دنیا کے امن پسند ممالک غزہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف متحد ہوجائیں
چودھری آفتاب احمد
ایم ایل اے نوح
بھارت کی فطرت رہی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ظلم ہونے پر بھارتی حکومت ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے، لیکن موجودہ مودی حکومت اس سے مستثنیٰ ہے۔
جنگ ایک ایسی ستم ظریفی ہے جہاں انسانی نقصان اس کا سب سے عام نتیجہ ہے لیکن جنگ کے بھی اصول اور انسانی پہلو ہوتے ہیں جن میں عورتوں، بچوں، خوراک، اسپتالوں، اسکولوں، یتیم خانوں می مہاجر کیمپوں پر حملے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ لیکن غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں نے جنگ کے تمام انسانی پہلوؤں کو لہولہان کر دیا ہے۔
اسرائیل غزہ جنگ کے خلاف ایک نسل کشی ہے جس میں انسانیت دن بدن سسک رہی ہے۔ کوئی بھی جنگ ہو تباہی لیکر ہی آتی ہے،اور جنگ انسانیت پر دھبہ ہے۔ لیکن اسرائیل ایک المیہ کا ارتکاب کر رہا ہے اور چھوٹے بچوں کا مسلسل قتل کر رہا ہے، اور مسلسل یہ سلسلہ جاری ہے۔ غزہ پر اسرائیل کی فوجی کارروائی نے انسانیت کو زخمی کر دیا ہے۔
غزہ پر اسرائیل کا فوجی آپریشن انسانی تباہی اور مصائب کی دردناک داستان ہے۔ جس نے ناقابل تصور تکلیف اور نقصان پہنچایا ہے۔
اقتصادی اور سماجی عدم استحکام کی وجہ سے خوراک کا بحران اور بڑے پیمانے پر معاشی تباہی پھیل چکی ہے، جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دیکھا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 24 جولائی 2025 تک، غزہ جنگ میں 59,866 فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ 217 صحافی اور میڈیا ورکرز، 120 ماہرین تعلیم اور 224 سے زیادہ انسانی امدادی کارکن، جن میں 179 UNRWA کا عملہ شامل ہے، جو اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔
علماء امت اور ریسرچ کرنے والوں کی ایک تحقیق کے مطابق اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں 80 فیصد عام شہری ہیں۔ او ایچ سی ایچ آر کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق، جس نے تین آزاد ذرائع سے اموات کی تصدیق کی، پتا چلا کہ رہائشی عمارتوں یا اسی طرح کی رہائش گاہوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں سے 70 فیصد خواتین اور بچے تھے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں غزہ کی پٹی میں ہوئی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت (GHM) کی ہلاکتوں کی کل تعداد جنگ کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ہے۔ آبادیاتی خرابی انفرادی طور پر شناخت شدہ لوگوں کا ایک ذیلی سیٹ ہے۔
17 ستمبر 2024 کو، GHM نے 34,344 انفرادی فلسطینیوں کے نام، جنس اور تاریخ پیدائش شائع کی جن کی شناخت کی تصدیق ہوگئی اور تمام ہلاکتوں کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ جی ایچ ایم کی گنتی میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو "روکنے والی بیماری، غذائی قلت اور جنگ کے دیگر نتائج” سے مر چکے ہیں۔ غزہ ہیلتھ پروجیکٹ ورکنگ گروپ کے تجزیہ نے بیماری اور پیدائشی پیچیدگیوں سے ہزاروں اضافی اموات کی پیشین گوئی کی ہے۔
PCPSR
کی طرف سے کئے گئے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ کے 60% سے زیادہ لوگوں نے جنگ شروع ہونے کے بعد اپنے خاندان کے افراد کو کھو دیا ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے مزید ہزاروں لاشیں پڑی ہونے کا اندازہ ہے۔ زخمیوں کی تعداد 100,000 سے زیادہ ہے۔ غزہ میں دنیا میں سب سے زیادہ فی کس بچے کٹے ہوئے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں نے نہ صرف فوجی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے بلکہ جان بوجھ کر ضروری سامان جیسے ادویات، خوراک اور ایندھن کی ترسیل میں بھی خلل ڈالا ہے۔ اس ظالمانہ حکمت عملی نے غزہ میں رہنے والے لوگوں کو بھوک، بیماری اور محرومی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ غزہ اسرائیل جنگ نہیں بلکہ ایک غریب ملک پر ایک طاقتور ملک کا کھلا ظلم ہے۔اور واضح طور پر امریکہ کی سرپرستی میں نشل کشی کی جا رہی ہے،
آج سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کی بی جے پی حکومت غزہ کے عوام کے جذبات کو یکسر نظر انداز کر رہی ہے۔ اسرائیل کے مظالم کے خلاف نہ کوئی مدد اور نہ احتجاج، سمجھ نہیں آتی کہ وزیراعظم معصوموں کے قتل کو کیسے دیکھ پاتے ہیں۔اور پچا ریے ہیں، یہ ایک بڑا سوال ہے،
بھارت کی فطرت رہی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جب بھی ظلم ہوا ہے تو بھارتی حکومت ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے لیکن موجودہ مودی حکومت اس سے مستثنیٰ ہے۔ بھارتی حکومت کی خاموشی کو کسی بھی شکل میں درست قرار نہیں دیی جا سکتی بلکہ اسے تاریخ میں ایک دھبہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
امریکہ جو اسرائیل کا قریبی دوست ہے اس نے بھی غزہ کے بھوکے بچوں کو دیکھ کر اشاروں کنایوں میں اب جاکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے جبکہ خود اسرائیل کی کئی این جی اوز اسرائیل کی مخالفت کر چکی ہیں لیکن مودی سرکار کی خاموشی انسانی اقدار کو چیر رہی ہے۔ تاہم جمہوریت کا سب سے بڑا خیر خواہ ہونے کا دعویٰ کرنے والا امریکہ بھی غزہ میں انسانی اقدار کے لیے کچھ نہیں کر سکا۔ تاہم دنیا بھر کے اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں،، سڑکوں اور پارلیمنٹ میں بہت سے احتجاج ہوئے۔ آج طاقتور ممالک بھلے ہی خاموش رہیں لیکن مستقبل میں جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس سانحہ کو ہمیشہ ان کی خاموشی شرمناک عمل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
بھارتی حکومت غزہ کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد لا کر انسانی اقدار کا تحفظ کرے۔ اس سے نہ صرف عالمی سطح پر ہندوستان کے موقف کو تقویت ملے گی بلکہ انصاف، عدم تشدد اور انسانیت کے ہمارے پیغام کو بھی تقویت ملے گی۔
(مضمون نگار، نوح سے کانگریس کے ایم ایل اے چوہدری آفتاب احمد ہیں)
Comments are closed.