مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو نے کئی برسوں بعد فیس پر نظر ثانی اور اضافہ کا فیصلہ کیا، طلبہ کی فلاح و بہبود کی خاطر معیاری بنیادی خدمات کی فراہمی کے پیش نظر یہ اضافہ ناگزیر تھا

 

علی گڑھ، 5 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی اکیڈمک کونسل نے 4 جون 2025 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں تعلیمی سال 2025–26 سے طلبہ کے لیے فیس ڈھانچے میں معمولی اضافہ کو منظوری دی جو اوسطاً 15 سے 20 فیصد تھی۔ فیس میں یہ اضافہ کئی سال بعد کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات اور وسائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔

 

جن مدوں میں یہ اضافہ کیا گیا ان میں بنیادی ڈھانچہ کا فروغ، صحت خدمات، ہاسٹل کی سہولیات، ہال تقریبات، یوم سر سید، کامن رومز کی دیکھ بھال، رہائشی اخراجات وغیرہ کے مد شامل ہیں، جو طلبہ کی روزمرہ کی ضروریات اور مجموعی فلاح و بہبود سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس نظرثانی کے بعد بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کے ان چنندہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایک ہے جہاں فیس کا ڈھانچہ سب سے کم ہے۔ یونیورسٹی بدستور معیاری تعلیم اور رہائش کی سہولیات نسبتاً کم فیس میں فراہم کررہی ہے، جو تعلیم کو سب کے لیے قابل رسائی اور شمولیتی بنانے کے یونیورسٹی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

 

گزشتہ برسوں میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر، یہ اضافہ ناگزیر ہوچکا تھا، تاکہ کیمپس میں طلبہ کو فراہم کی جانے والی خدمات کو نہ صرف برقرار رکھا جا سکے بلکہ انہیں بہتر بھی بنایا جا سکے۔ اے ایم یو تعلیمی معیار اور طلبہ کی فلاح پر مبنی ترقی کے تئیں پرعزم ہے۔ فیس کے نئے ڈھانچے کا مقصد طلبہ کو ایک متوازن اور خوشگوار تعلیمی و رہائشی تجربہ فراہم کرنا ہے۔

 

یہ بات خوش آئند ہے کہ طلبہ کی اکثریت اور دیگر تمام متعلقہ فریق اس ضروری اقدام پر یونیورسٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی تمام طلبہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ اے ایم یو، اپنے طلبہ کی فلاح و بہبود کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی خاتون اسکالر نے بین الاقوامی کانفرنس میں بیسٹ پیپر ایوارڈ حاصل کیا

 

علی گڑھ، 5 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز کی ریسرچ اسکالر مس نلنی بھٹّار نے بین الاقوامی سطح پر ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے 27 تا 28 جولائی، ورچوئل طریقہ سے منعقدہ انٹرنیشنل سوشل ریسرچ نیکسس کانفرنس 2025 میں عمدہ ترین تحقیقی مقالہ کا ایوارڈحاصل کیا۔

 

نلنی کے تحقیقی مقالہ کا عنوان تھا: ”نقل و حرکت میں عدم مساوات: تعلیمی سفر میں خاتون تعلیمی تارکین وطن کا تجربہ“، جس میں انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسری جگہوں پر منتقل ہونے والی طالبات کو درپیش مشکلات کا ناقدانہ جائزہ لیا۔ ان کی تحقیق نے جسمانی نقل و حرکت، نفسیاتی دباؤ اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے، تعلیمی ہجرت میں صنفی ناہمواریوں کی پیچیدہ تصویر اجاگر کی۔

 

نلنی کی تحقیق خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے تئیں ان کے لگاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی تحقیق کا مرکزی موضوع ہندوستان میں تعلیمی ہجرت ہے، جس میں وہ ان منظم رکاوٹوں کو سامنے لاتی ہیں جو خواتین کی تعلیمی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ ان کے تحقیقی مضامین قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، اور وہ صنف اور تعلیم کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے مرکز برائے فاصلاتی تعلیم میں اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر لیکچر کا اہتمام

 

علی گڑھ، 5 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈسٹینس اینڈ آن لائن ایجوکیشن نے ”اعلیٰ تعلیم کی تشکیل نو میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا انقلابی کردار“ موضوع پر ایک لیکچر کا اہتمام کیا۔

 

ممتاز ماہر تعلیم اور تعلیمی ٹکنالوجی و اختراعات کے ماہر پروفیسر احرار حسین نے اپنے خطاب میں وضاحت کی کہ کس طرح مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم کے منظرنامہ کو تبدیل کر رہی ہے۔ انہوں نے فرد کی مخصوص ضروریات پر مرکوز تعلیم، مواد کی فراہمی، خودکار اسسمنٹ نظام، طلبہ کی معاونت اور ڈیٹا پر مبنی تعلیمی فیصلوں جیسے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اداروں کو اے آئی ٹکنالوجیز کو ذمہ داری کے ساتھ اپنانے میں پیش آنے والے اخلاقی اور عملی چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔

 

اس سے قبل، مہمان مقرر کا خیر مقدم کرتے ہوئے مرکز کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری نے جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

اس پروگرام میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، اور طلبہ نے شرکت کی۔ آخر میں ڈاکٹر فرقان خان نے مہمان مقرر اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

امرناتھ یاترا 2025 کے دوران مثالی خدمات پر اے ایم یو کے نرسنگ آفیسر کی ستائش

 

علی گڑھ، 5 اگست: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے نرسنگ آفیسر مسٹر سمپت راج کمہار کو شری امرناتھ جی یاترا 2025 کے دوران بہترین طبی خدمات انجام دینے پر میڈیکل ڈائریکٹر، یاترا 2025 (بالتال)، جموں و کشمیر کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

 

مسٹر کمہار کو 12 جولائی سے 28 جولائی 2025 تک بالتال راستے پر واقع براری مارگ میڈیکل ایڈ سینٹر پر طبی عملے کے دوسرے دستے کے رکن کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ بلند پہاڑی علاقوں اور مشکل موسمی حالات کے باوجود، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی محنت و لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں۔

 

اپنی تعیناتی کے دوران مسٹر کمہار نے ان یاتریوں کو مسلسل طبی امداد فراہم کی جو بلندی کی وجہ سے مختلف بیماریوں، پانی کی کمی، آکسیجن کی کمی، سینے کی تکلیف، اور تھکن جیسے مسائل کا شکار ہوئے۔ ان کی فوری تشخیص اور مؤثر علاج نے کئی ممکنہ طبی ہنگامی حالات کو بڑھنے سے روکا۔

 

بالتال بیس کیمپ کے میڈیکل ڈائریکٹر نے مسٹر کمہار کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات نے یاتریوں کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنایا، اور یاترا کے دوران طبی خدمات کے لئے ایک معیار قائم کیا۔ دیگر حکام نے بھی ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے اور مریضوں کی دیکھ بھال میں ان کی خدمات کو سراہا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ کے موقع پر اے ایم یو میں سیمینار کا اہتمام

 

علی گڑھ، 5 اگست: عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ 2025 کے موقع پر جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی نے فارماکو ویجیلنس پروگرام آف انڈیا کے اے ڈی آر مانیٹرنگ سینٹر کے تحت ایک سیمینار منعقد کیا، جس کا عنوان تھا ”پستان سے دودھ پلانے کو ترجیح دیں: پائیدار معاون نظام قائم کریں“۔

 

اس موقع پر فارماکولوجی، سال آخر کی ریزیڈنٹ ڈاکٹر پرگیا ہنگما سُبّا نے ”دودھ پلانے کے دوران دواؤں کا محفوظ استعمال“ موضوع پر کلیدی خطبہ دیا۔ انھوں نے ماں کے دودھ میں دواؤں کی منتقلی کے سائنسی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے مختلف ادویات کی تفصیلات ان کے حفاظتی پروفائلز کی بنیاد پر واضح کیں۔ ڈاکٹر سبّا نے ایف ڈی اے کی لیبلنگ گائیڈ لائنز پر بھی روشنی ڈالی، جو خطرات کے روایتی زمرہ کی جگہ مزید سائنسی اور شواہد پر مبنی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

 

شعبہ فارماکولوجی کے صدر پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوزائیدہ کو ماں کا دودھ پلانا صحت عامہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف اور عالمی صحت تنظیم کی ان کوششوں کا جائزہ پیش کیا جن کا مقصد ماں کے دودھ کے استعمال کو فروغ دینا اور بوتل سے دودھ پلانے کی منفی رجحان کو روکنا ہے۔

 

ڈاکٹر جمیل احمد نے شعبہ کی جانب سے ڈاکٹر پرگیا ہنگما سبّا کو ان کی پیشکش کے لئے توصیفی سند سے نوازا۔ اس موقع پر فارماکولوجی شعبہ کے اساتذہ، ریزیڈنٹس اور ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج اینڈ ہاسپٹل، اے ایم یو کے انڈرگریجویٹ طلبہ موجود رہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں پروفیسر شکتی رئیس احمد کی یاد میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد

 

علی گڑھ، 5 اگست:ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری کی جانب سے سابق استاد پروفیسر شکتی رئیس احمد کی تعزیت میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ 26 جولائی 2025 کو ان کا انتقال ہوا تھا۔ شعبے کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کی اور ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو سراہا۔

 

کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے پروفیسر احمد کی نمایاں تدریسی و تحقیقی خدمات کا ذکر کیا۔ شعبہ کے سابق چیئرمین پروفیسر ایچ ایس راٹھور نے بھی ان کی علمی شخصیت اور ہمہ جہت خوبیوں کو یاد کیا۔

 

شعبہ کے موجودہ چیئرمین پروفیسر رئیس احمد نے پروفیسر شکتی رئیس احمد کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کیمیکل سائنسز کے فروغ اور علمی دنیا میں خواتین کی نمائندگی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

 

پروفیسر شکتی رئیس احمد کا تدریسی و تحقیقی کریئر تین دہائیوں پر محیط رہا۔ انہوں نے 1952 میں پنجاب یونیورسٹی، ہوشیار پور سے ایم ایس سی اور 1958 میں لندن یونیورسٹی، برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 1952 میں بحیثیت لیکچرر اپنے تدریسی سفر کا آغاز کیا اور 1966 میں اے ایم یو کی فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں ریڈر مقرر ہوئیں۔ 1983 میں انھیں پروفیسر کے عہدے پر ترقی ملی اور 1985 میں وہ سبکدوش ہوئیں۔

 

اے ایم یو میں خدمات کے علاوہ وہ کئی ممتاز اداروں سے وابستہ رہیں، جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، نئی دہلی میں اسسٹنٹ پروفیسر (1974–1977)، ریجنل انجینئرنگ کالج، سری نگر میں پروفیسر و چیئرپرسن (1978–1981) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ، نئی دہلی میں نیشنل فیلو (1983–1985) کے عہدے شامل ہیں۔

 

تعزیتی جلسہ کے اختتام پر مرحومہ کی مغفرت اور بلندیئ درجات کے لئے دعا کی گئی اور ان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے اسکولوں میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ کی کلاسیز 8 اگست سے شروع ہوں گی

 

علی گڑھ، 5 اگست:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی سال 2025–26 کے لیے اے ایم یو کے اسکولوں میں درجہ اوّل، ششم، اور نہم میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ کی کلاسیز 8 اگست 2025 سے شروع ہوں گی۔

 

کلاسیز کا آغاز صبح 7:30 بجے سے ہوگا۔ تمام متعلقہ طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر حاضری کو یقینی بنائیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

 

 

علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن، واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے اے ایم یو کے 387 طلبہ کو وظائف دئے گئے

 

علی گڑھ، 5 اگست: علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن، واشنگٹن ڈی سی (اے اے اے ڈی سی) نے تعلیمی سال 2024–2025 کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے 387 طلبہ کو میرٹ و ضرورت کی بنیاد پر اسکالرشپ سے نوازا ہے، جس کے تحت ہر طالب علم کو پندرہ ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔

 

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اے اے اے ڈی سی، 1980 کی دہائی سے اے ایم یو کے طلبہ کو اسکالرشپ دے رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک بار منتخب ہونے والے طالب علم کو اس کی پوری تعلیم کے دوران اسکالرشپ دی جاتی ہے۔

 

یہ اسکالرشپ،مختلف انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں سائنس و ٹکنالوجی، طب و معاون طبی علوم، انسانی علوم، سوشیالوجی، قانون، کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن، انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر وغیرہ شامل ہیں۔

 

اسکالرشپ کے لیے طلبہ کا انتخاب ان کی درخواستوں، تعلیمی کارکردگی، مالی ضرورت اور پرسنل اسٹیٹمنٹ پر مبنی ایک جائزہ عمل کے ذریعے کیا گیا۔ 2500 سے زائد درخواست دہندگان میں سے 850 طلبہ کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جن میں سے 387 طلبہ کو حتمی طور پر منتخب کیا گیا۔ ان میں سے 145 طلبہ پچھلے سال کے اسکالرشپ پانے والے طلبہ تھے جن کے معاملات کی تصدیق کے بعد انھیں دوبارہ وظائف کے لئے منتخب کیا گیا۔

 

انتخاب کا عمل اے اے اے ڈی سی اسکالرشپ کمیٹی، اے ایم یو کے اساتذہ، اور الومنئی افیئرز کمیٹی کے اشتراک سے مکمل ہوا۔ پروفیسر اکرام خان کی قیادت میں اے ایم یو الومنئی افیئرز کمیٹی نے انٹرویو اور انتخاب کے مراحل کی نگرانی کی۔ اسکالرشپ کے لئے شمالی امریکہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں مقیم اے ایم یو کے سابق طلبہ اور مخیر حضرات نے مالی امداد فراہم کی تاکہ ضرورتمند اور ہونہار طلبہ کی مسلسل تعلیم کو یقینی بنایا جاسکے۔

 

اے ایم یو میں الومئی افیئرز کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر سرتاج تبسم نے اے اے اے ڈی سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل مالی معاونت نے کئی ضرورت مند طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد کی ہے۔

 

اے اے اے ڈی سی کے صدر اور اسکالرشپ کمیٹی کے چیئرمین مسٹر افضال عثمانی نے اے ایم یو الومنئی افیئرز کمیٹی، انٹرویو پینل کے ارکان اور خاص طور پر پروفیسر اکرام خان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انٹرویو کے پورے عمل کوانجام تک پہنچانے میں بھرپور تعاون کیا۔

 

یہ اسکالرشپ اقدام،اے اے اے ڈی سی کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد کم وسائل رکھنے والے طلبہ کو تعلیم تک رسائی دینا، تعلیمی صلاحیت کو فروغ دینا اور عالمی علیگ برادری کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ مسٹر عثمانی نے مزید کہا کہ اے اے اے ڈی سی، اپنی مادرِ علمی کے ساتھ وابستگی کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم کے ذریعے قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

 

مزید معلومات یا اسکالرشپ فنڈ میں عطیہ دینے کے لیے ویب سائٹ www.aligarhdc.org دیکھیں۔

 

Comments are closed.