مذبح خانوں سے پریشان میوات کے لوگوں کے ایک نمائندہ وفد نے ایم پی دیپندر ہڈا سے ملاقات کی

 

 

ایم پی دیپندر نے حکومت سے میواتیوں کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

نئی دہلی (پریس ریلیز) بی جے پی حکومت کے تحت میوات میں مذبح خانوں کی تعداد میں بے قابو اور ریکارڈ اضافہ سے پریشان متحدہ میوات سنگھرش سمیتی کے ایک نمائندہ وفد نے آج ایم پی دیپیندر ہڈا سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات کا ایک میمورنڈم پیش کیا۔ دیپیندر ہڈا نے اہل میوات کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کے قول و فعل میں فرق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میوات میں ریکارڈ مذبح خانے کھولے گئے ہیں۔ جبکہ یہاں تعلیم کے لیے اسکول، کالج، یونیورسٹیز کی ضرورت ہے لیکن یہاں مطالبات کے باوجود آج تک کوئی یونیورسٹی نہیں کھولی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان مذبح خانوں کی وجہ سے مقامی لوگوں کو صحت اور پینے کے پانی سے متعلق مسائل درپیش ہیں۔ گندگی کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ہوا اور پانی زندگی کی بنیاد ہیں، دونوں آلودہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے قریبی لیڈروں کی ان مذبح خانوں میں شراکت داری کی اطلاعات ہیں۔ دیپیندر ہڈا نے حکومت سے میوات کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

مذبح خانوں کو بند کرنے کی تحریک کے اس نمائندہ وفد رکن پارلیمنٹ کو بتایا کہ مذبح خانوں سے نہ صرف ہوا بلکہ زمین اور زیر زمین پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ مذبح خانوں سے نکلنے والی گندگی اور آلودگی کی وجہ سے کینسر، دمہ، ٹی بی، جلد کی بیماریاں اور سانس کی سنگین بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہے ہیں۔ بارش کے موسم میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہوگیا ہے۔متحدہ میوات سنگھرش سمیتی کے رکن مولانا محمد صابر قاسمی نے بتایا کہ مذبح خانوں سے نکلنے والا فضلہ کھلے میں پھینکنے سے کئی کلومیٹر تک خوفناک بدبو پھیل جاتی ہے۔ مذبح کے علاقے میں اسکولوں اور اسپتالوں کے قریب گندگی اور بدبو کے باعث لوگ یہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ نے اسے پانی کے بحران کا علاقہ قرار دیا ہے۔ علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح گر رہی ہے اور پانی کا بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پانی کے بے تحاشہ استعمال اور کیمیائی فضلہ کی وجہ سے فضائی آلودگی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

وفد نے کہا کہ میوات کے علاقے میں بی جے پی حکومت کے دور میں مذبح خانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مذبح خانوں کے آس پاس خطرناک کتے پنپ رہے ہیں جو اکثر چھوٹے بچوں اور خواتین پر حملہ کرتے ہیں۔ کتوں کے حملوں سے متعلق کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ دیہات میں آوارہ کتوں کی دہشت اس قدر ہے کہ اسکول جانے والے بچے ان کے خوف سے گھروں سے باہر نہیں نکل پاتے۔

 

مذبح خانہ تحریک کے تناظر میں، "متحدہ میوات سنگھرش سمیتی”کے اس نمائندہ وفد میں بنیادی طور پر فجرو الدین، بیسر، ماسٹر عبدالوہاب جلال پور، مولانا صابر قاسمی، نائی ننگلہ، مفتی سلیم قاسمی ساکرس ، ایڈوکیٹ رشید، عزیز حسین، سرپنچ جلال پور، رفیق کھیڑا ، سرپنچ ایسوسی ایشن کے رہنما۔، عارف ٹھیکیدار، بگھولا، لیاقت علی، سرپنچ سوڑاکا ، مبارک اٹیرنہ ، وسیم احمد، سرپنچ چندینی، زکریا شہید ساکرس ،شوکت خواجالیکا، عرفان سرپنچ کنکرکھیڑی، محسن چودہری، ساکرس، سلیم احمد، سرپنچ، وغیرہ موجود تھے۔

 

Comments are closed.