قضیہ فلسطین پر مسلمانان ہند کی بےچینی اورمفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ کی نمائندگی

مفتی احمد نادر القاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

یہ بات 1938 اکتوبرکی ہے۔عالم اسلام کے اطمینان اوراضطراب کودورکرنے کےلئے برطانیہ نے قاہرہ مصرمیں ایک کانفرنس بلائی۔جس کی صدارت علوبہ پاشا مصری نے کی تھی۔اس کانفرنس میں کم وبیش ساڑھے تین ہزار نمائندوں نے پورے عالم اسلام اورمسلم ممالک سے شرکت کی۔اس وقت پاکستان وجود میں نہیں آیاتھا۔برصغیرغیرمنقسم تھا۔اس کانفرنس میں بھارت سے مفتی کفایت اللہ صاحب نے جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے پورے وفد کے ساتھ اس مؤتمرمیں شرکت کی تھی۔مفتی صاحب نے جوخطبہ اس کانفرنس کےلئےتیارکیاتھا اسے مولانا عبدالحق مدنی نے مجمع میں پڑھا۔اس خطبہ میں برصغیرکے مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ موقف رکھاگیاتھا۔جس پر آج بھی علماء قائم ہیں کہ:

”اگرخدانخواستہ فلسطین کے عرب تقسیم فلسطین پر راضی ہوجائیں تب بھی ہم ہندوستانی مسلمان اس پرراضی نہیں ہوں گے۔یہ مسئلہ صرف فلسطین کے عربوں کاہی نہیں ۔بلکہ عالم اسلامی کا مسئلہ ہے۔مسلمان فلسطین کے کسی حصے میں اپنے اقتدار کی دست برداری سےمطمئن نہیں ہوسکتے۔اس فیصلے کے نتائج بہت بھیانک ہوں گے۔ اورفلسطین کوایک دائمی فساد اورعالم اسلام کوعذاب میں مبتلاکردیاجائےگا“۔

1948 میں فلسطین کوتقسیم کرکے ناجائز اسرائیلی ریاست کاقیام عمل میں لایاگیا۔اورعربوں نے ٹواسٹیٹ پالیسی کو تسلیم کرلیا۔اس کے بعد سے آج تک فلسطین اورعالم اسلام جس عذاب میں مبتلاء ہے دنیااپنی سرکی آنکھوں سے دیکھ سکتی ہے۔ علماء ہندکی مدبرانہ سیاسی بصیرت کا آپ اندازہ لگاسکتےہیں۔ہم آج بھی فلسطین کے متعلق اپنے اسی عزم کااعادہ کرتے ہیں جوہمارے بزگان اہل دیوبندنے کیاتھاکہ:

”ریاست اوردولہ دراصل فلسطین ہے۔جوعرب بنی اسرائیل کی آبادی جوحقیقی باشندے ہیں۔ پرمشتمل ہے۔جوباہرسے سے زبردستی اس وقت جرمنی۔گریس۔پولینڈ۔روس اوربرطانیہ سے جہاز میں بھرکربھیجے گئے ان کی بات نہیں کررہاہوں۔ان کوتو اہل فلسطین کا احسان مندہوناچاہئے کہ فلسطینیوں نے ان کو اس کمپرسی میں پناہ دی جب کوئی اپنے ملک میں رہنے دینے کوتیار نہیں تھا۔“

آج وہی نمک حرام صہیونی فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھ رہے ہیں اورکاروائی بھی کررہےہیں خواتین اوربچوں کوبے دریغ قتل کررہے ہیں۔۔ مسجداقصی اورفلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کل بھی مسلمانان کادل دھڑک رہاتھا آج بھی دھڑکتاہے اورقیامت تک باذن اللہ دھڑکتارہے گا۔اس بےچینی اوررشتہ ایمانی اوراخوت دینی کے والہانہ جذبہ کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔ فلسطین آج اپنوں کی نادانی کی وجہ سےکمزورضرورہے۔مگرمردہ نہیں ہے۔”یومئذیفرح المؤمنون بنصراللہ“۔

Comments are closed.