کیوٹی میں بی ای او ثمینہ فردوس کی مدارس کے اساتذہ کے ساتھ میٹنگ، تعلیمی فضا موثر بنانے پر زور ،اول جماعت کے طلبہ کا نام ای سکچھا ایپ پر اپلوڈ کرنے کی ہدایت

 

 

 

جالے: (محمد رفیع ساگر /بی این ایس)

کیوٹی بلاک کی انچارج بی ای او ثمینہ فردوس نے بدھ کے روز کھرما بی آر سی میں بلاک حلقہ کے تمام ملحقہ مدارس کے صدر المدرسین کے ساتھ ایک اہم تعلیمی نشست کی۔ یہ نشست دن کے گیارہ بجے منعقد ہوئی جس کا مقصد مدارس کی تعلیمی فضا کو مزید مؤثر بنانا اور تعلیمی بیداری کو فروغ دینا تھا۔

بی ای او نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدارس ہر دور میں اپنے مقاصد میں کامیاب رہے ہیں، چاہے بات تعلیم کی ہو یا تربیت کی۔ مدارس ہمارے اکابرین کی محنت اور دوراندیشی کا ثمر ہیں، جنہیں آج کے اساتذہ اپنی محنت اور جذبے سے مزید بارآور بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام پوری ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ قوم کے نونہالوں کو تعلیم دیں تاکہ یہی بچے کل ملت و سماج کو علم کی روشنی سے روشن کر سکیں۔

 

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو بچے کسی وجہ سے مدارس تک نہیں پہنچ پاتے، ان کی نشاندہی کی جائے اور گھر گھر جا کر والدین سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ایک تعلیمی بیداری مہم شروع کی جائے تاکہ کوئی بچہ علم جیسے عظیم خزانے سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میں سے بیشتر علما کرام ہیں، اور علما کا مشن ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ علم کا چراغ ہر گھر میں روشن ہو۔ اسی جذبے کے ساتھ آج بھی آپ کو میدان میں سرگرم رہنا ہوگا۔

 

بی ای او نے اول جماعت کے طلبہ کا نام جلد از جلد ای سکچھا ایپ پر لوڈ کرنے کی سختی سے ہدایت دی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ مسلسل محکمہ تعلیم کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ اسکولوں کی طرح مدرسوں کے بچوں کو بھی درسیات کی کتابیں مہیا کرائی جا سکیں۔ انہوں نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر نظر رکھیں، ان کی قابلیت میں اضافہ کریں اور وقت پر تعلیمی رپورٹیں محکمہ کو فراہم کریں۔

 

نشست کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اساتذہ کا کردار صرف پڑھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ ملت کے روشن مستقبل کے معمار ہیں۔ انہیں نہایت سنجیدگی، اخلاص اور قوم پروری کے جذبے کے ساتھ بچوں کی تعلیم و تربیت میں لگا رہنا چاہیے۔

 

اس موقع پر نشست میں حافظ فرید احمد صدیقی، ماسٹر ابوالحسن، ماسٹر فاخر متین، مولانا انعام الحق، ماسٹر شہباز (کھرما) سمیت دیگر اساتذہ شریک ہوئے جنہوں نے بی ای او کی رہنمائی کو سراہا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

Comments are closed.