیار نہیں ہے؟
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب- مدظلہ العالی- نے غزہ کے مظلوموں کی نصرت و مدد کی بابت تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ ‘ ساری نفلی عبادتوں سے افضل عبادت غزہ کے مسلمانوں کی امداد ہے۔ حضرت درد بھرے لہجے میں مزید یہ کہتے ہیں کہ میرا دل تو یہ کہتاہے کہ جو حضرات نفلی عمرے کرنے جارہے ہیں ،تو اگر وہ اتنی رقم جو عمرے میں خرچ کردیتے،وہ اگر ان کی مدد پر صرف کردے ،تو- ان شاءاللہ – عمرے سے زیادہ ثواب ملے گا’۔
میں یعنی راقم تو کہتاہے کہ جس طرح ایک انسان کو اگر کوئی ضرر رساں بیماری لاحق ہو جاتی ہے، تو وہ پھر اس بیماری سے چھٹکارے اور خلاصی کےلیے اپنا سب کچھ بشاشت قلبی کے ساتھ صرف اور خرچ کردینے کےلیے تیار رہتاہے اور ضرورت پڑنے پر خرچ بھی کرتاہے؛کیوں کہ سوال اس کے ہاں زندگی کے بقا کا ہوتاہے، بعینہ اسی کے جیسا ہمارا بھی جذبہ ہونا چاہیے غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ ، کہ ہم غزہ کے مسلمانوں کی زندگی کے بقا کےلیے ان کی نصرت و امداد کےلیے اپنا قیمتی اور عزیز سرمایہ تک ان پر نچھاور کردینے کو تیار رہیں ؛تاکہ قیامت کے روز ہمیں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ مسلمانو!اگر ہم نے غزہ کے مسلمانوں کے تئیں زندہ دلی کا ثبوت نہیں دیا؛بل کہ مردہ ضمیری پر ہی ڈٹے رہیں،تو پھر ہم کل قیامت کے دن خدا کے یہاں کیا جواب دیں گے؟ تو ہم ان کی نصرت انسانی غیرت اور ایمانی حمیت کی بناء نہیں کرسکتے،تو کم ازکم خدائی مواخذہ کے خوف سے بھی تو کردیں!
Comments are closed.