غزہ آج کا کربلا ہے

 

حسن مدنی ندوی (ریسرچ اسکالر)

 

آج جب انسانیت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے لینن و ہٹلر سے زیادہ ظلم و سفاکیت و بربریت کا کھیل اہل غزہ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، غزہ کی سرزمین سے اٹھنے والی چیخیں ہر باضمیر انسان کو کربلا کے اس لازوال المیے کی یاد دلاتی ہیں جو صدیوں پہلے رونما ہوا تھا۔ یہ محض ایک تشبیہ نہیں بلکہ تاریخ کے جبر اور حق و باطل کی ازلی کشمکش کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں کربلا کے ہر کردار کا عکس غزہ میں نظر آتا ہے۔ جہاں ہر محاذ پر حق کی آواز گونج رہی ہے اور جہاں عالم اسلام کی شرمناک خاموشی بھی ایک دردناک حقیقت بن چکی ہے۔

 

غزہ، ایک چھوٹی سی پٹی جو سمندر کے کنارے واقع ہے، آج دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بن چکی ہے۔ 2.3 ملین سے زائد فلسطینی، جن میں نصف سے زیادہ بچے ہیں، اس تنگ علاقے میں محصور ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایک غیر یقینی اور خطرے سے بھرا ہے۔ عرب اسرائیل جنگ 1948ء (نکبہ) سے لے کر آج تک، فلسطینیوں کو اپنی سرزمین، اپنے گھروں اور اپنے وجود کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ غزہ کی موجودہ صورتحال اس طویل مظالم کا تسلسل ہے جہاں اسرائیل نے 2007ء سے مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس ناکہ بندی نے غزہ کو معاشی طور پر تباہ کر دیا ہے، خوراک، ادویات، ایندھن اور تعمیراتی سامان کی شدید قلت ہے۔ یونیسف (UNICEF) اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ غزہ کے لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

 

غزہ میں حملے کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ فوجی کارروائیوں نے انسانی المیے کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ہسپتالوں پر حملے، پناہ گزین کیمپوں پر بمباری، سکولوں اور مساجد کو نشانہ بنانا، یہ سب بین الاقوامی قوانین اور جنگی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزیاں ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس کے مطابق، غزہ کا صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، ڈاکٹرز اور نرسیں بھی محفوظ نہیں، اور زخمیوں کا علاج ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ہر روز سینکڑوں معصوم جانیں قربان ہو رہی ہیں۔ بچے، عورتیں، بوڑھے، سب اس ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کی شہادتیں محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہر لاش ایک سوال ہے، ہر آنسو ایک دہائی ہے جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔

 

"یہاں ہر گھر میں ایک کربلا ہے، ہر ماں زینب کا پیکر.

 

فلسطینی اپنی تمام تر مشکلات اور بے سروسامانی کے باوجود ہمت نہیں ہارے۔ ان کا ہر بچہ، ہر عورت اور ہر مرد اپنی سرزمین، اپنے حقوق اور اپنی آزادی کے لیے بے خوف و خطر کھڑا ہے۔ یہ استقامت دنیا کے سامنے ایک مثال ہے۔ وہ امام حسینؑ کی اس لازوال استقامت کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف علم بلند کیا، خواہ اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو لیکن اب حالات بد سے بدترین ہوچکے ہیں اور وہاں کربلا کی طرح بے آب و بیاہ کے پیاسا مارا جارہا ہے اور ان پر خوراک تک پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

 

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،

 

خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

 

فلسطینی مزاحمت، حق اور انصاف کے لیے اٹھنے والی وہی صدا ہے جو کربلا سے گونجی تھی اور حق کی پکار کا بدلہ اسی سزا سے دیا جارہا ہے، صرف اغیار ہی اس میں شامل نہیں بلکہ کربلاء کی طرح اپنوں کی غداری اور بے وفائی اور قوم کا سودا کرنے والی دلالی بھی اس میں شامل ہے۔ اہل غزہ نے یہ مزاحمت اپنے وجود، اپنے وقار اور اپنے بنیادی حقوق کے دفاع میں کی تھی، ٹھیک اسی طرح جیسے امام حسینؑ نے اپنے نانا کے دین کی بقا کے لیے قیام کیا تھا مگر اب اس کا انجام کربلا جیسا ہورہا ہے اور ملت تماشہ بین ہوچکی ہے، جیسے تب ہوگئی تھی جس میں کوفیوں کی بے وفائی تھی اب پوری قوم کی بے وفائی ہے، تب امویوں کی سفاکیت تھی آج یزیدیوں کی بربریت ہے۔

 

یہ ایک کڑوا سچ ہے جب ہم عالم اسلام کی شرمناک خاموشی اور بزدلی پر نظر ڈالتے ہیں۔ وہ مسلم ممالک جو خود کو اسلامی اخوت کا علمبردار کہتے ہیں، وہ غزہ میں جاری نسل کشی پر یا تو مکمل خاموش ہیں یا پھر محض رسمی مذمت تک محدود ہیں۔ ان کی یہ خاموشی اور بزدلی نہ صرف فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے بلکہ اسلامی اقدار، اخوت اور انسانیت کے اصولوں کی بھی توہین ہے اور ان کے قتل عام میں برابر کا جرم میں شریک ہونا ہے۔

 

جب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ "ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے” اور "جب ایک مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے مسلمان کو بھی اس کی تکلیف محسوس ہوتی ہے،” تو کیا آج یہ سب باتیں فقط کتابی رہ گئی ہیں؟ کئی مسلم ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کے لیے غزہ کے مظلوموں کو یکسر فراموش کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا عاقبت نااندیشانہ اور مجرمانہ عمل ہے جو نہ صرف فلسطینیوں کو مزید تنہا کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر مسلم امہ کی پوزیشن کو بھی کمزور کر رہا ہے اور انکی ذلت و رسوائی کے راستے ہموار کر رہا ہے اور تاریخ میں شاید تاتار حملے کے سانحے سے بھی زیادہ اور اندلس کے زوال سے بھی زیادہ مسلمانوں کے زوال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ان ممالک اور تنظیمات کو اس وقت خاموش ہیں ان کی ترجیحات قومی مفادات اور مغربی ممالک کی خوشنودی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جبکہ ان کی اسلامی ذمہ داریاں اور اخلاقی اقدار پس پشت ڈال دی گئی ہیں۔

 

"کہاں ہے وہ جرات، کہاں وہ غیرت، وہ اسلامی اخوت؟

 

اس خاموشی کا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل مزید بے خوف ہو کر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں اور عالم اسلام کی جانب سے کوئی ٹھوس ردعمل نہیں آئے گا۔ یہ بزدلی صرف حکمرانوں تک محدود نہیں بلکہ کئی جگہوں پر عوام بھی بیداری کی اس حد تک نہیں پہنچ پائے جہاں وہ اپنے حکمرانوں کو جوابدہ ٹھہرا سکیں۔ یہ عالم اسلام کی قیادت کا جماعتوں اور جمعیتوں کا فرض تھا کہ وہ ایک متحدہ محاذ بناتے، اقتصادی اور سفارتی دباؤ ڈالتے، اور اگر ضرورت پڑتی تو عملی مدد بھی فراہم کرتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔

 

غزہ مقام حرب نہیں جہاں دو طرفہ وار ہو!

 

غزہ ایک قتل گاہ ہے، جو ہلاکو اور چنگیز کی قتل گاہوں سے زیادہ دردناک ہے، غزہ ایک قتل گاہ ہے جس میں دشمنوں کا نہیں ہمارے اپنوں کا لہو سفاکی سے بہایا جارہا ہے!

 

غزہ ایک قتل گاہ ہے جس میں شہادت کے پاس نہیں جانا ہوتا شہادت خود حاضر ہوتی ہے، یہ شہادت جو عظماء کو چاہتے ہوئے نہ ملی وہ بنا چاہے اہل غزہ کو مل رہی ہے، ملت اسلامیہ کا فرض کفایہ ہی نہیں فرض عین بھی اہل غزہ ادا کر رہے ہیں، لیکن وہ وقت دور نہیں جب دور سب کا ہوگا اور مقتل میں ہمارا بھی انتظار ہوگا، جب خون کی سیاہی ہمارے مستقبل کو تاریک کرینگی تو قوم کی نیازمندی بھی بے سود ہوگی اور فریاد بھی بے ساز ہوگی۔

 

وہی داستان کربلا ہمارے سامنے ہے جو آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے تھی تب کے لئے اگر ہم آج تک روتے ہیں اور افسوس کرتے ہیں کہ کاش ہم وہاں ہوتے جو نصرت اہل بیت کرتے تو کیا اب وہ لمحہ نہیں آیا کہ انہیں اہل بیت کی روش پر چلنے والے حق کا علم تھامنے والے نبی کے امتیوں کی نصرت و اعانت کریں!

 

غزہ آج کربلا ہے، وہی قتل عام ہورہا ہے اور ہم خاموش ہیں!

 

وہی اہل حق کا لہو بہایا جا رہا ہے اور معصوم اور بے گناہوں کو شہید کیا جارہا ہے اور ہم تماشہ بین ہیں!

 

ضمیر مرچکے ہیں! اسلامی حمیت محض رسم و رواج تک رہ گئی ہے! یاں پھر دین کے نام پر روایات کو اپنا کر دین کی حقیقی تعلیمات کو ہم نے درکنار کردیا ہے!

 

ہم سے بہتر تو پھر اغیار ہیں! یہ وہ مسلمان جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود!!!

 

یہود واقعی میں شرما گئے، حالیہ دنوں میں اسرائیل میں یہودیوں نے غزہ میں ہورہے ظلم و بربریت کے خلاف احتجاج درج کیا، پورا یورپ اور امریکہ اور غیرت مند اشیائی اور افریقی ممالک میں غزہ کے لئے آوازیں بلند ہورہی ہیں جو اہل اسلام بھی شمار نہیں کئے جاتے اور اکثریت جن میں عیسائی اور دیگر اقوام کی ہیں، مسلم اکثریتی خطہ اور مسلم دنیا مکمل طور پر بے حس ہیں جن میں بلا تفرقہ سب شامل ہیں، ایران نے کسی حد تک اگر جارحانہ جرآت بھی کی تو اس کی مدد کو کوئی نہیں آیا، منافقت نہیں اب یہ قوم ظلم کی طرفداری کرنے لگی ہے یہ بغاوت ہے دینی تعلیمات کے خلاف اور دینی اصولوں کے خلاف کے ہمارے سامنے ظلم کی حدیں پار کردی جائیں اور ہم بے کس و مجبور بن جائیں، اور فقط افسوس و دعا پر اکتفاء کرنا اول درجے کی منافقت ہے اور دین میں کہیں بھی اس کی کوئی تاویل موجود نہیں، یہ تاریخ اگر ظلم کی لکھی جائے گی تو اس میں اپنوں کی غداری غیروں کی ہمدردی دونوں پہلوؤں پر لکھی جائے گی اور وإن تتولوا یستبدل قوماً غیرکم کے فرمان الہی کی مصداق بنے گی۔

 

"ظلم كى بات ہی كيا، ظلم كى اوقات ہی كيا

ظلم بس ظلم ہے آغاز سے لیکر انجام تلک”

Comments are closed.