مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کی آفرین جبیں بنی یونیورسٹی کی پہلی طالبہ جنہوں نے انگلش چینل عبور کیا

 

علی گڑھ، 2 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے یہ ایک فخر کا لمحہ ہے، جب بی پی ایڈ کی طالبہ آفرین جبی نے انگلش چینل کو تیر کر عبور کرتے ہوئے تاریخ رقم کی۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی اے ایم یو کی پہلی طالبہ بن گئی ہیں۔

 

29 جولائی 2025 کو آفرین نے برطانیہ کے ڈوور سے فرانس کے کیپ گریس نے تک 34 کلومیٹر طویل تنہا سفر کو 13 گھنٹے 13 منٹ میں مکمل کیا۔ انہوں نے 11 ڈگری سیلسیس کے یخ بستہ پانی میں تیرتے ہوئے یہ تاریخ رقم کی۔ یہ مہم انہوں نے لندن کے مقامی وقت کے مطابق صبح 3:45پر شروع کی تھی۔

 

تیز لہروں اور سرد پانی میں یہ چنوتی بھری کوشش آفرین کو بین الاقوامی سطح کے باہمت تیراکوں کی ممتاز صف میں لا کھڑا کرتی ہے اور ان کا یہ کارنامہ اے ایم یو، ان کی آبائی ریاست مغربی بنگال اور پورے بھارت کے لیے باعثِ فخر ہے۔

 

مغربی مدناپور کے ایک سادہ خاندان سے تعلق رکھنے والی آفرین کی یہ کامیابی عزم، نظم و ضبط اور غیرمتزلزل حوصلے کی ایک روشن مثال ہے۔ اس تاریخی کارنامے سے پہلے ہی وہ اوپن واٹر سوئمنگ میں اپنی شناخت قائم کر چکی تھیں۔ انہوں نے وِدیا ساگر یونیورسٹی کی نمائندگی تین مرتبہ آل انڈیا انٹر یونیورسٹی ایکویٹک چیمپئن شپ میں کی، دو بار قومی سطح پر مغربی بنگال کی طرف سے مقابلے میں حصہ لیا، اور 13، 21 اور 24 کلومیٹر کی طویل مسافت والی تیراکیاں کامیابی سے مکمل کیں۔

 

اے ایم یو میں داخلے سے قبل ان کا سب سے قابلِ ذکر کارنامہ دریائے گنگا میں منعقدہ دنیا کی سب سے طویل تیراکی مقابلہ (81 کلومیٹر) میں لڑکیوں کے زمرے میں دوسرا مقام حاصل کرنا تھا۔

 

اے ایم یو کی طالبہ کے طور پر آفرین کی یہ کامیابی نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ یونیورسٹی کی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس تاریخی لمحے پر، آفرین نے بھارتی پرچم تھامے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

 

”میں بہت خوش ہوں کہ میں نے اپنے ملک، یونیورسٹی اور خاندان کو فخر کا احساس دلایا جنہوں نے ہمیشہ میرے خوابوں کو پورا کرنے میں میرا ساتھ دیا۔”

 

اس موقع پر ان کے بھائی عادل محمد (اے ایم یو کے شعبہ کیمیا میں پی ایچ ڈی کے طالب علم) اور بھابھی رضوانہ یاسمین (نینوٹیکنالوجی میں اے ایم یو کی گولڈ میڈلسٹ) بھی ان کے ساتھ موجود تھے اور ہر قدم پر ان کا ساتھ دیتے نظر آئے۔

 

اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس کامیابی کو ”اجتماعی جشن اور فخر کا لمحہ” قرار دیا اور کہا کہ آفرین کا یہ غیرمعمولی جذبہ آنے والے برسوں میں اے ایم یو کے متعدد طلبہ و طالبات کے لیے تحریک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”آفرین نے ایک ایسی مہم کا آغاز کیا ہے، جسے ہمارے مزید باصلاحیت طلبہ آگے بڑھائیں گے۔”

 

سوشل سائنس فیکلٹی کے ڈین اور شعبہ جسمانی تعلیم کے صدر پروفیسر اکرام حسین نے آفرین کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ اے ایم یو میں انہیں جو تعلیمی اور ذہنی تربیت حاصل ہو رہی ہے، وہ مستقبل میں انہیں مزید کامیابیاں دلائے گی۔

 

پبلک ریلیشن آفیسر کی انچارج پروفیسر وبھا شرما نے بتایا کہ آفرین اور ان کے بھائی فی الحال برطانیہ میں ہیں اور جلد علی گڑھ واپس آئیں گے۔ انہوں نے فون پر آفرین اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کی اور یونیورسٹی کمیونٹی کی جانب سے نیک تمنائیں ارسال کیں۔

 

آفرین جبی کی صورت میں اے ایم یو کو ایک نئی تحریک دینے والی طالبہ ملی ہے یعنی علی گڑھ کی وہ بیٹی، جس نے لہروں کو چیرتے ہوئے تاریخ رقم کی اور یونیورسٹی کا نام عالمی منظرنامے پر فخر کے ساتھ روشن کیا۔ کھیل کے میدان میں ان کا مستقبل نہایت تابناک نظر آتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

آئی آئی ایس ای آر موہالی کی سائنس داں نے اے ایم یو کے طلبہ کو تحقیق اور علمی ترقی کی تحریک دی

 

علی گڑھ، 2 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے زیر اہتمام انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، موہالی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منجری جین کا ایک لیکچر منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ کو تحقیقی پیشوں اور علمی ارتقاء سے متعلق اہم معلومات فراہم کی گئیں۔

 

ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کے طلبہ سے ڈاکٹر جین کا تعارف کراتے ہوئے پروفیسر عروس الیاس نے کہاکہ ”جب اس سطح کے سائنس داں یونیورسٹی میں تشریف لاتے ہیں، تو ہم صرف سامع نہیں ہوتے، بلکہ ان سے علمی طورپر فیضیاب ہوتے ہیں۔”

 

ڈاکٹر جین، جو ایک تجربہ کار ماحولیاتی سائنس داں ہیں، نے انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس، بنگلور سے پی ایچ ڈی اور یونیورسٹی آف زیورخ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی تجربات کو طلبہ کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے طلبہ کو تحقیق پر مبنی کیریئر بنانے کے لیے قیمتی مشورے دیے۔ انہوں نے ایم ایس سی کے بعد طلبہ کو درپیش عام سوالات جیسے کہ پی ایچ ڈی کرنی چاہیے یا نہیں، آئی آئی ایس ای آر جیسے اہم اداروں میں داخلے کی شرائط، اور مسابقتی علمی ماحول میں کامیابی کے لیے درکار مہارتوں کے فروغ پر گفتگو کی۔

 

لیکچر کا ایک اہم پہلو سائنسی کانفرنسوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی رہنمائی تھی۔ انہوں نے ”ایلی ویٹر پِچ” یعنی اپنے تحقیقی کام کی مختصر اور مؤثر انداز میں پیشکش کی اہمیت پر زور دیا اور سینئر سائنس دانوں سے روابط قائم کرنے کے عملی طریقے بھی بتائے۔

 

ڈاکٹر جین نے ایک مکالماتی سیشن کی بھی قیادت کی، جس میں سائنسی سوالات تشکیل دینے کے عمل پر بحث کی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایچ ڈی تحقیق کا سب سے مشکل اور اہم مرحلہ مناسب سوال کی نشاندہی اور ڈیٹا سے بامعنی نتائج اخذ کرنا ہوتا ہے۔

 

پروگرام کا اختتام ریسرچ اسکالر اَرشیان شاہد کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔

 

٭٭٭٭٭

 

نشہ مُکت بھارت ابھیان کے تحت اے ایم یو اور جے این ایم سی کے اشتراک سے منشیات کے خاتمے پر بیداری پروگرام کا انعقاد

 

علی گڑھ، 2 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی این ایس ایس یونٹ نے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے فارماکوویجیلنس پروگرام کے تحت اے ڈی آر مانیٹرنگ سینٹر کے اشتراک سے ”نشہ مُکت بھارت ابھیان” کے تحت ایک عوامی بیداری پروگرام کا انعقاد کیا۔

 

اس موقع پر شعبہ فارماکولوجی، جے این ایم سی کے صدر پروفیسر سید ضیاء الرحمن نے بطور کلیدی مقرر نشے کی لت سے پیدا ہونے والے سنگین صحت، معاشرتی اور اقتصادی نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نشے کی عادت کی سائنسی تشریح پیش کی اور اس کی روک تھام اور بحالی کے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے این ایس ایس رضاکاروں کو اپنی پُراثر گفتگو کے ذریعے نشہ سے پاک سماج کے قیام میں متحرک کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

 

پروگرام کے آغاز میں این ایس ایس پروگرام آفیسر ڈاکٹر منصور عالم صدیقی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور پروفیسر ضیاء الرحمن کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے این ایس ایس کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر محمد محسن خان کی کوششوں کو بھی سراہا جن کی قیادت میں این ایس ایس کے تحت کئی مؤثر پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔

 

اس موقع پر بڑی تعداد میں این ایس ایس کے رضاکاروں اور اساتذہ نے جوش و خروش سے شرکت کی۔ پروگرام میں ڈاکٹر نوشاد، ڈاکٹر نازیہ، ڈاکٹر شیبا نُزہت، ڈاکٹر عبدالجبار، ڈاکٹر حنیف، ڈاکٹر قرۃ العین اور ڈاکٹر عزیر جیسے پروگرام افسران بھی موجود رہے۔

 

پروگرام کی نظامت جناب نعیم احمد نے کی، جب کہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر شعیب نے پیش کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے محققین کو سانس کے ذریعے ذیابیطس کی تشخیص کرنے والے سینسر کی ایجاد پر پیٹنٹ حاصل

 

علی گڑھ، 2 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا کے ڈاکٹر محمد زین خان اور پروفیسر سہیل صابر کی قیادت میں کام کرنے والی محققین کی ایک ٹیم کو ایک نہایت حساس الیکٹرو کیمیکل سینسر کی تیاری پر ہندوستانی پیٹنٹ دیا گیا ہے، جو انسانی سانس میں ایسیٹون کی شناخت کے ذریعے ذیابیطس کی ابتدائی تشخیص میں معاون ہوگا۔

 

ٍ یہ جدید سینسر نہ صرف بنانے میں آسان ہے بلکہ استعمال میں بھی سہل ہے اور یہ مائیکرو مولر کی مقدار میں ایسیٹون کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے ایک مؤثر غیر جارحانہ تشخیصی آلہ بناتا ہے۔ ایسیٹون ایک مستحکم حیاتیاتی نشان (بایومارکر) ہے جو سانس میں پایا جاتا ہے اور ذیابیطس کی تشخیص سے منسلک ہے۔

 

ڈاکٹر خان اور پروفیسر صابر کے ساتھ اس تحقیقی ٹیم میں ڈاکٹر عادل شفیع غنی اور ڈاکٹر سائمہ سلطانہ بھی شامل ہیں۔ اس ایجاد سے سستے اور فوری تشخیص کے آلات کی تیاری کی راہ ہموار ہوتی ہے، جو ذیابیطس کی بروقت شناخت اور اس کے مؤثر نظم و نسق میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

 

ڈاکٹر زین خان، جن کی تحقیق الیکٹرو کیمیکل سینسر اور ’پوائنٹ آف کیئر‘ ٹیکنالوجی پر مرکوز ہے، اب تک 100 سے زائد تحقیقی مقالات شائع کر چکے ہیں، 1.2 کروڑ روپے سے زیادہ کی تحقیقی اسکیمیں مکمل کر چکے ہیں اور انھیں اے ایم یو کا ”آؤٹ اسٹینڈنگ ریسرچر ایوارڈ”، ”بیسٹ اورل پریزینٹر ایوارڈ” اور ”مولیکیول ایوارڈ” سمیت کئی اعزازات حاصل ہو چکے ہیں۔ ان کی تحقیق کو 5700 سے زیادہ بار حوالہ دیا گیا ہے اور ان کا ایچ-انڈیکس 40 اور i10-انڈیکس 80 ہے۔

 

ڈاکٹر خان نے کہا: ”یہ ایجاد نہ صرف صحت کے شعبے بلکہ ماحولیاتی اور سماجی میدانوں میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ذیابیطس کی بروقت شناخت مریضوں کو طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی لا کر مرض کو بہتر طریقے سے قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے”۔

 

اس سے قبل بھی ڈاکٹر خان کو کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ کی نگرانی کے لیے رئیل ٹائم سینسر تیار کرنے پر پیٹنٹ حاصل ہو چکا ہے، جو ان کے سائنسی، ٹیکنالوجی اور صحتِ عامہ کے شعبے میں تسلسل سے کیے جانے والے کام کو ظاہر کرتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے محقق کی نَٹ کارسینوما کی تشخیص و علاج کے عالمی رہنما اصولوں کی تیاری میں ماہر رکن کی حیثیت سے شرکت

 

علی گڑھ، 2 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات کے کینسر محقق ڈاکٹر حفظ الرّحمن صدیق کو این یو ٹی کارسینوما کی تشخیص اور علاج سے متعلق دنیا کی پہلی بین الاقوامی گائیڈ لائنز کی تیاری میں ماہر رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ رہنما اصول معروف تحقیقی جریدے دی اِنّوویشن میں شائع ہوئے ہیں، جو سیل پریس سے منسلک ہے اور جس کا پانچ سالہ امپیکٹ فیکٹر 40 اور سال 2024 کا امپیکٹ فیکٹر 25.7 ہے۔ اس سے قبل، ڈاکٹر صدیقی کو ٹیومر ڈسکوری (Tumor Discovery) میں شائع NUT کارسینوما پر مبنی دنیا کے پہلے ”ایکسپرٹ کنسینسس گروپ” (ماہرانہ اتفاقِ رائے گروپ) میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

 

ڈاکٹر صدیق ان رہنما اصولوں میں تعاون کرنے والے دنیا بھر کے 175 سائنس دانوں میں واحد ہندوستانی محقق ہیں۔ ان سائنس دانوں میں امریکہ، برطانیہ، چین، اٹلی، اسرائیل، سویڈن، پرتگال، اسپین، پولینڈ، برازیل، ناروے، یونان، آسٹریا، سنگاپور اور جاپان کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ گائیڈ لائنز اب سائنس ڈائریکٹ پر عوام کے لیے دستیاب ہیں۔

 

ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ اگرچہ این یو ٹی کارسینوما کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کی تشخیص اور علاج کے لیے کوئی جامع عالمی رہنمائی موجود نہیں تھی۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے 90 اداروں کے محققین، جن میں یونیورسٹیاں، دوا ساز کمپنیاں اور اسپتال شامل ہیں، نے مل کر ثبوت پر مبنی یہ سفارشات مرتب کیں۔

 

این یو ٹی کارسینوما کی پہلی بار شناخت 1991 میں ہوئی تھی۔ یہ ایک نایاب اور نہایت جارحانہ قسم کا کینسر ہے، جس میں این یو ٹی ایم 1جین کی دوبارہ ترتیب دیکھی جاتی ہے۔ اس بیماری میں اوسط زندگی کی امید صرف 6 سے 9 مہینے ہوتی ہے اور صرف 20 تا 30 فیصد مریض ہی دو سال تک زندہ رہ پاتے ہیں۔

 

کینسر بایولوجسٹ ڈاکٹر صدیق کو حال ہی میں ”ایڈیٹر آف ڈسٹنکشن ایوارڈ 2025“سے نوازا گیا ہے۔ وہ اب تک 132 تحقیقی مقالے شائع کر چکے ہیں جن کا مجموعی امپیکٹ فیکٹر 700 ہے اور فی مقالہ اوسط امپیکٹ فیکٹر 6.7 ہے۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے چار طلبہ کا ایمیزون میں تقرر

 

علی گڑھ، 2 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے غیر ملکی زبانوں کے شعبہ کے چار طلبہ کو امریکہ کی معروف ملٹی نیشنل کمپنی ایمیزون میں تقرری حاصل ہوئی ہے۔ ایمیزون ای-کامرس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے میدانوں میں عالمی رہنما کمپنی ہے۔

 

یہ تقرری اے ایم یو کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) کے زیرِ اہتمام منعقدہ بھرتی مہم کے دوران عمل میں آئی۔ کئی مراحل پر مشتمل جانچ کے بعد جن طلبہ کا انتخاب کیا گیا، ان میں انس احمد خان (ایم اے فرانسیسی)، ثمر وارثی (ایم اے جرمن)، اظہر ضیاء (بی اے جرمن) اور اشتیاق عالم (بی اے ہسپانوی) شامل ہیں۔ انہیں سینئر ایسوسی ایٹ اور ایسوسی ایٹ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

 

ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر (جنرل) جناب سعد حمید نے طلبہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ یونیورسٹی کی معیاری تعلیم و تربیت کا بھی مظہر ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

قرآن کریم کی پہلی وحی علم کی حصولیابی کی راہنمائی کرتی ہے: پروفیسر محمد حبیب اللہ

 

علی گڑھ، 2 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہئ سنی دینیات میں ریسرچ اسکالرس کا پندرہ روزہ مقالہ خوانی پروگرام منعقد ہواجس کی صدارت فیکلٹی کے ڈین اور صدر شعبہ پروفیسر محمد حبیب اللہ نے فرمائی۔ انہوں نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کی پہلی وحی علم کی حصولیابی کی طرف راہ نمائی کرتی ہے۔اس لئے علم حاصل کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے اور اپنے وقت کو مکمل کارآمد بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے موسم گرما کی تعطیل کے بعد ہونے والے اس پروگرام پر خوشی ظاہر کی اور طلبہ کو مسلسل انہماک کے ساتھ ان جیسے پروگراموں میں شرکت کی ہدایت کی۔

 

شعبہ کے استاذ پروفیسر محمد راشد اصلاحی نے کہا کہ بنیادی چیز ہے؛خیرکم من ینفع الناس۔ اس لئے اپنے آپ کو نافع بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انسان دنیا میں عزت و سر بلندی چاہتا ہے اور عزت و سربلندی کے حصول کا واحد ذریعہ تعلیم ہے اس لئے تمام طلبہ اپنے وقت کا خاص خیال رکھتے ہوئے اپنے آپ کو تعلیمی مشاغل سے منسلک رکھیں۔

 

شعبہ کی ریسرچ اسکالرراشدہ خورشید نے ”مغل سلطنت میں سائنس و ٹکنالوجی“ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا جس میں سلطنت مغلیہ کے اہم کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے فن طب،فن تعمیر،فن خطاطی وغیرہ پر تفصیلی گفتگو کی۔ دوسرے مقالہ نگا ر محمد عاصم مبشر ریسرچ اسکالرنے مولانا عبد اللہ انصاری کی حیات و خدمات پر اپنا مفصل مقالہ پیش کیا جس میں مولانا انصاری کے سوانحی خاکہ پر روشنی ڈالتے ہوئے شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ان کی خدمات کا ذکر کیا ان کی دیوبند اور علی گڑھ کے مابین کی خلیج کو پر کرنے کی کاوشوں پر روشنی ڈالی نیز بحیثیت ناظم دینیات اول مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ان کے کارناموں پر مفصل گفتگو کی۔

 

پروگرام میں شعبہ کے استاذ ڈاکٹرمحمد ناصر،ڈاکٹر حبیب الرحمن اور دیگر حضرات بالخصوص ڈاکٹر محمد حماد نے بھی شرکت فرمائی۔ نظامت کے فرائض زاہد علی، ریسرچ اسکالر نے انجام دئے۔

Comments are closed.