مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے ایس ٹی ایس اسکول میں ’نشہ مکت بھارت‘ مہم کے تحت بیداری پروگرام منعقد
علی گڑھ، 4 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ایس ٹی ایس اسکول (منٹو سرکل) نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے شروع کی گئی قومی مہم ’نشہ مکت بھارت -2047“ کے تحت ایک بیداری پروگرام منعقد کیا۔
اسکول کے اے وی لیب میں منعقدہ اس پروگرام میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے ڈاکٹر علی جعفر عابدی نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے منشیات کی لت کے خطرات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے تعلیم اور بیداری کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ نشہ آور اشیاء کے استعمال کے خلاف جنگ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں والدین، اساتذہ اور طلبہ سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ایس ٹی ایس اسکول کے پرنسپل جناب فیصل نفیس نے ابتدائی سطح پر روک تھام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نشہ ایک خاموش قاتل ہے جو نہ صرف افراد بلکہ پورے کنبہ اور ملک کی ترقی کو مفلوج کر دیتا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو صحت، مقصد اور نظم و ضبط کی جانب راغب کرنا ہوگا۔
آخر میں طلبہ، اساتذہ اور عملہ کے اراکین نے اس بات کا ای-حلف لیا کہ وہ سال 2047 تک منشیات سے پاک ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
پروگرام کی منتظم محترمہ غزالہ تنویر تھیں، جبکہ اس موقع پر وائس پرنسپل ڈاکٹر محمد عالمگیر، جناب نور الزماں ارشد، محترمہ نیلوفر انور، جناب محمد منصور خان سمیت دیگر اساتذہ و عملہ کے اراکین موجود تھے۔
٭٭٭٭٭٭
”ہندوستانی تارکین وطن خواتین: لسانی و ثقافتی شناخت کاتحفظ“ موضوع پر گیان کورس،اختتامی تقریب کے ساتھ تکمیل کو پہنچا
علی گڑھ، 4 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ”ہندوستانی تارکین وطن خواتین: لسانی اور ثقافتی شناخت کا تحفظ“ موضوع پر پانچ روزہ گلوبل انیشیئیٹیو آف اکیڈمک نیٹ ورکس (گیان) کورس، ایم ایم ٹی ٹی سی آڈیٹوریم میں اختتامی تقریب کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔یہ کورس ویمنس کالج اور شعبہ انگریزی، اے ایم یو کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔
مہمان خصوصی کے طور پر مسٹر محمد عمران آئی پی ایس، رجسٹرار، اے ایم یو شریک ہوئے جب کہ مہمانان اعزازی کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر انیس الرحمٰن، اے ایم یو کی فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان،اور گیان کے مقامی کوآرڈنیٹر پروفیسر محمد جہانگیر وارثی، ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی اور شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر ثمینہ خان موجود رہے۔
صدارتی خطاب میں مسٹر محمد عمران آئی پی ایس نے اپنی علمی زندگی کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے خاص طور پر ہجرت، شناخت اور ثقافتی وابستگی کو سمجھنے میں ادب کے کردار پر زور دیااور تارک وطن شاعرہ مینا الیگزینڈر کا حوالہ دیتے ہوئے ترک وطن سے وابستہ جذباتی پیچیدگیوں کو بیان کیا۔
پروفیسر انیس الرحمٰن نے منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ترک وطن کے سماجی و معاشی اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر محمد جہانگیر وارثی نے تمام شرکاء اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈایسپورک اسٹڈیز کے فروغ میں اے ایم یو کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالی۔
اپنے خصوصی خطاب میں، ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر محمد رضوان خان نے ترک وطن اور نقل مکانی میں شناخت کی پیچیدگیوں، خصوصاً قومی اور ثقافتی وابستگی کے دوہرے عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تربیتی کورس کو سائنسی اور فکری لحاظ سے بھرپور قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر صدف فرید کی کوششوں کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن سے نقل مکانی کرنے والی خواتین کی ثقافت و شناخت کے تحفظ کی کاوشیں ادبی تخلیقات میں کم دیکھی گئی ہیں، اس لیے زبانی ادب میں بھی ان کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
پروفیسر ثمینہ خان نے اپنے ابتدائی کلمات میں کورس کے موضوع کی اہمیت اور شعبہ انگریزی کی بین موضوعاتی تدریس و تحقیق کے فروغ کے تئیں وابستگی پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر صنفی زاویے سے تارکین وطن کی شناختوں پر نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
کورس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر صدف فرید نے کورس کی مکمل رپورٹ پیش کی، جس میں پانچ دن کی علمی سرگرمیوں، موضوعاتی وسعت، تنقیدی مباحث اور شرکاء کی شمولیت کو انھوں نے بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کورس میں مجموعی طور پر 83 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں سے 60 افراد بنفس نفیس اور 12 شرکاء ملک و بیرون ملک سے آن لائن شریک ہوئے۔
پروفیسر مسعود انور علوی نے اپنے اختتامی کلمات میں ویمنس کالج کی جانب سے ایسے علمی پروگراموں کے مسلسل انعقاد کے عزم کا اظہار کیا اور منتظمین کی اجتماعی کوششوں کو سراہا۔
پانچ دن کے اس کورس کے ممتاز مقررین میں پروفیسر پورنیما مہتا بھٹ، پروفیسر نشی پانڈے، ڈاکٹر صدف فرید، پروفیسر نازیہ حسن اور پروفیسر انیس الرحمٰن شامل تھے جنھوں نے متعلقہ موضوعات پر خطبات دئے۔
آخر میں شرکاء کو اسناد تقسیم کی گئیں۔ بی اے انگلش لٹریچر کی طالبہ بصرہ حسن رضوی نے شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ایمن فاطمہ (ایم اے انگلش) اور مائشہ منال تاج (بی اے انگلش) نے انجام دیے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے طالبعلم کا بھابھا ایٹمک ریسرچ سنٹر میں سائنسی افسر کے طور پر انتخاب
علی گڑھ، 4 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ارضیات کے طالبعلم روہت گپتا کو حکومت ہند کے محکمہ ایٹمی توانائی کے ادارے بھابھا ایٹمک ریسرچ سنٹر میں سائنسی افسر (گروپ-اے) کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان کا انتخاب ایک مسابقتی امتحان اور اس کے بعد ہونے والے انٹرویوکے ذریعے عمل میں آیا۔
شعبہ ارضیات کے چیئرپرسن پروفیسر راشد عمرنے روہت گپتا کی اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی لگن اور محنت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ شعبہ کے اعلیٰ تعلیمی معیار اور اساتذہ کی رہنمائی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کامیابی اے ایم یو کے طلبہ کی علمی قابلیت اور قومی سطح پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اجاگر کرتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو نے پی ایم-کسان پروگرام کی بیسویں قسط کی تقریب میں فعال شرکت کے ذریعے سرکاری اقدامات کو فروغ دیا
علی گڑھ، 4 اگست: حکومت ہند کی جانب سے کسانوں کو بااختیار بنانے اور ان کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز کے اساتذہ اور طلبہ نے 2 اگست کو پردھان منتری کسان سمّان ندھی (پی ایم-کسان) پروگرام کی بیسویں قسط کی تقسیم کی تقریب میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔ یہ پروگرام انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کی ہدایت پر منعقد ہوا، جس میں حکومت کی اہم پالیسیوں سے متعلق بیداری پیدا کرنے اور دیہی سطح پر رسائی کو مضبوط بنانے کے تئیں اے ایم یو کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
پروگرام میں اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے بطور خاص شرکت کی اور کسانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف قومی مشنز سے یونیورسٹی کی وابستگی کو دوہرایا۔ دیگر ممتاز شرکاء میں پروفیسر مجیب الرحمٰن خان (نوڈل آفیسر، پی ایم کسان)، پروفیسر آر یو خان (ڈین، فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز)، پروفیسر اقبال احمد (کوآرڈینیٹر، بی ایس سی ایگریکلچر) اور دیگر سینئر اساتذہ شامل تھے۔
150 سے زائد افراد نے اس پروگرام میں شرکت کی، جن میں 40 سے زائد خاتون کسان بھی شامل تھے۔ پروگرام کے دوران 10 پی ایم کسان پانے والوں نے قسط ملنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم کے خطاب کے بعد پروفیسر ایم آر خان نے تمام کسانوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ای-کے وائی سی تصدیق مکمل کریں تاکہ اس اسکیم کے تحت فوائد کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
یہ پروگرام ڈاکٹر ضیاء الحق کی نگرانی میں منعقد ہوا، جو علمی اداروں اور قومی ترقیاتی پالیسیوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی اے ایم یو کی سرگرم کوششوں کی ایک مثال تھا۔ یونیورسٹی دیہی برادریوں کو بااختیار بنانے اور سرکاری فلاحی منصوبوں کے نفاذ کو مؤثر بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔
٭٭٭٭٭٭
عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ: اے ایم یو کی جانب سے مرزا پور سیوا گاؤں میں خواتین کے لئے بیداری پروگرام منعقد
علی گڑھ، 4 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج،فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ نسواں و قبالت نے عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ کے موقع پر شعبہ سوشل ورک اور دواخانہ طبیہ کالج کے اشتراک سے مرزا پور سیوا گاؤں (علی گڑھ) میں خواتین کے لیے ایک مفت طبی و صحت بیداری کیمپ منعقد کیا۔
کیمپ کا آغاز شعبہ نسواں و قبالت کی خاتون ڈاکٹروں کی قیادت میں ایک بیداری سیشن سے ہوا، جس میں حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤوں اور ان کے ساتھ آنے والے افراد کو ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا گیا۔ انھیں بتایا گیا کہ ماں کا دودھ بچوں کی قوتِ مدافعت بڑھانے، جذباتی ربط قائم کرنے اور صحت مند نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ نوزائیدہ کو پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ ہی پلانا چاہیے، اور پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر دودھ پلانا شروع کردینا چاہیے، چاہے پیدائش نارمل ہو یا آپریشن سے ہوئی ہو۔
پروفیسر صبوحی مصطفیٰ (چیئرپرسن، شعبہ نسواں و قبالت) نے کیمپ کا افتتاح کیا اور بچہ کو ماں کا دودھ پلانے سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور اس سلسلہ میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹرفہمیدہ زینت اور ڈاکٹر ابیحہ احمد خان نے حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے ماں کے دودھ کی سائنسی اور جذباتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
شعبہ سوشل ورک نے گاؤں کی خواتین کو متحرک کرنے اور ان کی فعال شرکت کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ فیکلٹی اراکین میں ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر شاینا سیف، اور ڈاکٹر محمد عذیر نے لوگوں کی شمولیت یقینی بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔
آگہی سیشن کے بعد پی جی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے لوگوں کو مشورے دئے اور ضروری امور میں ان کی رہنمائی کی۔
اس موقع پر دواخانہ طبیہ کالج کی جانب سے خواتین کی صحت کے لیے مفت یونانی ادویات فراہم کی گئیں، جن میں خون بڑھانے والی دوائیں، طاقت بڑھانے والے مرکبات، اور عام امراض جیسے نزلہ، زکام وغیرہ کی دوائیں شامل تھیں۔
اس موقع پر ماں کے دودھ پلانے کے صحیح طریقے، خاص طور سے سی سیکشن کے بعد کے مخصوص انداز کو تصویروں کی مدد سے سمجھایا گیا۔ ماؤں کو دودھ کی پیداوار میں اضافے کے قدرتی طریقے جیسے معقول مقدار میں پانی پینا، متوازن غذا، اور بار بار دودھ پلانے سے متعلق رہنمائی کی گئی۔
آگہی سیشن کے بعد 150 سے زائد خواتین کا مفت گائناکالوجیکل طبی معائنہ کیا گیا۔ انہیں شخصی مشورے، نسخے اور یونانی و ایلوپیتھک سپلیمنٹ جیسے آئرن، کیلشیم، ملٹی وٹامنز، اور پروٹین پاؤڈر بھی فراہم کیے گئے۔
کیمپ کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہمیدہ زینت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد خواتین کی صحت کو یقینی بنانا اور مفت و معیاری خدمات فراہم کرناہے۔
Comments are closed.