مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ

2 اگست یوم وفات پر خصوصی مضمون

 

ڈاکٹر سراج الدین ندوی

صدر کاروان ادب بجنور

9897334419

مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ؒ جن کا اصل نام معزالدین اور کنیت ابوالقاسم تھی ۰۱/جنوری ۱۰۹۱ء میں سیوہارہ ضلع بجنور یوپی میں پیدا ہوئے،حفظ الرحمان آپ کا تاریخی نام ہے۔ آپ کے جد امجدقاضی حسن سنجانی سیوہارہ آنے والے پہلے مسلم فرد ہیں جو مع اہل و عیال یہاں آباد ہوئے۔ آپ کا خاندان ہمیشہ علمی خاندان رہا۔آپ کے ایک بھائی حکیم صلاح الدین تھے جو میدان طب میں کمال رکھتے تھے۔ایک بھائی مولوی بدرالدین تھے جو پیشے سے وکیل تھے،ایک بھائی مولوی فخرالدین تھے جو ڈپٹی کلکٹر تھے۔آپ کے والد حاجی شمس الدین صدیقی ؒنے اپنے شیخ عبدالرحمان گنج مرادآبادی کے مشورے پرآپ کو علوم عربیہ اسلامیہ کی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی تعلیم گھر کے مکتب میں حاصل کی، سال بھر کے قریب مدرسہ قاسمیہ شاہی مسجد مرادآباد میں زیر تعلیم رہے۔ اس کے بعد دورہئ حدیث تک کی تعلیم مدرسہ فیض عام سیوہارہ میں مکمل کرکے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے، جہاں حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ سے دوبارہ دورہئ حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ کی علمی لیاقت کے پیش نظر دارالعلوم دیوبند میں آپ کو معین المدرس کی خدمت سپرد کی گئی۔ کچھ دنوں کے بعد آپ اپنے اکابر اساتذہ کی خواہش پر پارم پیٹ(تامل ناڈو) چلے گئے،جہاں تعلیمی وتدریسی خدمات کے ایسے گہرے نقش چھوڑے جو لازوال اور لافانی بن گئے۔ وہاں سے آپ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (گجرات) تشریف لے گئے۔ ڈابھیل میں آپ تقریباً ڈھائی سال رہے۔ وہاں ہر علم وفن کی کتابیں پڑھانے کے بعدآپ کی علمی وتدریسی قابلیت حلقہ علماء میں مسلم ہوگئی۔آپ دارالعلوم جامع مسجد چلہ امروہہ کے مہتمم بھی رہے۔اپنی مصروف سیاسی زندگی شروع کرنے سے قبل اپنے مادر علمی مدرسہ فیض عام سیوہارہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔

مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ؒبچپن سے ہی ذہین تھے۔وہ ہمیشہ تعلیم اور مطالعہ میں غرق رہتے تھے۔انھیں خوش گپیوں اور کھیلوں میں کوئی خاص دل چسپی نہ تھی۔سادہ کھانا کھاتے اور سادہ کپڑے پہنتے۔اساتذہ اور بزرگوں کا احترام کرتے تھے۔ان کی انھیں خوبیوں نے انھیں ہر دل عزیزبنادیا تھا۔ان کے اساتذہ میں علامہ انورشاہ کشمیریؒ جیسی جلیل القدر شخصیت کا نام شامل ہے۔علامہ آپ کے صرف استاذ ہی نہ تھے بلکہ مربی بھی تھے۔ مولانا حفظ الرحمان ؒ ان کے خاص شاگردوں میں شامل تھے۔استاذ اپنے شاگرد کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ اپنے مطالعہ کے کمرے میں ایک گوشہ حفظ الرحمان صاحب کو عطا کردیا۔ اس طرح مولانا نے علامہ انور شاہ کشمیری ؒ سے خوب فیض حاصل کیا۔

مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ؒ کی طبیعت میں خدمت خلق کا جذبہ فطری تھا۔وہ کم عمری سے ہی اس طرف راغب تھے،دوران طالب علمی اپنے ساتھیوں کی مدد کرتے تھے۔ حالانکہ خود بھی کسی زمین دار گھرانے سے تعلق نہ تھا۔اس کے باوجود حسب استطاعت اپنے احباب پر خرچ کرتے تھے۔خدمت خلق کا جذبہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔ایک بار سیوہارہ کے قریب میوانوادہ ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کا ایک حادثہ پیش آگیا۔زخمیوں کی چینخ و پکار سے پوری فضا کراہ اٹھی،ہر طرف لاشوں کے چتھڑے قیامت کا منظر پیش کررہے تھے۔مولانا حفظ الرحمان ؒ کی عمر بیس سال تھی۔انھیں معلوم ہوا تو پیدل ہی سات کلومیٹر چل کر وہاں پہنچے اور دو دن رات بغیر کچھ کھائے پئے انسانوں کی خدمت کی۔سیوہارہ میں ایک جذامی شخص کی موت ہوگئی،کوئی اسے غسل دینے کو تیار نہ تھا،اس کے اپنے گھر والے بھی اس کو چھونے کے روادار نہ تھے۔مولانا کو معلوم ہوا تو اس شخص کی تجہیز و تکفین کا سارا عمل انجام دیا۔یہی جذبہ آزادی کے بعد پھوٹ پڑنے والے بھیانک فرقہ وارانہ فساد اور آزادی کے بعد ہونے والے فسادات میں انھیں آسام سے پنجاب تک لے گیا۔انھیں جب بھی فسادات کی خبر ملتی وہ بے چین ہوجاتے،آخری عمر میں بیماریوں کے باوجود وہ فساد متاثرین کے پاس جاتے رہے،ایسا لگتا تھا کہ اس فسادات میں ان کے اہل خانہ کو چوٹ پہنچی ہے۔ ان کا اضطراب دیکھنے کے قابل ہوتا تھا۔

مجاہد ملت کی ایک خوبی ان کی جرأت و بیباکی ہے۔انھوں نے زندگی کے کسی مقام پر بزدلی نہیں دکھائی۔انھوں نے انگریز حاکم سے کبھی معافی نہیں مانگی،کبھی اپنی رہائی کی درخواست تک نہیں کی۔ایک شخص نے مہاتما گاندھی کی پرارتھنا سبھا میں شرکت کا فتویٰ معلوم کیا۔آپ نے صاف لکھ دیا کہ ان کی پرارتھنا سبھا میں کسی مسلمان کا شریک ہونا جائز نہیں۔جب کہ اس وقت آپ کانگریس کی حمایت کررہے تھے۔گاندھی جی کے شانہ بشانہ جنگ لڑ رہے تھے۔لیکن دین کے معاملہ میں کوئی مداہنت نہیں برتی اور کمال بیباکی سے فتویٰ صادر فرمادیا۔1951میں آپ سے ایک اجلاس کے دوران کچھ مسلم لیگیوں نے کشمیر کے متعلق سوال کیا کہ اس کا الحاق ہندوستان سے ہونا چاہئے یا نہیں۔آپ نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کشمیر ہندوستان کے ساتھ رہے تاکہ کوئی ایک ایسی ریاست بھی ہو جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں۔آخری دنوں میں آپ نے مسلم کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا۔پنڈت نہرو جو اس وقت وزیر اعظم تھے نہیں چاہتے تھے کہ یہ کنونشن ہو۔انھوں نے خود مولانا سے منع بھی کیا تھا۔کسی شخص نے ان سے سوال کیا کہ:”پنڈت جی کی قطعی مخالفت کے بعد بھی آپ یہ کنونش بلائیں گے؟“ آپ نے جواب میں کہا‘”ہم نے یہ کنونشن خوب سوچ سمجھ کر بلایا ہے۔ہم ان کی مخالفت کے ڈر سے یہ کنونشن ملتوی کردیں یہ ممکن نہیں۔“

مولانا بہت باہمت اور باحوصلہ انسان تھے۔وہ کئی مرتبہ انگریزوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سفر کرتے رہے۔1932میں کانگریس نے ممبئی میں ایک اجلاس طلب کیا۔ جس میں ”کوئٹ انڈیا“ کی تجویز پاس ہونا تھی۔برٹش سرکار کو خبر لگ گئی۔اس نے ہر کانگریسی کے گرد پہرہ بٹھادیا کہ وہ سفر نہ کرسکے۔مولانا سیوہارہ میں ہی تھے۔جب نکلنے کی کوئی سبیل نہ دکھائی دی تو آپ نے ایک دیہاتی کی وضع قطع اختیار کی اور گھاس کا ایک گٹھر سر رکھااورکئی کلومیٹر جنگل میں پیدل چل کر ایک غیر معروف ریلوے اسٹیشن سے سوار ہوگئے اور ممبئی پہنچ گئے۔آپ کی زندگی میں ایسے ایک دو نہیں بے شمار واقعات ہیں۔

مولانا صلح جو طبیعت کے مالک تھے۔ان کی پوری زندگی بین المسالک مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے اور بین المذاہب اسلام اور غیر اسلام میں روادارانہ رویہ پیدا کرنے میں صرف ہوئی۔وہ اگرچہ دیوبند کے تعلیم یافتہ تھے اور حنفی تھے لیکن انھوں نے اپنے مسلک کو تھوپنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔کبھی انھوں نے مسلک اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی،وہ مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کا احترام کرتے تھے،وہ مہاتما گاندھی کو عزت دیتے تھے،البتہ حق کے مقابلہ میں وہ اپنوں کا بھی پاس نہیں رکھتے تھے۔یہ صفت بھی ان کے اندر بچپن سے ہی تھی۔ایک مرتبہ پڑھ کر آرہے تھے،دیکھا کہ راستے میں دو لوگ جھگڑا کررہے ہیں،کوئی ان میں صلح کرانے کی ہمت نہیں کررہا تھا،مولانا جن کی عمر صرف سولہ سال تھی،آگے بڑھے اور ان دونوں کو سمجھا کر صلح کرادی۔

مولانا بہت دور اندیش اور بابصیرت انسان تھے۔انھوں نے جو بھی فیصلے کیے وہ ان کی بصیرت کی روشن دلیل ہیں۔ان کا موقف حقیقت پسندانہ ہوتا تھا۔کانگریس نے جب آزادی کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا تو مسلمان پس و پیش کا شکار تھے۔جمعیۃ العلماء اس وقت تک کانگریس کا حصہ نہیں تھی۔بڑے بڑے علماء کانگریس کے شانہ بشانہ تحریک آزادی میں شرکت کو مناسب نہیں سمجھتے تھے۔مولانا حفظ الرحمان ؒ کا موقف تھا کہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔ان کا خیال تھا کہ انگریزوں کی آمد سے لے کر ملک پر قبضہ کرنے تک مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔اب جب کہ ملک آزاد ہوسکتا ہے تو مسلمان کیوں پیچھے رہیں اگر ہم نے آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیا تو آزادی کے بعد ہمیں درکنار کردیا جائے گا ۔ ہم شان سے سر اٹھا کر چلنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔چنانچہ آپ نے ایک رزولیوشن تیار کرکے جمعیۃ العلماء کے ذمہ داران تک پہنچا دیا۔اسے اخبارات میں شائع کرادیا تا کہ رائے عامہ ہموار ہوسکے۔اسی کے ساتھ انھوں نے جمعیۃ علمائے ہند کے اجلاس عام (5/مئی 1930ء) امروہہ یوپی میں تحریک آزادی میں شرکت کی تجویز پیش کی۔اس وقت مولانا کی عمر محض انتیس سال تھی۔اس تجویز کو پہلے تو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن مولانا کے دلائل نے جمعیۃ کی قیادت کو قائل کرلیا اور تجویز پاس ہوگئی۔

اس لحاظ سے اجلاس امروہہ میں مجاہد ملتؒ نے کانگریس کے ساتھ آزادی کی تحریک میں شرکت اور تعاون کی جو تجویز پیش کی تھی، وہ ان کی حریت پسند، عزت نفس، خودداری اور باوقار مستقبل کے جذبات کا تقاضا تھا اور جمعیہ علمائے ہند کے اکابر کی موجودگی میں نوجوان حفظ الرحمن کو اس اقدام نے قائدانہ حیثیت بھی دے دی تھی اور اس وقت سے آپ جمعیۃ علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے رکن بنادیے گئے۔ جمعیۃ کی تاریخ میں اجلاس امروہہ کا یہ فیصلہ ایک انقلابی فیصلہ تھا، جس نے جمعیۃ علمائے ہند کو انڈین نیشنل کانگریس کے شانہ بشانہ اپنی جماعتی قوتوں کے ساتھ براہ راست تحریک آزادی سے مربوط کردیاتھا۔ مجاہد ملتؒ جمعیۃ علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے رکن رکین کی حیثیت سے اجلاس امروہہ کے بعد برابر اس کی قیادت میں شریک کاررہے۔مارچ 1942ء میں مجاہد ملتؒ نے جمعیۃ العلماء کی نظامت عمومی کی ذمہ داری سنبھالی لیکن چند ہی مہینوں کے بعد ”کوئٹ انڈیا“ تحریک پورے ملک میں برپا ہوگئی دوسرے قائدین کے ساتھ مجاہد ملتؒ بھی نظر بند کردیے گئے۔دوسال بعد جب14/جولائی1944ء کو رہا ہوئے تو ملک انقلاب آزادی کے دروازے پر کھڑا تھا۔ دہلی اور لندن میں ہندوستان کے مستقبل کے خاکے تیار ہورہے تھے۔ تاریخ کے اس فیصلہ کن مرحلہ پر جمعیۃ کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ ملک کے مستقبل کے سلسلے میں اپنا نقطہ نظر واضح کرے۔ مجاہد ملتؒ نے وقت کی اس اہم ضرورت کو محسوس کیا۔ سب سے پہلے مئی 1945ء میں دہلی میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کا اہتمام کیا اور اس کانفرنس کے متفقہ فیصلہ کے مطابق مسلم پارلیمنٹری بورڈ کی تشکیل ہوئی جس کے چیئرمین شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ بنائے گئے۔ اس کے بعد مئی 1947ء میں جمعیۃ کا اہم اجلاس لکھنؤ میں منعقد کرایا اور لندن سے آنے والے مختلف وفود کے سامنے بھی اور خود کانگریس کے ارباب حل وعقد پر بھی جمعیۃ علمائے ہند کے اس موقف کی وضاحت فرمائی کہ تقسیم ہند کا فارمولہ ملک اور قوم دونوں کے لیے نہایت ضرر رساں ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی وحدت کو برقرار رکھنے پر پورا زور دیا اور آخر تک اس کے لیے کوشاں رہے۔

مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان ؒ نے آزاد ہندوستان کی جمہوری زندگی میں ملت اسلامیہ کی حفاظت، اس پر منڈلاتی ہوئی آفات ومشکلات کو دور کرنے کی خاطر بے شمار خدمات انجام دی تھیں۔ جن میں دینی تعلیم کی ملک گیر تحریک،دینی تعلیمی کنونشن ممبئی، ممبئی وقف ایکٹ، کیرالہ تعلیمی بل، حیدرآباد پولیس ایکشن، کسٹوڈین کاعذاب، تارکین وطن کی واپسی، حج ایکٹ،اردو کا مسئلہ، فرقہ وارانہ فسادات اور مسلم کنونشن کا انعقاد جیسے معاملات سرفہرست ہیں۔8۔9/جنوری 1955ء کو ممبئی میں ملت اسلامیہ ہند یہ کاتاریخی اجتماع کل ہند دینی تعلیمی کنونشن جمعیۃ علمائے ہند کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ جو اپنی افادیت اوروحدت فکر وعمل کے لحاظ سے مسلمانوں کی تاریخ کا بے مثال اجتماع تھا جہاں ملت کے تمام گروہ حنفی، شافعی، مقلد، غیر مقلد، شیعہ سنی،دیوبندی بریلوی، حسینی فاطمی، خوجے، بوہرے، ان کے علاوہ ہر مکتبہئ فکر کے ماہرین تعلیم ودانشور، قانون داں ملک کے گوشے گوشے سے آئے اور وحدت کلمہ کی بنیاد پر ایک خالص دینی نصب العین کے لیے سرجوڑ کر بیٹھے اور صفائی قلب وذہن کے ساتھ دینی تعلیمی مہم کو اپنا کراٹھے اور اتحاد عمل کا ایک یادگار نمونہ تاریخ کے حوالہ کرگئے۔ اس تاریخی اجتماع کے اہتمام کی تمام ذمہ داری مجاہد ملتؒ کے کاندھوں پر تھی۔

مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ؒ ایک بہترین منتظم بھی تھے جس کا مظاہرہ انھوں نے جمعیۃ کی نظامت کے دوران کیا،وہ سیاسی مدبر تھے جس کی شہادت ان کے تمام سیاسی اقدامات سے ہوتی ہے،وہ محب وطن تھے،جس کی گواہ ہندوستان بھر کی جیلیں ہیں،وہ نڈر اور بہادر تھے اس کا اظہار ان کے بیانات سے ہی نہیں عملی زندگی سے بھی ہوتا رہا،اسی کے ساتھ وہ بہترین معلم تھے جس کے گواہ ان کے وہ شاگرد ہیں جنہوں نے ا ن کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ان کی تحریریں مدلل اور موئثر تھیں،جو قصص القرآن میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مولانا حفظ الرحمن ؒ سیوہاروی ہندوستان کی جدید تاریخ کے معماروں اور ایسے مجاہدوں میں تھے جن کی زندگی آخری سانس تک قوم اور ملک کے کام آئی۔ مجاہد ملت کو ان کی ایمانی فراست، علمی رفعت، سیاسی بصیرت، بے پناہ جرأت، غیر معمولی تدبر، پرجوش خطابت، فکر کی پختگی، ارادہ کی مضبوطی، جذبہ کی توانائی اور ان کے عظیم کارناموں نے ملی تاریخ کا ایک شاندار کردار بنادیاتھا۔ مسلمانوں کو سربلند کرنے کی ان کے دل میں ایک سرگرم تڑپ تھی جس نے ان کو شب وروز متحرک رکھا۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی آواز تھے، ان کا سہارا تھے اور ان کی امید تھے، انہوں نے جس شدید بے چین روح کے ساتھ زندگی بھر مسلمانوں کی بہبود کے لیے بے لوث خدمت کی، اس نے ان کی شخصیت کو حسن عمل کا ایک ہمہ گیر ادارہ بنادیاتھا۔

مجاہد ملت نے جس وقت سے عملی زندگی میں قدم رکھا تھا خود پر توجہ دینے کا وقت ان کے پاس نہیں رہا تھا۔وہ اس شعر کا مصدق تھے:

قوم کا غم مول لے کر مجھ کو آسانی ہوئی

یاد بھی آتی نہیں اپنی پریشانی مجھے

انھیں نہ یہ یاد رہا کہ ان کی اولاد بھی ہے جس کے مستقبل کے لیے کچھ مال و دولت اکٹھا کرنا ہے،ان کے لیے مکان و محلات بنوانے ہیں،انھیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ان کے بھائی اور عزیزو اقارب بھی ہیں جن کو اپنے سیاسی رسوخ کی بنا پر کچھ فائدہ پہنچادوں،انھیں تو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ وہ خود کتنے بیمار ہیں۔انھیں کینسر جیسا موذی مرض تھا جو ہندوستان سے لے کر امریکہ تک علاج کرانے کے باوجود ٹھیک نہ ہوسکا یہی مرض ان کی وفات کا سبب بنا ساری عمر دہلی میں کرائے کے مکان میں زندگی گزاردی۔نہ پارلیمنٹ کی ممبری سے ذاتی فائدہ اٹھایا نہ وزارت سے،نہ جمعیۃ کی صدارت سے،قیمتی تحائف قبول کرنے تک سے انکار کردیا۔جو تحائف ملے انھیں جمعیۃ کے بیت المال میں جمع کردیا۔یہاں تک کہ اپنے انتخاب کا خرچ بھی خود ہی برداشت کیا۔کبھی پارٹی فنڈ سے ایک روپیہ نہیں لیا۔لوگ آپ کی دعوتیں کرتے اور لذیذ کھانے پیش کرتے لیکن آپ سادہ ڈش کی طرف ہاتھ بڑھاتے۔ اس کے بھی چند لقمے کھاکر ہاتھ روک لیتے۔اس قدر سادگی کی زندگی جس پر اسلاف کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔آخر کار ساری زندگی مصائب سے لڑنے والا جری و بہادر انسان موت سے اپنی جنگ ہار گیا۔ایک وہی کیا ہار گیا، نہ جانے کتنے دارا و سکندر ہار گئے، موت سے کوئی نہیں جیت سکتا۔کل نفس ذائقۃ الموت۔جس نے ماں کا پیٹ دیکھا ہے اسے قبر کی آغوش میں جانا ہے۔2اگست 1962 جب کہ ابھی صبح کاذب کا اندھیرا پوری طرح دور نہیں ہوا تھا۔اللہ سے قربت و انابت کا اس سے بہتر کوئی وقت نہیں ہوسکتا،اللہ سے خصوصی ملاقات کا یہ بہترین وقت ہے۔اللہ کے نیک بندے اس وقت اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔مجاہد ملت ؒ بھی اس بابرکت اور مستجاب وقت میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔اناللہ ونا الیہ راجعون۔بعد عصر دہلی کے مہندیان قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ جناب قاری طیب ؒ قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے نماز جنازہ پڑھائی۔کم و بیش دولاکھ لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے جو ساری عمر اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی خدمت کرتا رہا۔

مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ کی زندگی کے دو جز ہیں۔ایک بحیثیت عالم دین اور دوسرا بحیثیت سیاسی لیڈر۔مولانا نے زندگی کے دونوں اجزاء کو اپنی ذات میں اس طرح سمولیا تھا کہ بیک وقت دونوں کے مقتضیات کما حقہٗ پورے فرماتے تھے۔اسلام کی تبلغ و اشاعت کے میدان میں جہاں انھوں نے تدریس کا عمل اختیار کیا اور اس دوران قرآن و سنت پر مبنی کتابوں کی تعلیم دی،وہیں انھوں نے ڈھائی سال کلکتہ میں صرف تبلیغ دین ہی کے مقصد سے قیام کیا۔جس میں وہ روزانہ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ بعد نماز عشاء درس قرآن کا اہتمام فرماتے تھے۔اسی ضمن میں انھوں نے کتابیں تصنیف کیں۔یہی کتابیں ان کا ذریعہ معاش تھیں۔اسی کی آمدنی سے وہ اپنے جملہ مصارف برداشت کرتے تھے۔علمی دنیا میں ان کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ المصنفین کا استحکام ہے۔جہاں سے علمی و تحقیقی کتابیں شائع ہوتی ہیں۔بحیثیت سیاسی لیڈر اور مدبر ان کے کارنامے اس قدر ہیں کہ ان کو چند صفحات میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔

ان کی تصانیف درج ذیل ہیں۔

٭ قصص القرآن ٭البلاغ المبین فی مکاتیب سید المرسلین٭اسلام کا اقتصادی نظام ٭اخلاق اور فلسفہ اخلاق٭نورالبصر فی سیرۃ خیر البشر٭فلسفہئ ختم بنوت ٭ولات اولیاء

Comments are closed.