مدارس اسلامیہ تعلیم کی اشاعت کا موثر ترین ذریعہ ہیں ، ان کے وقار کا تحفظ لازم : مولانا انیس الرحمن قاسمی

 

آل انڈیا ملی کونسل کی تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ میں مدارس کی صورت حال پر تشویش کا اظہار

پھلواری شریف (پٹنہ)، 2؍ اگست 2025(پریس ریلیز)

آل انڈیا ملی کونسل کی تعلیمی کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ آج ریاستی دفتر پھلواری شریف میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب امیر شریعت امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ نے فرمائی۔

 

میٹنگ میں تعلیمی کمیٹی کے کنوینر و صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی، جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار مولانا مفتی نافع عارفی، جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل مشرقی اتر پردیش مولانا نجیب ململی ندوی، صدر آل انڈیا ملی کونسل ضلع پٹنہ پروفیسر ضیاء الدین صاحب، سابق نائب صدر پندرہ نکاتی پروگرام بہار سرکار جناب عارف صاحب، مولانا مفتی جمال الدین قاسمی، مولانا محمد عادل فریدی، مولانا خالد ممتاز ندوی، مولانا رضاء اللہ قاسمی، مولانا فیضان احمد قاسمی اور دیگر اہم اراکین شریک ہوئے۔

 

میٹنگ میں خاص طور پر ملک بھر میں مدارس کی موجودہ صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی گئی، بالخصوص اتر پردیش میں مدارس کو درپیش چیلنجز اور مشکلات زیر بحث آئیں۔ شرکاء نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ مدارس کو مختلف سطحوں پر غیر ضروری دباؤ اور امتیازی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو تعلیمی و دینی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں۔ میٹنگ میں یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ مدارس محض دینی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ قومی اتحاد، سماجی انصاف اور اخلاقی تربیت کے مضبوط قلعے بھی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مدارس کی آزادی اور وقار کا احترام کرے، اور ان کے مثبت کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعاون فراہم کرے۔

 

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مدارس کے خلاف کسی بھی غیر آئینی اقدام کی مزاحمت کی جائے گی، اور ساتھ ہی ان اداروں کی مثبت اصلاح و ترقی کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔

 

صدر مجلس مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے اپنے جامع اور مدلل خطاب میں فرمایا:’’اتر پردیش سمیت بعض ریاستوں میں مدارس کے خلاف جو منظم مہم چلائی جارہی ہے، اور جس کے تحت بعض مقامات پر بلڈوزر کی کارروائیاں بھی کی گئیں، وہ نہ صرف آئین کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب پر بھی حملہ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مدارس قوم کے کردار سازی کے مراکز ہیں، یہ ادارے ملک کو باکردار شہری دیتے ہیں۔ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مدارس کے خلاف امتیازی پالیسیوں کو فی الفور روکے، اور ان کی آزادی و وقار کو یقینی بنائے۔ آل انڈیا ملی کونسل اس معاملے کو ہر قانونی اور جمہوری فورم پر مضبوطی سے اٹھائے گی۔‘‘تعلیمی کمیٹی کے کنوینر مولانا محمد عالم قاسمی صاحب نے کہا:’’ہم مدارس کے تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے، نصاب میں جدید تقاضوں کو شامل کرنے، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کی رہنمائی جیسے عملی اقدامات پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ مدارس محض ماضی کی روایت نہیں، بلکہ مستقبل کی ضرورت بھی ہیں۔‘‘ انہوں نے بتا یا کہ ۹؍ اگست کو لکھنؤ میں آل انڈیا ملی کونسل کے لیگل سیل کی خصوصی میٹنگ میں اس مسئلہ پر تفصیل سے غور ہوگا اور مدارس کو اس بحران سے نکالنے کے لیے قانونی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں مولانا مفتی نافع عارفی اور مولانا نجیب ململی ندوی نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے قیمتی مشورے پیش کیے۔

Comments are closed.