جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے

آمد نامہ (2)

 

(شعبہ اردو ، کلکتہ یونیورسٹی میں ڈاکٹر شمیم قاسمی کی آمد پر)

ڈاکٹر امتیاز وحید،

شعبہ اردو، کلکتہ یونیورسٹی، کولکاتا

کلکتہ کے علمی سماج میں جن احباب سے یاد اللہ ہے ، ان میں ڈاکٹرشمیم قاسمی سرفہرست ہیں۔ سردست قاسمی صاحب شعبہ دینیات، عالیہ یونیورسٹی، کولکاتا میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور گزشتہ بارہ چودہ برسوں سے بال بچوں کے ساتھ کلکتہ میں مقیم ہیں۔خاصے پڑھے لکھے ، روشن ضمیر او ر صائب الرائے شخصیت کے مالک ہیں۔ یارباشی طبیعت کا خاصہ ہے، پکے علیگ ہیں اور کلکتہ میں اپنی دانش گاہ’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی’ کی روشن روایات کے امین ہیں۔ ان سے مل کر اے ایم یو میں گزرے ایام اور وہاں کی پرانی قدروں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ 16 /جولائی 2025 کو انھوں نے فون پر کلکتہ یونیورسٹی میں اپنی آمد کا مژدہ سنایا تو دل باغ باغ ہوگیا۔ ازراہِ محبت شعبہ اردو میں بھی قدم رنجا فرمایا اور ظہرانے میں شرکت فرماکر ہمیں ممنون کرم کیا۔

 

شمیم قاسمی صاحب کا تعلق علم اور گیان کا قدیم یونان کہا جانے والا خطہ ‘متھلا(مدھوبنی)’ کی ایک علمی بستی بھتھورا سے ہے۔ اس خطے کا خاص وصف مذہب اور مذہبی علوم سے اس کا گہرا انسلاک ہے۔ یہ دھرتی پنڈت اور عالم دونوں پیدا کرتی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں آپ جہاں کہیں جائیں مندروں میں متھلا کے پنڈت اور مساجد میں یہاں کے علما و واعظین بہ آسانی مل جائیں گے۔ یہاں کی فضاوں میں اذان اور ناقوس کی آواز ایک ساتھ گونجتی ہے ، تلک اور زُنار پہنے برہمن اور کرتا پائجامہ، لنگی اور ٹوپی میں زیب تن مولوی یہاں ہرجا گھومتے پھرتے مل جائیں گے ۔ ڈاکٹرقاسمی اسی مذہبی ہم آہنگی ، احترام باہمی اورایک مخصوص گنگا جمنی تہذیب سے آراستہ ماحول اور پس منظر کے پروردہ ہیں ۔حضرت فاضلِ دیوبندہیں اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے ڈاکٹریٹ کی اعلی سند سے متصف بھی۔ خاندانی پس منظرمیں دین اور علم کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ عالم باعمل ہیں۔ چہرے بشری اور وضع قطع میں ایک علیگ کی خوبواور مولویانہ شان رکھتے ہیں۔متھلا کے پان اور علی گڑھ کی چائے نوشی اور مجلس آرائی ان کے مزاج کا حصہ بن گئی ہے کہ نہ وہ پان کے بغیر رہ سکتے ہیں اور نہ سرزمین سرسید کی چائے اور محفل آرائی سے ہی انھیں مفر ہے۔ مشرقی علوم بطورِ خاص دینی اور شرعی امور میں یدِ طولی رکھتے ہیں۔فضیلت کے ساتھ انھوں نے دیوبند سے افتا کا کورس بھی مکمل کیا ہے اور شرعی امور میں باقاعدہ فتویٰ دینے کے مجاز ہیں۔ بظاہردھان پان سے نظر آنے والے قاسمی صاحب زبردست قوتِ ارادی کے مالک ہیں۔میری طرح اہلِ خانہ کی صحت کے مسائل سے جوجھتے ہوئے بھی ان کے حوصلے بلندہیں اور صبرواستقلال میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے؛بڑے صابر و شاکرہیں اور مشیتِ ایزدی پر قانع بھی۔

 

اسلامیات اور ہندوستانی تاریخ ڈاکٹرقاسمی کا خاص میدان ہے۔ لکھنا پڑھنا اور فکر و شعور کو علم سے منور رکھنا وظیفہ حیات ہے۔ جب بھی ملاقات ہوگی کسی نہ کسی علمی موضوع پرآپ انھیں مصروف پائیں گے۔ ذراکریدئے تو پتا چلے گا کہ ابھی فکر و نظر کے لیے ایک مضمون کی فرمائش پر کام چل رہا ہے۔پھر بتائیں گے کہ تہذیب الاخلاق کے فلاں شمارے میں ایک مضمون آچکا ہے، اس کا ذکر ابھی ختم نہیں ہوگا کہ آپ کی معلومات میں یہ بات بھی آچکی ہوگی کہ ‘سلاطین ہند کی دینی و مذہبی مساعی’ کو پاکستان کے قرطاس پبلشرنے شائع کردیا ہے اور وہ پھر بے صبری سے اپنی ہی کتاب کی ایک کاپی کے منتظر نظر آئیں گے؛کسی دوسری ملاقات میں ابھی تک کتاب نہ ملنے کے ان کے کرب کابھی علم آپ کو ہو جائے گا اور آپ بھی ان کے علمی شوق او ر مذاقِ لطیف کے ہم راہ چل پڑیں گے۔ اس طرح ان کی شخصیت کا جو ہیولیٰ بنتا ہے وہ کتاب ، کتاب داری، تصنیف و تالیف ، مسودہ ، قدیم متن، ماخذات ،مضامین، اڈیٹر اور ان کی فرمائشوں سے عبارت ہوتی ہے ، جو میرے لیے باعثِ تشویق ہے اور وجہ افتخار بھی۔قومی و بین الاقوامی رسائل و جرائد میں ان کے سو سے زائد مضامین و مقالات شائع ہوچکے ہیں۔اسی طرح تقریباً چالیس قومی و بین الاقوامی محاضرات اور سمیناروں میں ان کی شرکت ہوچکی ہے یا ان کے مقالات کی شمولیت ہوچکی ہے۔ موصوف بیرون ملک کے درجن بھر سے زائد علمی مجلات کے ایڈوٹوریل اور ایڈوائزری بورڈ کے ممبر بھی ہیں۔

 

قاسمی صاحب کی اب تک پانچ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ قتلِ حیات بہ جذبہ رحم (مطبوعہ، انڈیا)، سیرت نبی صلعم پر اعتراضات کا جائزہ (مطبوعہ انڈیا، پاکستان)، قتل بہ جذبہ رحم نوعیتِ مسئلہ اور اسلامی نقطہ نظر (مطبوعہ پاکستان)، ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم (مطبوعہ انڈیا) اورسلاطین ہند کی دینی و مذہبی مساعی (مطبوعہ پاکستان) ۔ ان کتابوں کے علمی مباحث ،موضوع کی نوعیت ،اہمیت اوراس کی معنویت کے تناظر میں صرف یہ بتانا ہی کافی ہوگا کہ 2013 میں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشر، نئی دہلی سے سیرت پر ان کی مطبوعہ کتاب کی خبر ملتے ہی پاکستان سے بیک وقت تین بڑے ناشرین نے فوراً ہی یہ کتاب چھاپ لی ، جس کی خبر بعد میں قاسمی صاحب تک پہنچی۔ یہ وہ کتابیں ہیں، جن پر پروفیسر ابوالکلام قاسمی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، اور محمدعرفان ندیم جیسے اہل نظر نے اعتماد کا اظہار کیا ہے اور موصوف کی تحقیق و تدقیق کی داد دی ہے۔

 

قاسمی صاحب کی یہ کتاب ‘قتل بہ جذبہ رحم نوعیتِ مسئلہ اور اسلامی نقطہ نظر’ جذبہ ترحم کے تحت قطعِ حیات(Euthanasia) کے مالہ و ماعلیہ کا جائزہ لیتی ہے اوراسلامی شریعت کے موقف کو قرآن و حدیث اور اجماعِ امت جیسے پہلوئوں کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔ اس کی اشاعت پر پاکستان کے اشاعتی ادارہ نے یہ نوٹ لگائی ہے کہ ”اب تک ہم نے ہندوستانی مربئین میں محترم سید جلال الدین عمری اور برادر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کی کتب شائع کی ہے۔ اب ہم محترم بھائی ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی صاحب کی کتاب بہت محبت اور اعتماد کے ساتھ شائع کررہے ہیں”۔اسی کتاب کے پیش لفظ میں استادی پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے لکھا ہے کہ ”مجھے خوشی ہے کہ شمیم اختر قاسمی صاحب نے اپنے مقالہ کو ایک مبسوط تحقیقی دستاویز بنانے کی کوشش کی ہے اور مسئلہ کی سنگینی کے پیشِ نظر اس میں بعض علمی و تحقیقی اضافے کرکے اس کی معنویت اور علمی وقار میں اضافہ بھی کردیا ہے اور چونکہ ڈاکٹر قاسمی ایک کہنہ مشق محقق اور متجسس ذہن کے مالک ادیب ہیں، اس لیے انھوں نے نہ صرف یہ کہ تحقیق اور تجزیے کے تقاضوں کو پوراکرنے کی کوشش کی ہے، بلکہ لسانی اور اسلوبیاتی اعتبار سے بھی ایک قابل وثوق علمی کام انجام دیا ہے”۔ڈاکٹر شمیم اختر قاسمی کے تئیں استادِ گرامی پروفیسر ابوالکلام قاسمی کا یہ اعتماد میرے لیے مسرت اور بہجت کا سبب ہے۔

 

تاریخ بطورِ خاص ہند میں مسلمانوں سے وابستہ تاریخ سے اپنی دلچسپی کے سبب قاسمی صاحب نے اپنی کتاب ‘سلاطین ہند کی دینی و مذہبی مساعی’ میں خطہ ہند میں مسلمانوں کی آمد، ان کی علمی و تہذیبی تاریخ بالخصوص مسلم حکمرانوں کا ہندوستان کے باشندوں سے فیاضانہ برتائو، ان کے قائم کردہ نظام، دین اسلام سے ان کی وابستگی اور علمی ترقیوں کا تفصیلی جائزہ لے کر ان تاریخی تسامحات اور متصبانہ ذہنیت رکھنے والے تاریخ نویسوں کے پروپیگنڈے اور حقائق سے تعرض کرنے والوں کو آئینہ دکھایا ہے ، جو تاریخ کی غلط شبیہ پیش کرکے مسلمانوں سے اہل وطن میں تنفر پیدا کرنے کے ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ یہ ایک عالمانہ اور غیر معمولی محققانہ کام ہے، جس کی داد پنجاب یونیورسٹی، لاہور، پاکستان کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد عبداللہ نے یہ کہہ کر دی ہے کہ ”مصنف کا قلم رواں ہے۔۔۔پاکستان کے اشاعتی ادارہ قرطاس کی طرف سے کتاب کا شائع ہونا بھی کسی اعزاز سے کم نہیں ہے”۔ یہ جان کر خوشی دوبالا ہوگئی کہ یہ کتاب پاکستان کی کئی جامعات کے نصاب میں بھی شامل کرلی گئی ہے اور تاریخ ہند میں مسلمانوں کی آمد و رفت سے شغف رکھنے والوں کے لیے یہ ایک حوالہ جاتی کتاب کی حیثیت سے مرجعِ خلائق ہے۔ قاسمی صاحب کے اس نوع کے علمی فتوحات کی ایک طویل فہرست ہے۔ وہ ابھی تازہ دم ہیں اور انھیں ابھی لمبی مسافت بھی طے کرنی ہے۔ یہیں ٹھہر کر مجھے یہ کہنے کی اجازت بھی دیجئے کہ ان دقیق علمی، تاریخی اور تمدنی مباحث کے بین السطور ایک اسکالر کی حیثیت سے مجھے قاسمی صاحب کے ملی شعور، ہمدردی ، ہندو مسلم یکجہتی اور ان کی تعمیرپسند ذہنیت کا بھی احساس ہوتا ہے۔ وہ ماضی پرست نہیں تاہم ماضی کے تاریخی ادوار میں تہذیبی تلاطم کے بطن سے جنم لینے والے تعفن سے بھی وہ حال کو مکدرکرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ اسی لیے تاریخ کے نہاں خانوں میں اتر کردقت نظری سے غیر ثقہ تاریخی پروپیگنڈے کا سدباب کرتے ہیں اورغلط بیانیہ کو قطعی راہ دینے پر آمادہ نہیں۔

 

قاسمی صاحب کی علمی کارگزاریوں کے ضمن میں یاد آیا کہ دیوبند کی علمی و روحانی فضا کے بعد علی گڑھ کی علمی کہکشاں اور ان کی صحبت سے انھیں کسبِ فیض کا خوب موقع ملا۔ ان کے مشرف پروفیسر توقیر فلاحی خود بڑے دراک عالم ہیں، پروفیسر سعود عالم قاسمی جیسے زیرک عالم ان کے برادر نسبتی اور گھر کے آدمی ہیں ۔ وہ پروفیسر ابواکلام قاسمی کے حلقہ اعتماد میں رہ چکے ہیں۔ استاد گرامی پروفیسر ابواکلام قاسمی کے وہ حددرجہ عزیزتھے، جنھیں استاد اپنے علمی معاملات؛ کتب اور جملہ تحریروں کی پروف خوانی اور علمی رائے مشورے میں شریک رکھتے تھے ۔ استاد کے لیے قومی کونسل کی جانب سے مفوضہ پروجیکٹ ‘کلیات رشید احمد صدیقی’ کی مکمل پروف ریڈنگ اور ادارتی امور سے متعلق بعض کام شمیم صاحب نے انجام دیے۔ علی گڑھ کے زمانہ قیام میں ایجوکیشنل بک ہائوس پر علما اور پروفیسران کا اجماع ہوتا تو پروفیسر ابواکلام قاسمی کے ساتھ شمیم قاسمی بھی شریک بزم ہوتے تھے۔ بحیثیت مدیر پروفیسر موصوف تہذیب الاخلاق کے جملہ مشمولات پرشمیم قاسمی کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ۔ اس صحبت نے شمیم قاسمی صاحب کے علمی اشیاق کو بیدار کیا اور ایک خاص علمی و تحقیقی خطو ط پر ان کی رہنمائی فرمائی۔ استاد کی خواہش تھی کہ شمیم صاحب علی گڑھ ہی میں کھپ جائیں۔ اس امر میں کوششیں بھی ہوئیں لیکن شمیم اختر اپنے ہی قریبی رشتہ دار کی ‘محبت’ کے شکار ہوگئے۔ میرے لیے استاد گرامی سے شمیم صاحب کی نسبت میں بڑی کشش ہے۔ شمیم صاحب سے ملاقات بھی استاد گرامی کے توسط سے ہوئی ۔ مغربی بنگال اردو اکاڈمی میں استاد نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پہچانتے ہو۔ یہ ہیں مفتی شمیم قاسمی اور اس کے بعدحضرت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور اب یہ عالم ہے کہ چھاتو بالو لین کی کوئی محفل رنگِ قاسمی سے خالی نہیں ہوتی ۔

 

ڈاکٹر محمدشمیم اخترقاسمی کی فعالیت کا ایک روشن خطہ خود ان کا شعبہ دینیات ہے، جہاں سے وہ وابستہ ہیں۔اسکالرس کی رہنمائی، طلبہ و طالبات کے مستقبل کی فکر، اپنے رفقائے کار کے لیے کشادہ ظرفی اور دلجوئی ان کے معمول کا حصہ ہے۔ طلبہ و طالبات کے مفاد کے تحفظ کے تئیں وہ بڑے حساس واقع ہوئے ہیں بلکہ بسااوقات وہ ایگریسو رویہ بھی اپنالیتے ہیں۔ یہ نیک نیتی طلبہ و طالبات میں ان کی مقبولیت اوررفقائے کار کے درمیان ان کے لیے واجب محبت اور احترام کا سبب ہے۔ اصولی آدمی ہیں اس لیے اپنا مطمحِ نظر بالکل صاف رکھتے ہیں۔ رفقائے کار کے مابین ریشم کی طرح نرم خوقاسمی صاحب اصولی بات پر ایسے اڑجاتے ہیں کہ عام حالات میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔یہی رویہ وہ سلکشن کمیٹیوں میں بھی روا رکھتے ہیں اور حق کی ہمنوائی کو اپنے کردار سے جوڑ کردیکھتے ہیں۔ صدرشعبہ، ڈی آر سی کے چیرمین، اور درجن بھر کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے شعبے کی ہمہ جہت ترقی اور نیک نامی میں قاسمی صاحب کا خطیرحصہ ہے ۔

 

اکیڈمک اسپرٹ کے ساتھ قاسمی صاحب ایک زبردست منتظم بھی ہیں۔اپنی پہلی ہیڈشپ (2015 تا 2016 ) کے دوران موصوف نے تکثیری سماج:اسلام اور مسلم(Pluralistic Society: Islam and Muslim) جیسے اہم موضوع پرتین روزہ بین الاقوامی سمینار کا انعقاد کیا، جس میں 13 بیرونی ممالک کے اسکالرس اور سفرا اور پانچ سو سے زائد سامعین نے شرکت کی ۔ یہ عالیہ یونیورسٹی کی پہلی بڑی عالمی کانفرس تھی۔اس کے نظم و انصرام میں اس وقت کے شیخ الجامعہ پروفیسرابوطالب خان نے ذاتی دلچسپی لی، بھر پور تعاون پیش کیا اور قاسمی صاحب کے اقدامات کو سراہا۔ یہ عالیہ یونیورسٹی کی تاریخ کا لازوال کانفرنس ہے، جس کی کامیابی کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ اس کی پروسیڈنگ بھی شائع ہوچکی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر سمینار کا انعقاد ، پچاس سے زائد مہمانوں کی معقول ہوسپٹلیٹی، شرکاکے لیے ماکولات اوروقفوں کے درمیان ریفریشمنٹ کا بحسن و خوبی انتظام قاسمی صاحب کی زبرست قوت تنظیم کی دلیل ہے۔اس کے علاوہ جنوری اور فروری 2025 کے دوران ایک آن لائن سمینار اور دو ورک شاپ میں بھی قاسمی صاحب کی تنظیمی صلاحیت سامنے آئی ۔ پروگرام نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ یہ جملہ علمی سرگرمیاں کامیابی سے اختتام پذیربھی ہوئیں۔

 

قاسمی صاحب کی علمی ترجیحات اور ان کی شعبہ جاتی سرگرمیوں سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ہمہ وقت گیان دھیان میں لین شخص کی خانگی زندگی بھلا کیسی ہوگی۔علم و آگہی کا رسیا کہیں جون ایلیا کی طرح مجذوب ، ناکام شوہر اور والد تو نہ ہوگا۔ لیکن قاسمی صاحب دینی شعورسے آگاہ خاصے عملی انسان ہیں۔میاں بیوی اور چار بیٹوں پر مشتمل کنبے کو انھوں نے جس طرح سنبھال رکھا ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ اہلیہ کی مستقل علالت نے انھیں نہ کمزور کیا ہے اور نہ ان کے حوصلے کو پست کیا ہے۔ سبھی بچے معمول کے مطابق زیر تعلیم ہیں۔ سماجی امور میں بھی قاسمی صاحب ایکٹو ہیں۔ یار دوستوں کی خبرگیری بلکہ ان کی اشک سوئی بھی ان کی شخصیت کا روشن پہلو ہے۔ ملاقات کے لیے جب بھی انھیں یاد کیا حاضر پایا۔فون پر بھی اپنوں بیگانوں کے حالات سے باخبر رہتے ہیں اور حتی الوسع دامےدرمے قدمے سخنے حاضر رہتے ہیں۔

 

قاسمی صاحب اس لیے بھی محترم ہیں کہ وہ میری طرح خاکی اور خاکسار ہیں۔ صلہ اور ستائش کی تمنا سے بے پروا کام کئے جاتے ہیں۔ مقالات بڑے اور بین الاقوامی جرنل میں شائع ہوتے ہیں، جو بعض قریبی دوستوں سے ساجھا کرلیے جاتے ہیں اور بس۔ کتاب شائع ہوتی ہے ، حتی کہ ان کی کتابیں بیشتر بیرون ممالک شائع ہوتی ہیں لیکن نہ شور اور نہ غوغا۔ نہ رسم اجرا اور نہ اس کی تگ و دو۔ یہی سبب ہے کہ علمی دنیا کی ہوس ناکی انھیں اپنی گرفت میں نہیں لے پاتی اور نہ ہی وہ کسی کے دام ہی میں آنے والے ہیں۔ قاسمی صاحب اپنی ذاتی خوبیوں، علمی انہماک ، تحقیقی دقت نظری اور اپنی سماجی ترجیحات اور ذمے داریوں کی ادائیگی میں سمپل لیونگ اینڈ ہائی تھنکنگ کے عملی پیکر نظر آتے ہیں۔ہم انھیں رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمھیں بھائے بہت

Comments are closed.