ملک کی جمہوریت پر حملہ ، راہل گاندھی نے ای سی اور بی جے پی کی ملی بھگت کا پردہ فاش کیا

 

کاشف حسن

لیکچرر جامعہ اسلامیہ شانتا پورم کیرالا

راہل گاندھی کی حالیہ پریس کانفرنس نے ہندوستانی سیاست میں ایسے سوالات کھڑے کیے ہیں جن کے جوابات پورے ملک کی جمہوری بنیادوں کو لرزا سکتے ہیں۔ کانگریس رہنما کی جانب سے انتخابی کمیشن پر لگائے گئے الزامات اس بات کا اعلان ہیں کہ بھارت کا جمہوری ڈھانچہ ایک منظم سازش کا شکار ہو چکا ہے۔

کرناٹک کے مہادیوپورہ حلقے میں ایک لاکھ سے زائد جعلی ووٹوں کا معاملہ صرف ایک مقامی واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ نظر آتا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق جعلی پتوں کا اندراج، ڈپلیکیٹ ناموں کی بندر بانٹ، غلط شناختی کارڈز کا استعمال اور حقیقی ووٹرز کو فہرست سے خارج کرنے کا سلسلہ ایک منظم سازش کا اشارہ دیتا ہے جو انتخابی نتائج کو پہلے سے طے شدہ کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔

انتخابی کمیشن کا رد عمل اس پورے معاملے کو مزید مشتبہ بناتا ہے۔ کسی آزاد ادارے سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سنگین الزامات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائے، لیکن کمیشن نے الٹ کر الزام لگانے والے سے معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جب کوئی ادارہ سوالات کا جواب سوالات سے دیتا ہے تو یہ اس کی آزادی اور صداقت پر گہری شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آنے والا ردعمل بھی اسی طرز پر ہے۔ پارٹی کے ترجمان نے راہل گاندھی پر انتخابی کمیشن کو دھمکی دینے کا الزام لگایا ہے، حالانکہ جمہوری نظام میں حزب اختلاف کا بنیادی کردار ہی یہ ہے کہ وہ حکومت اور اداروں کے کام پر نگرانی رکھے اور سوالات اٹھائے۔ اس طرح کے الزامات خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ نظام میں تنقید برداشت کرنے کی گنجائش ختم ہوچکی ہے۔

یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ مودی حکومت کے دوران جو "میجک” نظر آتا رہا ہے، وہ دراصل ایک منظم نیٹ ورک کا نتیجہ ہے۔ سالوں سے یہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ نریندر مودی کے پاس کوئی خاص کرشمہ ہے جس کی وجہ سے وہ مسلسل انتخابات جیتتے رہتے ہیں۔ لیکن راہل گاندھی کے انکشافات اس نظریے کو چیلنج کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ "جادو” دراصل انتخابی نظام میں کی جانے والی مداخلت کا نتیجہ ہے۔

اس صورتحال میں سب سے بڑا نقصان عام ہندوستانی شہری کا ہے۔ جب ووٹ کی قدر و قیمت ختم ہو جائے اور نتائج پہلے سے طے شدہ ہوں تو جمہوری عمل محض ایک تماشا بن جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، یہ سمجھ کر کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں، لیکن اگر یہ سب کچھ پہلے سے منظم ہے تو پھر یہ صرف ایک دھوکہ ہے۔

میڈیا کا کردار اس پورے کھیل میں انتہائی اہم ہے۔ مودی کی حکومت کے دوران میڈیا ایسے کام کرنے لگا ہے جیسے وہ حکومت کا ترجمان ہو۔ تنقیدی صحافت کی جگہ چاپلوسی نے لے لی ہے اور مخالف آوازوں کو دبانے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کے زریعہ لگائے اہم الزامات کو یا تو نظرانداز کیا جاریا ہے یا یا پھر انہیں ہلکے پھلکے انداز میں پیش کیا جاریا ہے۔

ایک متوازن نظام میں مختلف ادارے ایک دوسرے پر نگرانی رکھتے ہیں اور چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن جب یہ توازن بگڑ جائے تو پھر آمریت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اور یہ پہلی دفعہ ہے کہ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے ذریعے امریت کے قلی کھول دی

نفرتی سیاست کا استعمال اس پوری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جب حقیقی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو پھر توجہ ہٹانے کے لیے نفرت اور تقسیم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف مہم، دلتوں اور آدیواسیوں کے ساتھ امتیازی سلوک، اس کی مثالیں ہیں۔

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت یا حزب اختلاف کا معاملہ نہیں ہے۔ جب ملک کے بنیادی ادارے کمزور ہو جائیں یا کسی خاص گروہ کے کنٹرول میں چلے جائیں تو اس کا نقصان پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے میں ہر شہری کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے جمہوری حقوق کی حفاظت کرے اور سوال اٹھائے۔

راہل گاندھی کے انکشافات سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اب تک جو لوگ مودی کے "کرشمے” کو حقیقت سمجھتے تھے، وہ شاید یہ سمجھنے لگیں کہ یہ سب کچھ ایک منظم کھیل کا حصہ ہے۔ انتخابی مشینری میں مداخلت، میڈیا پر کنٹرول، اور مخالف آوازوں کو دبانے کا نظام ہی دراصل مودی میجک ہے ۔

ہندوستانی عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیسا نظام چاہتے ہیں۔ کیا وہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہو اور جمہوریت صرف نام کی ہو، یا پھر وہ حقیقی جمہوری اقدار کی بحالی چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی کے انکشافات سے یہ بحث شروع ہو گئی ہے ،

اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ ماحول میں جہاں الیکشن کمیشن بے بس کھڑا ہے اور اسے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ بی جے پی اب کیا نیا کھیل کھیلے گی؟ کیا کوئی نفرت کا ایجنڈا لے کر آئے گی تاکہ حالیہ فضا کو تبدیل کر دے اور کوئی اور بحث چھیڑ دے؟

جس طرح راہل گاندھی نے لوگوں کو سمجھایا ہے، وہ باتیں اب سمجھ میں آ رہی ہیں۔ اگر یہ ماحول ایک مہینے بھی ملک میں بحث کا حصہ بنا رہے تو بڑی تبدیلی آئے گی۔

Comments are closed.