مشرقِ وسطیٰ اور اُمّتِ مسلمہ؛ مقدّس ورثہ، مشترکہ دشمن
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون 09422724040
یہ کوئی وقتی یا عارضی حقیقت نہیں، بلکہ تاریخ کے صفحات پر ثبت ایک مستقل منظرنامہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، جسے عربی میں الشرق الأوسط اور انگریزی میں Middle East کہا جاتا ہے، صدیوں سے حق و باطل کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ یہ وہ خطّہ ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام کے قدموں کی خاک مقدس بنی، جہاں آسمانی صحیفے نازل ہوئے، اور جہاں روحانی بیداری کی روشنی نے دنیا کو منور کیا۔
یہی سر زمین ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے قبلۂ اوّل "بیت المقدّس” کا شرف عطاء کیا، اور یہی خطہ ہے جہاں قبلۂ ثانی "خانہ کعبہ” واقع ہے، جو مسلمانوں کے روحانی اتحاد کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خطّہ، دنیائے استعمار، خصوصاً یہود و ہنود کے لیے، ایک مستقل خار کی مانند آنکھوں میں چبھتا چلا آ رہا ہے۔ قرآنِ کریم کے مطابق یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے مخلص دوست نہیں ہو سکتے، اور تاریخ کا مشاہدہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ مگر صرف مذہبی اہمیت ہی اس خطے کو نشانے پر لانے کے لیے کافی نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ قدرتی وسائل، بالخصوص معدنی تیل، کی دولت سے مالا مال ہے۔ یہی سونا نما تیل وہ نعمت ہے جس پر مغربی طاقتوں کی آنکھیں ہمیشہ لالچی نگاہوں سے جمی رہتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے ان پروردہ قوتوں کے لیے یہ خطّہ ایک ایسا خزانہ ہے جس پر قبضہ کرنا ان کا دیرینہ خواب رہا ہے۔
مغربی مزاج کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خود کو برتر و بالا سمجھتا ہے۔ اُس کے لیے مساوات ایک نعرہ ہے، مگر عملاً وہ ہر اس طاقت کو کچل دینا چاہتا ہے جو اُس کے ہم پلہ بننے کی جسارت کرے۔ اگر کوئی ملک، خاص طور پر کوئی مسلم ملک، معاشی خوشحالی یا سائنسی ترقی کی جانب قدم بڑھاتا ہے، تو یہ ترقی مغرب کی پیشانی پر شکنیں ڈال دیتی ہے۔ اگر ایٹمی ٹیکنالوجی جیسے حساس شعبے میں کوئی اسلامی ملک خودکفالت حاصل کرے، تو مغربی اتحاد جو بظاہر امن کا داعی ہے یکایک خطرے کے الارم بجا دیتا ہے۔
اقوامِ متحدہ، جو نظریاتی طور پر عالمی انصاف کا نگہبان ادارہ ہے، درحقیقت مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔ جب امریکا اور اس کے اتحادی کسی مسلم ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، تو اقوام متحدہ کا فورم اُن کے لیے قانونی چھتری فراہم کرتا ہے۔ عراق کی مثال آج بھی تاریخ کے ماتھے پر داغ کی مانند ثبت ہے، جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے محض گمان پر پوری ریاست کو کھنڈر میں بدل دیا گیا، لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا، اور آج تک کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔
یہی حال ایران کے ساتھ کیا جا رہا ہے، اور یہی طرزِ عمل فلسطین، شام، یمن اور لیبیا کے ساتھ برتا گیا۔ ان سب مظلوم اقوام کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ مسلم ہیں، اور کسی نہ کسی درجے میں اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے کوشاں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ محض جغرافیہ، تیل یا تنازعات کی داستان نہیں، بلکہ یہ اقوامِ عالم کی نیتوں، ضمیروں اور عزائم کا آئینہ بھی ہے۔ یہاں جاری جنگ دراصل نظریات کی جنگ ہے، تہذیبوں کا تصادم ہے، اور ظلم و عدل کے درمیان کشمکش ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم اُمّہ اپنی تاریخ سے سبق لے، اپنی صفوں کو درست کرے، اور عالمِ اسلام کو درپیش خطرات کو صرف خارجی نہیں، داخلی کمزوریوں کے تناظر میں بھی دیکھے۔
مشرقِ وسطیٰ: مقدّس سرزمین، عالمی سازشوں کا ہدف
عراق کی سر زمین پر جب مغربی اتحاد، خصوصاً امریکہ، نے ایٹمی ہتھیاروں کے الزامات کی بنیاد پر چڑھائی کی، تو دنیا یہ دیکھنے کی منتظر تھی کہ آخر وہ "مہلک شواہد” کہاں ہیں جنہیں بنیاد بنا کر لاکھوں انسانوں کی جانوں کو داؤ پر لگا دیا گیا۔ وقت نے گواہی دی کہ عراق کی بربادی صرف ایک خام خیالی پر مبنی تھی۔ نہ وہاں کوئی ایٹمی ذخیرہ برآمد ہوا، نہ کوئی "ایٹمی خطرہ” ثابت ہوا۔ جو کچھ ہوا، وہ صرف اتنا تھا کہ ایک مسلم ملک، جس کے پاس وسائل بھی تھے اور خودداری بھی، اسے کمزور کرکے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔
اس کے برعکس ایران، جو کہ ایک مسلم اور نظریاتی ریاست ہے، ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود جب مغربی تلاشی کی دھمکیوں کے سامنے سینہ سپر ہوا، تو دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ وہ امریکہ کی رعونت کے سامنے جھکنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑا رہا۔ بین الاقوامی مبصرین کا خیال تھا کہ ایران کو ایسا کرنا مہنگا پڑے گا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ ایران کی جرأت مندی نے مغربی اتحاد کی کمزوری کو عیاں کر دیا۔ امریکہ، جس کی فوجی طاقت کا شہرہ پوری دنیا میں ہے، صرف بیان بازی تک محدود رہا۔ اس کے اتحادی بھی لفظوں کے تیر چلاتے رہے، مگر عملی اقدام سے قاصر رہے۔
جب کوئی ملک عسکری کارروائی نہ کر سکے، تو سازشوں کا سہارا لیتا ہے۔ یہی کچھ ہم مشرقِ وسطیٰ میں دیکھتے ہیں۔ جہاں امریکہ براہِ راست قبضہ نہ کر سکے، وہاں ریشہ دوانیوں، خفیہ مداخلتوں، خانہ جنگیوں اور لسانی و مسلکی فتنوں کے ذریعے بربادی کا سامان کیا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی بیشتر ریاستیں اس وقت اسی خفیہ جنگ کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔ کبھی انقلاب کے نام پر، کبھی اصلاحات کے عنوان سے، اور کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے۔
درحقیقت امریکی اتحاد کی دوستی محض اپنے مفادات کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ جس تعلق میں صرف سود و زیاں کا حساب رکھا جائے، وہ تعلق تعلق نہیں، ایک عارضی سودا ہوتا ہے۔ جب تک مفاد حاصل ہوتا رہے، تب تک "اسٹریٹجک پارٹنرشپ” قائم رہتی ہے، اور جب مفاد ختم ہو جائے، تو "تم کون؟ اور ہم کون؟” کا انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں ان سابقہ تعلقات کو "نوازشات” کا نام دے کر احسان جتلایا جاتا ہے، حالانکہ وہ سب نوازشیں دراصل ایک سیاسی سرمایہ کاری ہوتی ہیں، جن سے صرف اپنا مفاد حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔
"مشرقِ وسطیٰ” جسے قرآن، حدیث، اور اسلامی تاریخ میں خاص تقدّس حاصل ہے صرف ایک خطّہ نہیں، بلکہ ایک روحانی ورثہ ہے، ایک امانت ہے۔ جہاں ایک طرف خانہ کعبہ اور روضۂ رسولﷺ جیسے مقدّس مقامات ہیں، وہیں دوسری طرف قبلۂ اوّل، بیت المقدّس، بھی اسی خاک میں واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خطّہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے نشانِ عبرت ہے کہ کس طرح دنیاوی طاقتیں، لالچ، خوف اور سازشوں کے ذریعے ایک مقدّس خطے کو مسلسل خون میں نہلا رہی ہیں۔
اگر ہم نقشۂ عالم پر نظر ڈالیں، تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے خطے کے طور پر ابھرتا ہے جو جغرافیائی لحاظ سے تین براعظموں! ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں ایران سے شروع ہوکر عراق، لیبیا، شام، مصر، ترکی، قبرص، فلسطین، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، قطر، اردن، بحرین اور یمن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کے باشندے اکثریتی طور پر مسلمان ہیں، اور ان کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ ایک مشترکہ روحانی رشتہ رکھتی ہے۔ لہٰذا اگر مشرقِ وسطیٰ کو خطۂ مسلم کہا جائے، تو یہ ایک حقیقت کا اعتراف ہوگا، نہ کہ کوئی جذباتی دعویٰ۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت صرف ایک جغرافیائی وحدت نہیں، بلکہ ایک عالمی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں ہر طرح کی سامراجی مداخلت، ہر قسم کی عسکری آزمائش، اور ہر طرز کی سیاسی سازش کو آزمایا جا رہا ہے۔ یہ خطّہ اگر آج بھی سرپا اضطراب ہے تو اس کا سبب صرف بیرونی طاقتیں نہیں، بلکہ داخلی نفاق، قیادت کی نااہلی، اور اُمّتِ مسلمہ کی خواب غفلت بھی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ماضی کی بربادیوں پر نوحہ خوانی نہ کریں، بلکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے بیدار ہوں۔ مشرقِ وسطیٰ کا تحفّظ صرف وہاں کے رہنے والوں کا نہیں، پوری اُمّتِ مسلمہ کا اجتماعی فریضہ ہے۔ بصورتِ دیگر، وہ مقدّس خطّہ جو وحی کا مرکز رہا، خاک و خون کا منظرنامہ بن کر رہ جائے گا۔
مشرقِ وسطیٰ: اتفاقات نہیں، تسلسلِ استحصال
کیا یہ محض ایک سادہ سا اتفاق ہو سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جو کبھی تہذیبوں کا گہوارہ، روحانی پیغام کا مرکز اور قدرتی وسائل سے لبریز خطہ ہوا کرتا تھا آج یکے بعد دیگرے داخلی خلفشار، خارجی مداخلت، خانہ جنگی اور سیاسی ریشہ دوانیوں کی زد میں آ چکا ہے؟ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے تاریخ کی آنکھ بند کرکے اسے محض ایک "اتفاق” تسلیم بھی کر لیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے: یہ اتفاق بار بار، مسلسل، اور صرف اسی خطّے میں کیوں؟ یقیناً یہ کوئی فطری حادثہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی، منظم اور طویل المدتی سازش کا عملی شاہکار ہے ایک ایسی سازش جو ان قوتوں نے ترتیب دی ہے جن کی نفرت اسلام کے خلاف ایک نسلی جنون بن چکی ہے۔ یہود و ہنود کی اسلام دشمنی محض ایک سیاسی مفاد یا وقتی ردّعمل نہیں، بلکہ ایک ایسا متواتر اور موروثی جذبہ ہے جو نسل در نسل ان کے شعور و لاشعور میں منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔
اسلام نے تو صدیوں قبل ہی واضح طور پر متنبہ کیا تھا: "یہود و نصاریٰ ہرگز تمہارے دوست نہیں ہو سکتے”۔ لیکن یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ آج مسلمان ہی اپنی تباہی کے معماروں سے دستِ تعاون دراز کرتے نظر آتے ہیں؟ وہ اقوام جو ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹانے میں فخر محسوس کرتی ہیں، ہم انہی سے معاشی امداد، سیاسی مشورے اور اسلحے کی فراہمی پر ناز کرتے ہیں! ان کی سوچ جارحانہ ہے، ہماری سوچ مصالحتی؛ وہ ہمارے وجود کے درپے ہیں، ہم ان کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر خوشیاں مناتے ہیں؛ وہ ہمارے قبلۂ اوّل پر قابض ہیں، ہم ان کے لیے سرخ قالین بچھاتے ہیں۔
مزید افسوس کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے بعض حکمران، جو اُمّت کی رہنمائی کے دعوے دار ہیں، وہ اپنی سیاسی خوشنودی اور بین الاقوامی تعلقات کے نام پر ایسی ایسی "نوازشات” فرماتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کی روح سے کھلے تصادم میں ہیں۔ حالیہ مثال دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر اور تحفے میں دینا ہے۔ ذرا سوچیے! اگر ایک مسجد کی تعمیر جنّت میں محل کی بشارت ہے، تو ایک مندر، جو شرک کی علامت ہو، اس کی تعمیر کا اخروی انجام کیا ہوگا؟ یہ صرف عقیدے کا نہیں، قیادت، شعور اور خودی کے زوال کا المیہ ہے۔ اور اس زوال کے پیچھے وہی عالمی سازشیں ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کی بربادی کے پس منظر میں جاری و ساری ہیں وہی سازشیں جن کے تانے بانے اسرائیل کے قیام اور اس کے تحفّظ و وسعت سے جڑے ہوئے ہیں۔
صیہونی عزائم، اُمّت کی آزمائش
اسرائیل صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں، بلکہ ایک نظریاتی منصوبہ ہے ایسا منصوبہ جس کی بنیاد مذہبی تفوق، علاقائی بالادستی اور مسلم دنیا کی تقسیم در تقسیم پر رکھی گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کو کمزور کرنا، ان میں خانہ جنگیاں برپا کرنا، ان کی معیشت کو تباہ کرنا اور ان کے حکمرانوں کو کٹھ پتلی بنانا دراصل اسی صیہونی نقشے کا حصّہ ہے۔ ایران پر پابندیاں، عراق کی بربادی، شام کا خانہ جنگی میں جھلس جانا، لیبیا کا شیرازہ بکھر جانا، فلسطین کا مسلسل سلبِ آزادی کا شکار رہنا، اور یمن کی بے بسی یہ سب کچھ اچانک یا اتفاقاً نہیں ہوا۔ یہ ایک طویل سازشی ڈھانچے کی کڑیاں ہیں جو آج بھی نئے نئے انداز میں وجود پذیر ہو رہی ہیں۔ اگر اب بھی مسلم دنیا اس سحر سے نہ جاگی، تو بعید نہیں کہ کل ان کے باقی ماندہ وسائل، شناختیں اور خود مختاریاں بھی رفتہ رفتہ چھن جائیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ نہ صرف اپنی صفوں کو درست کرے، بلکہ قیادت، تعلیم، معیشت اور دفاع کے میدان میں اجتماعی شعور اور نسلی تسلسل کے ساتھ جدوجہد کو اپنائے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن صرف بارود سے نہیں لڑتا، نظریات سے بھی لڑتا ہے؛ وہ صرف سرحدوں پر نہیں، ہمارے نصاب، ہمارے میڈیا، ہماری معیشت اور ہماری ذہن سازی میں بھی داخل ہو چکا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسلام کو صرف ایک مذہب نہیں، ایک انقلاب سمجھتا ہے اور اسی لیے اسے مٹانے میں لگا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ صرف ایک خطہ نہیں، یہ اُمّت کے دل کی دھڑکن ہے۔ اگر دل کو مسلسل زخمی کیا جائے تو پورا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ ہمیں اب محض ردعمل کے بجائے، پیشگی شعور، نظریاتی اتحاد، اور عالمی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اس سازش کا توڑ تبھی ممکن ہے جب ہم شعور کی مشعل جلائیں، بصیرت کے ساتھ دشمن کو پہچانیں، اور اپنے حقیقی دوست و دشمن میں فرق کرنا سیکھیں۔
غفلت میں گم اُمّت: مشترکہ دشمن کی سازشیں
آج اگر کوئی اندھی آنکھ بھی مشرقِ وسطیٰ کے خوں رنگ افق پر نگاہ ڈالے، تو اسے آسانی سے نظر آ جائے گا کہ یہ خطّہ، جو کبھی اسلامی تہذیب، علم و حکمت، اور روحانی عظمت کا مرکز تھا، آج فتنوں کا گڑھ، اور سامراجی سازشوں کی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ یہودی و صیہونی منصوبے جس تسلسل، منصوبہ بندی اور نسلی جنون سے آگے بڑھ رہے ہیں، وہ اپنی جگہ ایک بھیانک المیہ ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ خود اُمّتِ مسلمہ اس تباہی کے سفر میں نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، بلکہ اپنی باہمی چپقلشوں سے دشمنوں کا کام آسان تر بنا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی عقل و فراست فرقہ واریت کے سمندر میں ڈوب چکی ہے۔ ایک اُمّت جو قرآن و سنّت کے پرچم تلے جمع ہو کر پوری دنیا کو عدل و رحمت کا پیغام دے سکتی تھی، آج خود نفاق، تعصب، اور باہمی کدورت کا شکار ہے۔ دشمن، جس کے پاس مذاہب کا تنوع ہے، رنگ و نسل کا اختلاف ہے، جغرافیہ کی تقسیم ہے اس کے باوجود متحد ہے اور ہم، جن کے پاس ایک کلمہ، ایک قرآن، ایک رسولﷺ اور ایک قبلہ ہے ہم منتشر ہیں!
اگر کہیں کوئی امید کی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ چند ہی مسلم ممالک کی قیادت ہے، جو وقتاً فوقتاً سفارتی محاذ پر، عالمی پلیٹ فارمز پر اور زمینی سطح پر بھی، شام اور فلسطین جیسے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے۔ بہت کم ہی صحیح مگر مسلم اجتماعیت کی اس ہمت نے دکھایا ہے کہ اگر نیت صاف ہو، تاریخ سے رشتہ جڑا ہو، اور خودی زندہ ہو، تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ صیہونی تحریک کوئی وقتی یا علاقائی سازش نہیں، یہ ایک صدیوں پر محیط نظریاتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد صرف فلسطین پر قبضہ نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع و عریض "گریٹر اسرائیل” کے تحت لانا ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض جغرافیائی توسیع نہیں، بلکہ ان کے مذہبی مسیحا، جسے "الدجال” کے نام سے جانا جاتا ہے، کے ظہور کی تمہید ہے۔ اس نظریے کے مطابق، گریٹر اسرائیل کی تشکیل ہی وہ بنیاد ہے جس پر وہ اپنے عالمی اقتدار کا خواب تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
یاد رکھیے، صہیونیت کی مضبوطی، مسلم ریاستوں کی کمزوری سے جڑی ہے۔ جب تک ایک ایک مسلم ملک تباہ ہوتا جائے گا، اسرائیل مضبوط ہوتا جائے گا۔ اور جب تک ہم ایک نہ ہوں گے، وہ ہمیں باری باری کھاتا رہے گا۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا کی کوئی بڑی طاقت، کوئی قیادت، کوئی بلاک ایسا نظر نہیں آتا جو صیہونی منصوبے کو للکارنے کی ہمّت رکھتا ہو۔ ایک اُمّت، جو اپنے ماضی میں خلافتِ راشدہ، عباسی، عثمانی، اور مغل جیسی عظیم سلطنتوں کی وارث تھی، آج صرف بیانات، مذمتی قراردادوں اور کانفرنسوں میں زندہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا تھا، جس کے کسی حصّے میں درد ہو تو پورا جسم بے چین ہو جائے۔ مگر آج جنّت نظیر جل رہا ہو، فلسطین رو رہا ہو، شام لہو لہان ہو، یا یمن تباہ ہو رہا ہو تو باقی مسلم دنیا کی رگوں میں سکوت ہی سکوت ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم خواب غفلت سے جاگیں۔ اگر اب بھی ہم نے فرقہ واریت، تعصب، قومی انا اور سیاسی خود غرضی کو ترک نہ کیا، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے مقدّس مقامات بھی دشمن کے نرغے میں ہوں گے، اور تاریخ ہمیں ایک ناکام اور بزدل اُمّت کے طور پر یاد رکھے گی۔ پس ہمیں اپنے ربّ سے معافی مانگنی ہے، اپنے نبیﷺ کی اُمّت ہونے کا حق ادا کرنا ہے، اور اپنی آئندہ نسلوں کے تحفّظ کے لیے ایک اُمّت بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اللّٰہ ربّ العزّت! ہم پر رحم فرمائے، ہماری آنکھیں کھولے، ہمارے قلوب کو جوڑ دے، ہمیں فرقہ پرستی سے نجات دے، اور ہمیں اپنے دشمنوں کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین یا ربّ العالمین)
Comments are closed.