قتل کی اقسام اور ان کے احکام

 

ڈاکٹرمفتی محمدفیاض عالم قاسمی

ناگپاڑہ،ممبئی

اللہ تعالیٰ کے احکام انسان کی جان ومال، عزت آبرو،نسل اور عقل کی حفاظت کے لئے ہیں۔خدائی قانون ان ہی چیزوں کی خیر وبھلائی کے لئے ہیں۔ان میں سے سب سے اہم انسان کی جان ہے۔ جان ہے تو جہاں ہے۔اس لئے ہر مذہب اورقوم کے نزدیک انسانی جان کی بڑی اہمیت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے بارے میں کہاہے کہ ہم نے اولادِ آدم کوعزت بخشی او راس کو تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے۔(سورۃ الاسراء:۷۰)ایسا معاشرہ جہاں انسانی جان محفوظ نہ ہو وہاں انسانی نسل کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے، اس لیے دنیا کی کوئی آبادی، گروہ، جماعت ایسی نہیں ہے جو جان کے تحفظ کے لیے قانون نہ بنایاہو۔قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشادہے،ترجمہ:اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کرقتل دے، اس کی سزا دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب ہوگا، اور اس کی لعنت ہوگی، اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیاررکھاہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں قاتل کے تعلق سے اپنے غیض وغضب کوبیان کرتےہوئے پانچ طرح کے عذاب کا ذکر کیاہے۔ (١)جہنم(٢)جہنم میں ہمیشہ رہنا،(٣)اس پر اللہ کاغضب،(٤)اس پر اللہ کی لعنت(٥)اللہ نے ایسے قاتلوں کے لئے سخت عذاب رکھاہے۔اسی لئے تمام فقہاء کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ مسلمان کا ناحق قتل گناہ کبیرہ میں سب سےبڑا گناہ ہے۔ یہاں تک کہ بعض علماءکرام کے نزدیک قاتل کے لئے توبہ بھی نہیں ہے کہ وہ توبہ استغفار کرکے اپنے گناہ سے پاک صاف ہوجائے۔خدانخواستہ اگر کوئی قاتل اپنے اس گناہ کو بغیرکسی دلیل شرعی کے درست سمجھتاہو،یا اس کو اپنے قتل پراحساس ندامت نہ ہو،تو وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔(خلاصہ ازآسان تفسیرقرآن)

احادیث شریفہ میں مومن کے ناحق قتل پر سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ س روایت ہے کہ رسول ﷺ نے قربانی کے دن خطاب فرمایا، چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ نہایت ہی محترم دن ہے، پھر آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا کہ نہایت ہی قابل احترام شہرہے، پھر آپ نے پوچھا کہ یہ کونسا مہینہ ہے لوگوں نے جواب دیا کہ حرمت والا مہینہ ہے۔ تب آپ نے ارشادفرمایا بے شک تمہارا خون، تمہارا مال، تمہاری عزت، تم پر اسی طرح قابل ِاحترام ہے جس طرح آج کا دن،یہ شہر، اور یہ مہینہ (قابل احترام ہیں)۔ آپ ﷺ نے اسی ارشاد کو بار بار فرمایا۔ پھر آپ نے سر کو اٹھاکر کہا ،اے اللہ کیا میں نے آپ کا پیغام پہونچا دیا۔ کیا میں نے آپ کا پیغام پہونچادیا۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، یہ آپ ﷺ کی اپنی امت کے نام وصیت تھی۔آپ ﷺ نے کہا یہاں پر موجود لوگوں کو چاہئے کہ جو لوگ یہاں نہیں ہیں ان تک یہ وصیت پہونچادیں۔ آپ نے کہا کہ تم میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جاناکہ ایک دوسرے کی گردَنوں کو مارنے لگو۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر:١۷٣۹)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے کے مقابلے میں پوری دنیا کا فنا ہوجانا زیادہ آسان ہے“۔(سنن ترمذی، حدیث نمبر:١٣۹٥)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا اور یہ فرماتے ہوئے سنا (اے کعبہ!) تو کس قدر عمدہ ہے اور تیری خوش بو کس قدر پیاری ہے، تو کس قدر عظیم مرتبے والا ہے، تیری حرمت کس قدر زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، مومن کے جان ومال کی حرمت اللہ تعالی کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے“۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:٣۹٣٢)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ بتائیے ایک شخص نے جان بوجھ کر قتل کیا ہے، اس کی سزا کیا ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اللہ تعالی نے اس کے لیے عذاب عظیم تیار کررکھا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ وہ آیت ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئی،(النساء:٩٣) یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اور آپ علیہ السلام کے بعد وحی نازل ہونا بندہوگئی ۔ اس شخص نے کہا یہ بتائیے اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر وہ توبہ والوں میں شمار ہوگا؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کی توبہ کیسے ہوگی؟ جب کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس شخص کی ماں اس پر روئے جس نے کسی مسلمان کو عمدا قتل کردیا ہے، وہ مقتول اپنے قاتل کو دائیں یا بائیں جانب سے پکڑے ہوئے آئے گا اور دائیں یا بائیں ہاتھ سے اس نے اپنا سر پکڑا ہوا ہوگا اور عرش کے سامنے اس کی رَگوں سے خون بہہ رہا ہوگا اور وہ شخص فریاد کرے گا اے میرے رب! اپنے اس بندے سے پوچھ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا؟ (مسند احمد، حدیث نمبر :٢١٤٢)

صحیح بخاری میں حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ قیامت کے درمیان لوگوں کے درمیان سب سے پہلے انسانی خون کے تعلق سے حساب وکتاب ہوگا۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر:۶٥٣٣)

بہرحال قتل نہایت ہی بڑاجرم ہے،اس کی دنیاوی اور اخروی سزاکاذکر خود قرآن میں موجود ہے۔محدثین اور فقہاء کرام نے قتل کی پانچ صورتیں بیان کی ہیں اورہر ایک کی دنیاوی سزا کا بھی ذکر کیاہے۔ وہ حسب ذیل ہے۔

(١)قتل عمد:

قتل عمد وہ قتل ہے جس میں قاتل جان بوجھ کر کسی ایسی چیز سے قتل کیاہو جس سے انسان عام طورپرمرجاتاہو۔جیسے تلوار، چُھرا،یا چاقو سے گلاکاٹ دیا، کسی کو نشانہ بناکرگولی چلادی، آگ میں جلاڈالا، زہردے دیا،قتل کا انجیکشن لگادیا، گلا دبا کر مارڈالا،پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا۔بجلی کی ہائی وولیٹج کی وائر لگادیا۔وغیرہ

اس کا حکم یہ ہے کہ قاتل سے قصاص لینا واجب ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:، ترجمہ:اے ایمان والو ! تم پر مقتولوں کے بارے میں ’ قصاص ‘ فرض کیا گیا ہے ، آزاد نے قتل کیا ہوتو اس آزاد کو ، غلام نے قتل کیا ہو تو اس غلام کو اور عورت نے قتل کیا ہوتو اس عورت کوبدلے میں قتل کیاجائے گا۔(البقرۃ:١۷۸)

قصاص کے اصل معنی برابری کے ہیں ، یعنی ’ قتل کے بدلہ قتل ‘ایسی صورت میں جہاں اسلامی حکومت ہو ، وہاں مقتول کے ورثاء کو حق ہے کہ عدالت کےذریعہ قاتل کو قتل کرادے۔ورثاء کو از خود قاتل کو قتل کرنے کاحق نہیں ہے۔ ( الفقہ الاسلامی وأدلتہ : ۷/٥۶١٥)

اسلام کا یہ ایساحکم ہے جس سے انسان کی جان کی قیمت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ قتل وغارت گری کا راستہ اسی سے بند ہوسکتاہے۔قرآن کریم نے تو یہاں تک کہاہے کہ "اے اصحابِ دانش ! قصاص میں ( درحقیقت ) تمہارے لئے زندگی ہے ؛ تاکہ تم ( دنیا میں قتل اور آخرت میں عذاب سے ) بچ سکو۔ چنانچہ مشاہدہ ہے کہ جن ممالک میں قتل کی سزا قتل کا قانون نافذہے، وہاں قتل کے واردات بہت کم ہوتے ہیں۔البتہ اگر مقتول کے وارثین کسی معاوضہ پر راضی ہوجائیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ چاہے وہ معاوضہ کچھ بھی ہو۔قاتل اگر مقتول کا وارث ہوتو وہ ترکہ سے بھی محروم ہوجائے گا۔

(٢)قتل شبہ عمد:

قتل شبہ عمد وہ قتل ہے جس میں کوئی شخص کسی کو بالارادہ ایسی چیز سے قتل کرے جو نہ آلہ قتل ہو اور نہ آلہ قتل کےقائم مقام ہو۔مثلاًلات، گھونسے، ڈنڈےسےقتل کے ارادےسے اس قدرماراکہ مرگیا۔جان بوجھ کر کسی پر گاڑی چڑھادی اوروہ مرگیا۔جان بوجھ کرکسی کو اونچی جگہ سے پھینک دیا۔(الفتاوی الہندیۃ:۶/٢-٣)۔

قتل کی اس صورت میں قاتل گنہگار ہوگا۔اس پر کفارہ بھی واجب ہوگا۔ کفارہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے اور اگر یہ میسر نہ ہو تو پھر مسلسل دو ماہ روزے رکھنا۔قاتل کو مقتول کے ترکہ سے حصہ نہیں ملے گا۔(الفتاویٰ الہندیہ:۶/٤٥٤)ایسے قتل میں دیت مغلظہ واجب ہوگی۔

دیت یعنی خون کا ظاہری بدلہ ،یہ دراصل مقتول کے ورثاء کے غم کو ہلکا کرنے کاایک ذریعہ ہےاوراچانک ہونے والی مالے نقصان کی کسی حد تک تلافی کی ایک کوشش ہے۔دیت اونٹ ، دیناریادرہم سے دی جائے گی۔بنیادی طورپر دیت سوعدد اونٹ ہے،یعنی ایک سال کی پچیس اونٹنیاں، دوسال کی پچیس اونٹنیاں، تین سال کی پچیس اونٹنیاں، اور چار سال کی پچیس اونٹنیاں۔ (الفتاوی الہندیہ:۶ /٢٤)۔اس کو دیت مغلظہ (سخت)کہتے ہیں۔

(٣)قتل خطا:

قتل خطاوہ قتل ہے جس میں غلطی سے قتل ہوگیاہو۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔(١)خطا فی الفعل یعنی عمل میں غلطی ہوگئی ،جیسے گولی تو شکار پر چلائی ،مگر نشانہ چوک گیا اور انسان کو جالگی۔غلطی سے گاڑی کسی پر چڑھادی اوروہ مرگیا(٢)خطا فی القصد، ارادہ میں غلطی ہوگئی ۔ جیسے شکار سمجھ کر گولی چلائی، مگرپتہ چلا کہ وہ شکار نہیں، انسان تھا۔اس کا حکم یہ ہےکہ اس پر کفارہ واجب ہے۔قاتل پر دیت خفیفہ(سواونٹ)واجب ہوگی۔ قرآن کریم میں ہے، ترجمہ: کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کردے ، سوائے اس کے کہ اَنجانے میں ہوجائے ، اور جوکسی مسلمان کو انجانے میں قتل کردے ، وہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے لوگوں کو خون بہا (دیت)ادا کرے ،سوائے اس کے کہ وہ لوگ خود ہی معاف کردیں۔(سورۃ النساء:۹٢)۔قاتل مقتول کے ترکہ سے محروم ہوگا۔قاتل کو قتل کا گناہ تو نہیں ہوگا، مگر غفلت و بے توجہی کا گناہ یقیناًہوگا۔دیت خفیفہ کی تفصیل اس طرح ہے ۔  بیس بنت مخاض یعنی اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو اور بیس ابن مخاض یعنی اونٹ کے وہ نر بچے جو دوسرے سال میں داخل ہو چکے ہوں اور بیس بنت لبون یعنی اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو اور بیس حقے یعنی اونٹ کے وہ بچے جو عمر کے چوتھے سال میں داخل ہو چکے ہوں اور بیس جذعہ یعنی وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔(الفتاویٰ الہندیہ:۶/٢٤)

(٤)قتل قائم مقام خطا:

قتل قائم مقام خطا وہ ہے جس میں قاتل کے اختیاری فعل کو کوئی دخل نہ ہو، جیسے کوئی آدمی چھت سےگرگیا، اتفاق سے وہ کسی آدمی پرآگرا،اور وہ مرگیا۔بھگدڑ ہوئی اورلوگوں پر لوگوں کے چڑھ جانے کی وجہ سے کسی کی موت ہوگئی۔ اس کےاحکام بھی قتل خطا کے احکام کی طرح ہیں۔(الدر المختار:٥/٣٤٢)اس کے احکام بھی وہی ہیں جو قتل خطاکے ہیں۔(قاموس الفقہ، مادہ: قتل)

(٥)قتل بسبب:

قتل بسبب وہ قتل ہے جس میں کوئی شخص کسی کے قتل وہلاکت کا بالواسطہ سبب بناہو۔ مثلا کسی شخص نے دوسرے شخص کی بجلی کی وائر کو کھُلا چھوڑ دیا،کرنٹ لگنے کی وجہ سےکوئی آدمی مرگیا۔کسی نے روڈ پر پھسلنے والی چیز ڈال دی،جس سےپھسل کر کوئی مرگیا، یا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور کسی کی موت ہوگئی۔اس صورت میں عاقلہ پر دیت واجب ہوگی۔(الدر المختار:٥/٣٤٢)، البتہ قتل کاگناہ نہیں ہوگا، اورنہ ہی قاتل میراث سے محروم ہوگا۔(قاموس الفقہ)۔

دیت کی موجودہ قیمت:

دیت یعنی سو اونٹ کی قیمت کااندازہ ایک ہزاردیناریا دس ہزاردرہم کے ذریعہ بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔چنانچہ حضرت عَمروبن حزم رضی اللہ عنہ کے نام رسول ﷺ کے مکتوب میں ایک ہزاردینارکاذکرہے۔(قاموس الفقہ، مادہ دیت، سنن نسائی:٤۸٥٣)۔

ایک ہزار (١۰۰۰) دینار٤/ کلو ٣۷٤ گرام سوناکے ہوتے ہیں۔ہندوستان میں اس وقت دس گرام سونے کی قیمت تقریباً ایک لاکھ روپئے ہے۔ اس حساب سے٤/کلو ٣۷٤گرام سونے کی قیمت٤٣۷٤۰۰۰۰(چارکڑورسینتیس لاکھ چالیس ہزار) روپئے ہوگی۔ اندازہ لگائیں کہ دیت کی مقدار کتنی ہے، اس سے یہ بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ دو چار رلاکھ روپئے مقتول کے وارثین کو دیکر انصاف نہیں ہوسکتاہے۔

دیت قاتل کے ساتھ اس کے عاقلہ پر واجب ہوگی۔عاقلہ سے مرادقاتل کے مرد رشتہ دارہیں۔جیسے باپ ،بیٹا، بھائی ،چچاوغیر ہ؛ تاہم عورت، بچے اورپاگل پر واجب نہیں ہوگی ، ہاں اگر یہی قاتل ہیں تو پھر ان پر بھی واجب ہوگی۔حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے عاقلہ میں اہل دیوان یعنی اس پیشہ کے شریک کارافراد کو بھی شامل فرمایاہے۔اگر اس پیشہ کے متعلقین کی کوئی یونین ہوتو سب مل کر قاتل کی طرف سے دیت اداکریں گے۔ یہ بھی حسن سلوک کا طریقہ ہے کہ قاتل پر اگر پوری دیت لازم کردی جائے تو ظاہر ہے کہ اس کے لئے بڑا بوجھ ہوگا، اس لئے اگراس کے رشتہ دار، اور اس کے پیشہ سے متعلق افراد اس کاتعاون کریں تو اس کابوجھ ہلکابھی ہوجائےگا اور دوسروں کو اس سے عبرت بھی حاصل ہوگی۔نیز عاقلہ بھی ایسے بدقماش لوگوں کی سرگوشی بھی کریں گے جو بے توجہی اورلاپرواہی برتتے ہیں۔ دیت کی ادئیگی کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی۔ہر سال ایک تہائی وصول کی جائے گی۔ اس پر سارے علماء کرام کا اتفاق ہے۔

شریعت کے ان احکام سے انسانی جان کی قدروقیمت کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔یہ احکام معاشرے میں عدل وانصاف قائم کرنے میں مددگارہوتے ہیں۔خون خرابے اورظلم وتشدد کو روکنے میں اہم کرداراداکرتے ہیں۔جب انسان کو معلوم ہوگاکہ قتل کے بدلےمیں وہ خود قتل کردیاجائےگا، تو کسی کے قتل کے بارے میں سوچنے سے پہلے خود کے قتل کردئے جانے کے بارے میں ایک ہزاربار سوچے گا، اس کی یہ سو چ اس کو قتل سے روکے گی۔دیت یعنی چار کروڑ سینتالیس لاکھ چالیس ہزارروپئے ہرجانہ کے طورپر ادائیگی کاخوف اسے بہت ہی احتیاط کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبورکرے گی۔جس کو ایک ماہ روزہ رکھنا دشوار ہوجاتاہے، کفارہ کےساٹھ روزے مسلسل رکھنے کے تعلق سے وہ کم سے کم ساٹھ بار ضرورسوچے گا۔اس طرح معاشرے میں ظلم وستم اورقتل غارت گری کا سدباب ہوگا اور امن و سکون قائم ہوگا۔فقط

Comments are closed.