مذبح خانہ ہٹاؤ ، میوات بچاؤ نعرہ کے تحت، میوات سنگھرش سمیتی’کے وفد نے حکومت کو دیا شکایتی خط،وزیر ماحولیات نے کہا کہ سخت کارروائی کی جائے گی
نوح میوات ( پریس ریلیز)
میوات ضلع میں بے قابو مذبح خانوں کے قیام کو لے کر مقامی لوگوں میں گہری تشویش اور غصہ پایا جارہا ہے۔ پیر کو ضلع ہیڈکوارٹر نوح میں شکایات کمیٹی کی ماہانہ میٹنگ کے دوران میوات جوائنٹ سنگھرش سمیتی نے ہریانہ حکومت کے کابینہ وزیر راؤ نربیر سنگھ کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا، جس میں مذبح خانوں کے بڑھتے ہوئے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی ، پانی کے بحران، صحت کے خطرات اور سماجی عدم توازن کی صورتحال کا ذکر کیا گیا۔ میمورنڈم میں کمیٹی نے بتایا کہ اب تک تقریباً 30 مذبح خانوں کو این او سی دییے جاچکے ہیں، جن میں سے 8 یونٹس چل رہے ہیں، جب کہ 20 سے زائد یونٹس کی تعمیراتی تیاریاں جاری ہیں ۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ نے ضلع نوح کو ضرورت سے زیادہ استحصال کرنے والا اہم علاقہ قرار دیا ہے، جہاں زیر زمین پانی کی سطح پہلے ہی تشویشناک حالت میں ہے۔ شکایتی خط کے ذریعے وزیر ماحولیات کو بتایا گیا کہ مذبح خانوں میں روزانہ لاکھوں لیٹر پانی استعمال ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے گاؤں والوں کو پینے کا پانی نہیں مل پا رہا ہے۔ کوڑا کرکٹ اور بدبو کی وجہ سے انفیکشن، مچھر، مکھیاں اور گندگی بڑھ رہی ہے۔ بہت سے یونٹس اسکولوں، مدرسوں اور اسپتالوں کے قریب واقع ہیں جس سے بچوں اور بوڑھوں کو براہ راست متاثر کیا جا رہا ہے۔ سنگھرش سمیتی کے اہم رکن مولانا صابر قاسمی مختلف رپورٹس کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ ان یونٹوں کی وجہ سے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر دہلی-این سی آر کے قریب ہونے کی وجہ سے۔ وزیر سے شکایت کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ تمام نئے مذبح خانوں کے لیے این او سی کا اجراء فوری طور پر روکا جائے اور اب تک جاری کیے گئے تمام این او سیز کی تحقیقات ایک خود مختار ایجنسی کرے۔ چل رہے یونٹس کا فیلڈ آڈٹ ہونا چاہئے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہئے کہ آیا وہ مرکزی اور ریاستی آلودگی کے محکموں کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ ہر یونٹ میں ویسٹ مینجمنٹ، بدبو پر قابو پانے اور پانی صاف کرنے کے نظام کو لازمی بنایا جائے۔ دیہی بستیوں، اسکولوں، مدرسوں اور اسپتالوں سے 2 کلومیٹر کے دائرے میں واقع یونٹس کو بند کیا جائے۔ اس دوران کابینی وزیر راؤ نربیر سنگھ نے کمیٹی کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا اور کہا کہ مذبح خانوں کی جانچ کی جائے گی۔ اگر کوئی یونٹ معیار کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ مزید کوئی نئی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت میوات کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے درجنوں نمائندے ضلعی ہیڈ کوارٹر پہنچے اور انتظامی حکام کے سامنے دستاویزات اور حقائق کے ساتھ معاملہ پیش کیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ تحریک کسی مذہب یا کاروبار کے خلاف نہیں ہے بلکہ میوات کی ماحولیات اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ہے۔
وفد میں شامل سماجی کارکن ماسٹر عبدالوہاب۔ مولانا صابر قاسمی۔ عزیز سرپنچ جلال پور، رفیق ہتھوڑی کھیڑا سمے سنگھ، شاہ رخ سرپنچ راجاکا۔ وسیم سرپنچ چندینی۔ شاہین شمش دھوج ضلع کونسلر توفیق، وغیرہ تھے۔
Comments are closed.