مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے الیکٹرانکس انجینئرنگ شعبہ کی جانب سے ملٹی میڈیا، سگنل پروسیسنگ اور کمیونیکیشن ٹکنالوجیز پر مبنی ’امپیکٹ کانفرنس2026‘ کا اعلان
علی گڑھ، 26 جولائی: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ نے 14 تا 15 فروری 2026، ملٹی میڈیا، سگنل پروسیسنگ اور کمیونیکیشن ٹکنالوجیز پر مبنی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس ’امپیکٹ 2026‘منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے اپنے دفتر میں کانفرنس کے بروشر کا اجراء کیا۔ اس موقع پر شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ کی چیئرپرسن پروفیسر طاہرہ پروین اور کانفرنس چیئر پروفیسر انور سادات بھی موجود تھے۔
پروفیسر طاہرہ پروین نے کہا کہ یہ کانفرنس ملٹی میڈیا سسٹمز، سگنل پروسیسنگ اور کمیونیکیشن ٹکنالوجیز کے شعبوں میں حالیہ پیش رفت پر خیالات کے تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ کانفرنس کے لئے اسکالرز، محققین اور انڈسٹری ماہرین سے تحقیقی مقالے طلب کئے گئے ہیں۔
پروفیسر انور سادات نے کانفرنس میں شرکت کے خواہشمند اسکالرز،محققین اور انڈسٹری ماہرین کے لئے شرکت کی فیس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی طلبہ (بی ٹیک، ایم ٹیک، پی ایچ ڈی) کے لیے رجسٹریشن فیس تین ہزار روپے اور تاخیر سے رجسٹریشن کی صورت میں 3500 روپے طے کی گئی ہے۔ ہندوستانی اساتذہ اور پیشہ وروں کے لیے یہ فیس پانچ ہزار روپے اور تاخیر کے ساتھ چھہ ہزار روپے ہے۔ بین الاقوامی شرکاء کے لیے رجسٹریشن فیس 100 امریکی ڈالر اور تاخیر کے ساتھ 150 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
کانفرنس میں شامل کئے جانے والے تحقیقی مقالات کانفرنس کی ای-پروسیڈنگ میں شائع کئے جائیں گے اور انہیں آئی ای ای ای ایکسپلور ڈیجیٹل لائبریری میں شامل کیا جائے گا، جس کا اشاریہ اسکوپس، گوگل اسکالر اور دیگر علمی ڈیٹا بیسز میں موجود رہتا ہے۔
ویب لنک https://amu.ac.in/miscellaneous/impact-2026 پر کانفرس کی تفصیلات اور تحقیقی مقالے جمع کرنے کے رہنما اصول موجود ہیں۔ ای میل آئی ڈی impact-amu@amu.ac.in پر ای میل کرکے بھی تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر زبیر شاداب خان، اے ایم یو کی اردو اکیڈمی کے ڈائریکٹر مقرر
علی گڑھ، 26 جولائی: ڈاکٹر زبیر شاداب خان کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سینٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ آف اردو ٹیچرز (اردو اکیڈمی) کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار تین سال یا اس وقت تک کے لیے مؤثر ہوگی جب تک اس عہدے کو جنرل سلیکشن کمیٹی کے ذریعے مستقل طور پر پُر نہیں کیا جاتا۔
ڈاکٹر خان ایک معروف محقق اور ماہر لسانیات ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں ”ریڈیو ڈرامہ: تاریخ، اصناف اور تکنیک“، ”اردو لینگویج، لٹریچر اور کلچر“، ”ریڈیو و ٹی وی: تاریخ اور تکنیک“ اور ”زبان شناسی“ شامل ہیں۔ انہوں نے نصف درجن سے زائد کتابوں کی تدوین و ترتیب کے ساتھ اردو، ہندی اور انگریزی میں تیس سے زائد تحقیقی مقالات معروف جرائد میں شائع کیے ہیں۔
ڈاکٹر زبیر شاداب خان نے کہا کہ ’سی پی ڈی یو ٹی میں میری کوشش ہوگی کہ زبان کی تدریس، ترجمہ مطالعات اور اردو تعلیم میں بین العلومی رجحانات کو مستحکم کیا جائے‘۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے مرکز برائے تعلیم بالغاں میں خواتین کے تفویض اختیارات پر خصوصی لیکچر کا اہتمام
علی گڑھ، 26 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے مرکز برائے تعلیم بالغاں (سی سی اے ای ای) کے زیر اہتمام پروفیسر عذرا موسوی، ڈائریکٹر، ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز، اے ایم یو نے خواتین کے تفویض اختیارات پر لیکچر دیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر موسوی نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم، تربیت، بیداری اور معاشی خودمختاری بنیادی عناصر ہیں، جن کے بغیر تفویض اختیارات کی تمام کوششیں غیر مؤثر رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشی طور سے خود کفیل ہونے سے خواتین کو وسائل و املاک اور آمدنی تک رسائی اور ان پر کنٹرول کا موقع حاصل ہوتا ہے، جس سے سماجی اور سیاسی رویوں میں تبدیلی آتی ہے۔ خصوصاً کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے حوالے سے یہ زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمہ پر اقوام متحدہ کے کنونشن (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کا بھی حوالہ دیا، جو ملازمت کی جگہوں پر جنسی ہراسانی اور تشدد کے خلاف مضبوط قانونی تحفظات کی وکالت کرتا ہے۔
لیکچر کے بعد، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور ڈریس ڈیزائننگ کے تربیتی پروگراموں کے شرکاء کو اسناد تقسیم کی گئیں۔
آخر میں ڈاکٹر شمیم اختر، ڈائریکٹر، سی سی اے ای ای نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے طلبہ نے اختراعی تعلیم اور مستقبل کی مہارتوں کا عکاس، ڈلیوری ڈرون پروٹوٹائپ تیار کیا
علی گڑھ، 26 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے یونیورسٹی پولی ٹیکنک، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے سال آخر کے طلبہ کی ایک ٹیم نے جدید ٹکنالوجی اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ڈلیوری ڈرون پروٹوٹائپ تیار کیا ہے، جو خودکار فضائی ترسیلی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ پروجیکٹ یونیورسٹی پولی ٹیکنک کے سابق پرنسپل پروفیسر ارشد عمر کی سرپرستی میں مکمل ہوا، جنہوں نے اے ایم یو سے مکمل فنڈنگ حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس منصوبے کی نگرانی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسن نے کی۔
طلبہ کی ٹیم میں ثوبان احمد صدیقی، احتشام احمد، شباب خان، انکت تومر، انس خان، مظفر حسین اور امان احمد انصاری شامل تھے، جنہوں نے دو ماہ کے دوران یونیورسٹی کیمپس کے اندر 6 خودکار ڈلیوری مشن کامیابی سے مکمل کیے۔
یہ ڈرون پرواز اور ڈیلیوری کے راستے کی مکمل نگرانی کے لئے ریئل ٹائم ویڈیو اسٹریمنگ، خودکار نیویگیشن، اشاروں سے کنٹرول کے بیک اپ سسٹم اور ایک کسٹم ڈیش بورڈ سے لیس ہے۔
یہ اقدام اے ایم یو کے اس وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد طلبہ کو جدید ٹکنالوجی میں اپنی قیادت پر مبنی تحقیق اور ایجادات کی جانب راغب کرنا ہے۔ اس منصوبہ کو ایمرجنسی ریسپانس اور اسمارٹ کیمپس سلوشنز جیسے شعبوں میں اس کی افادیت کے سبب علمی حلقوں سے کافی پذیرائی ملی ہے۔
اگرچہ فی الوقت یہ پروٹوٹائپ تعلیمی مقاصد کے لیے ہے، تاہم ٹیم کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں اس نظام میں مصنوعی ذہانت پر مبنی آبجیکٹ ڈیٹکشن کی سہولت بڑھاکر اور اس کے دائرہ کی توسیع کرکے اس کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ”ما بعد نوآبادیات اور عالمی بین الاقوامی تعلقات“ پر مبنی پانچ روزہ گیان کورس کا آغاز
علی گڑھ، 26 جولائی: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سیاسیات نے گلوبل انیشیئیٹیو آف اکیڈمک نیٹ ورکس (گیان) پروگرام کے تحت ”مابعد نوآبادیات اور عالمی بین الاقوامی تعلقات“ کے موضوع پر پانچ روزہ کورس کا اہتمام کیا ہے جس کی افتتاحی تقریب، یوجی سی-ایم ایم ٹی ٹی سی میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا مقصد بین الاقوامی تعلقات پر غیر مغربی نقطہ نظر سے از سر نو غورو فکر کرنا اور دنیا بھر کے سیاسی مباحث میں تنقیدی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا، ”یہ کورس بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں غیر مغربی نقطہ نظر کو فروغ دینا چاہیے جو عالمی جنوب کی زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہو“۔
انہوں نے شعبہ سیاسیات کی اس پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح کے اہم اسکالر کو مدعو کر کے معیاری علمی تجزیہ کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے شرکاء کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔
اس کورس کے بین الاقوامی ماہر، امریکن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز اسکالر پروفیسر امیتو آچاریہ ہیں۔ وہ عالمی بین الاقوامی تعلقات اور مابعد نوآبادیاتی مطالعات کے نمایاں ترین اسکالر ہیں۔ ان کے سیشنز میں عالمی نظام کے متبادل فریم ورک اور غیر مغربی معاشروں کی فکری خدمات جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔
فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر اکرام حسین نے اس موقع پر کہا ”یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پروفیسر آچاریہ اس علمی گفتگو کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی علمی خدمات عالمی فکری دھارے میں ایک انقلابی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں“۔
شعبہ سیاسیات کے صدر پروفیسر ایم نفیس انصاری نے مغرب پر مرکوز نظریات سے آگے بڑھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ”یہ پروگرام نوجوان محققین کو عالمی امور میں تنقیدی فکر اپنانے اور متبادل بیانیے قائم کرنے کی تربیت دے گا“۔
گیان کے مقامی کوآرڈینیٹر پروفیسر جہانگیر وارثی نے ادارہ جاتی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گیان ایک طاقتور پلیٹ فارم ہے جو ہندوستانی اداروں کو عالمی علمی معیارات سے مربوط کرتا ہے۔
اس پانچ روزہ کورس کے کوآرڈنیٹر شعبہ سیاسیات کے ڈاکٹر راحت حسن اور پروفیسر اسمر بیگ ہیں۔
Comments are closed.