فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا یورپ کی نئی صف بندی یا اسرائیل کے لیے نئی بساط؟
کاشف حسن جامعہ اسلامیہ کیرالا
فلسطین کے تناظر میں عالمی سیاست ایک نئی کروٹ لے رہی ہے۔ مسئلہ فلسطین جو دہائیوں سے اقوام متحدہ کی میز پر دھرا ہوا تھا، اب عوامی ضمیر کے کاندھوں پر سوار ہو کر ایوانوں کی دہلیز پر آ پہنچا ہے۔ آئرلینڈ، ناروے، اسپین اور سلووینیا جیسے یورپی ممالک کا فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا کوئی سادہ سفارتی کارروائی نہیں ہے بلکہ ایک خاموش چیخ ہے، جو 2023-24 کی غزہ پر مسلط قتل عام کے بعد دنیا بھر کے شہریوں، بالخصوص نوجوان نسل کی زبان بنی ہے۔یہ محض اعتراف نہیں ہے ، بلکہ اس عالمی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے جو طاقتور کے ظلم کو معاہدات کے غلاف میں لپیٹ کر دہائیوں تک پیش کرتا رہا۔ یورپ کے کئی ممالک، جو ماضی میں اسرائیل کی حمایت کو سفارتی دانش مندی سمجھتے تھے، اب اپنی نئی نسل کے غیظ و غضب اور بیداری کے سامنے مجبور ہو چکے ہیں۔ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا یہ سب وہ ممالک ہیں جن کی سیاست کا رخ اب عوام کے ہاتھوں موڑنے لگا ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون، برطانوی لیبر قیادت، کینیڈین لبرل اور ترقی پسند گروہ سب اس خاموش طوفان کی دبیز لہروں کو محسوس کر چکے ہیں۔
لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ تسلیم کرنا فی الواقت ایک علامتی عمل ہے، جس کا مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے کارفرما نیتیں مکمل طور پر شفاف نہیں ہیں۔ اسرائیل کو مجبور کرنا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرے ایک مشکل ہدف ہے، لیکن جس طرح سے یورپ کی سیاست، خاص کر دائیں بازو کی حکومتیں فلسطین کے وجود کی بات کر رہی ہیں، وہ اپنی جگہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ بعض طاقتیں دو ریاستی حل کے نام پر فلسطین اتھارٹی اور دیگر "قابل قبول” نمائندوں کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ایک ایسا مصنوعی حل مسلط کرنا چاہتی ہیں جو فلسطینی عوام کی اصل آواز اور ان کی قربانیوں کو نظرانداز کرے۔
اس لیے اگر فرانس برطانیہ سعودی عرب اور اس طرح کے دوسرے ممالک نے جو کہ کھلے عام اسرائیلی لابی کے زیر اثر رہے ہیں۔ صرف اپنی نوجوان نسل کے لیے ان کی اواز پر کوئی دو ریاستی حل پیش کریں گے اور اپنے من پسند پٹھوں کو بٹھانے کی کوشش کریں گے۔تو یہ محض ایک ڈپلومیٹک تماشہ ہوگا جس کا مقصد عالمی ضمیر کو خاموش کرنا ہوگا اور مسئلے کا پائدار حل نہیں ہوگا۔
سات اکتوبر 2023 کے بعد دنیا کا اجتماعی شعور بیدار ہونے لگا ہے ۔ اب فلسطین محض ایک مسلم مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایک عالمی انسانی بحران بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا، گلوبل یوتھ نیٹ ورکس، انڈیپنڈنٹ میڈیا چینلز اور موبائل کیمروں کی آنکھ نے وہ سب دکھا دیا ہے جو پچاس سال تک چھپایا جاتا رہا۔ اب قتل عام کو "حفاظتی کارروائی” کہنا اتنا آسان نہیں رہا۔
یہودی لابی، جو دہائیوں تک مغرب کی سیاست پر غلبہ رکھتی تھی، اب اپنے ہی بوئے گئے بیانیے کے جال میں الجھ چکی ہے۔ نوجوان نسل، جو نسل پرستی اور نوآبادیاتی ذہنیت کے خلاف شعوری بغاوت کر رہی ہے، اب اسرائیل کی جانب سے پیش کیا جانے والا مظلومیت کا بیانیہ مسترد کر چکی ہے۔
اب فلسطین کو تسلیم کرنا اب محض ایک سفارتی عمل نہیں ہے، یہ ایک اخلاقی اعلان ہے، ایک عالمی بیانیے کی شکست ہے۔ اسرائیلی ریاست کو جس تسلسل کے ساتھ اقوام متحدہ میں دفاع ملتا رہا ہے ، وہ اب کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ یہ سفارتی اعترافات، اگرچہ فوری طور پر کوئی زمینی تبدیلی نہیں لا سکتے، لیکن ایک نظریاتی برف کو ضرور توڑ رہے ہیں۔
مگر اس پورے عمل میں ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ وہ ممالک جو آج فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں، کل انہی کے ہاتھوں ایک نیا بیانیہ تیار ہو سکتا ہے۔ فرانس، برطانیہ، امریکہ، حتیٰ کہ سعودی عرب یہ سب کسی نہ کسی مرحلے پر اسرائیلی مفادات کے ضامن رہے ہیں۔ ان کی نیتیں اگر مکمل طور پر صاف ہوتیں، تو سات دہائیاں گزرنے کے باوجود فلسطین ابھی تک ایک جغرافیائی نقشے پر موجود نہ ہوتا، بلکہ زمین پر حقیقی معنوں میں موجود ہوتا۔
لہٰذا حقیقی آزادی اسی وقت ممکن ہو گی جب فلسطینی عوام خود اپنی تحریک کی قیادت کریں، اپنے بیانیے کو خود طے کریں، تبھی زمین، اختیار، اور انصاف کی آزادی ہوگی۔
Comments are closed.