اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے زیر اہتمام ’’ہندوستانی تناظر میں چند اہم اور قابلِ توجہ ملی مسائل‘‘ پر سیمینار، حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کااہم خطاب
نئی دہلی، 29 جولائی 2025 (پریس ریلیز)
اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے زیر اہتمام نئی دہلی میں ایک نہایت اہم اور فکر انگیز سیمینار منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا:’’ہندوستانی تناظر میں چند اہم اور قابلِ توجہ ملی مسائل‘‘۔ یہ سیمینار موجودہ ملکی حالات اور مسلم معاشرے کو درپیش چیلنجز پر غور و فکر کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، جس میں مختلف علمی، دینی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
اس علمی و فکری اجلاس کے ایکن سیشن کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر، مفکر ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب امیر شریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ نے فرمائی۔حضرت امیر شریعت مدظلہ نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات میں نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نفرت آج کے معاشرے کا سب سے بڑا دشمن بن چکی ہے، جو فرد، خاندان، قوم اور پورے ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔
مولانا نے زور دے کر کہا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو انسانوں کے درمیان محبت، اخوت، رواداری اور عدل کا داعی ہے۔ بدگمانی، غیبت، تکبر، حسد، بہتان تراشی اور تنگ نظری جیسے منفی رویے دراصل وہ جراثیم ہیں جو معاشرے میں نفرت کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی متعدد آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اخلاقی بیماریوں کا نتیجہ ہمیشہ انتشار، باہمی فساد اور بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔
مولانا قاسمی نے بڑی صراحت سے کہا کہ جب اختلافِ رائے، ذاتی انا اور تعصب کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو وہی اختلاف رفتہ رفتہ دشمنی اور نفرت میں تبدیل ہو جاتا ہے اور یہی چیز سماج کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
نفرت کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے درج ذیل نکات پیش کیے:
(1) مذہب، ذات اور فرقہ کی بنیاد پر امتیاز،(2) دولت کی غیر مساوی تقسیم اور بڑھتی ہوئی غربت،(3) سیاست کا نفرت انگیز استعمال،(4) میڈیا کی منفی اور جانبدار رپورٹنگ،(5) ریاستی اداروں کی بے حسی،(6) نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے ذریعہ جذباتی اشتعال۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے بروقت نفرت کے خلاف اجتماعی شعور پیدا نہ کیا تو وہی ملک جو گنگا جمنی تہذیب، بھائی چارہ اور کثرت میں وحدت کے لیے پہچانا جاتا ہے، مستقبل میں تعصب اور عدم رواداری کی پہچان بن جائے گا۔
مولانا قاسمی نے نفرت کے سنگین نتائج کا بھی تفصیل سے ذکر کیا، جن میںانسانی حقوق کی پامالی اور معاشی بدحالی، تعلیم کا زوال اور نوجوانوں کی گمراہی، سماجی و علاقائی امن کا بگاڑ، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی منافرت، ذہنی انتشار، خاندانی تفرقہ اور معاشرتی دباؤ شامل ہیں۔
اس صورت حال کے تدارک اور ایک پرامن، ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل کے لیے حضرت مولانا نے کہاکہ ہمیں چاہیے کہ ہم تمام مذاہب کے رہنماؤں کے درمیان باہمی مکالمہ اور تعاون کو فروغ دیں، سیاسی و سماجی سطح پر انصاف اور مساوات کی بنیاد مستحکم کریں، عدلیہ، وکلا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فعال اور شفاف بنائیں، دلت، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں سے سماجی اشتراک و ہمدردی کا اصول اپنائیں اور تعلیمی اداروں میں رواداری اور ہم آہنگی کی تعلیم کو فروغ دیں۔ میڈیا پر اخلاقی دباؤ ڈالیں کہ وہ امن، سچائی اور ذمہ داری کو فروغ دے اور نوجوان نسل کے ساتھ براہ راست رابطہ اور ان کی فکری رہنمائی کریں۔
خطاب کے اختتام پر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے درد بھرے انداز میں کہا:نفرت ایک ایسی آگ ہے جو سب سے پہلے اسی کو جلاتی ہے جس کے دل میں بھڑکتی ہے۔ہمیں اس وقت محبت، رواداری، اخوت اور انسانیت کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے؛ تاکہ ہم اپنے وطن عزیز کو نفرت کے اندھیروں سے بچا سکیں اور ایک پرامن، انصاف پسند اور خوشحال ہندوستان کی تعمیر کر سکیں۔
Comments are closed.