اے ایم پی نے اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ اپنی تاریخی 3 روزہ قومی مشاورتی میٹنگ شاندار کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی!

 

"ہم اراکینِ پارلیمنٹ کے بے حد شکر گزار ہیں، جنہوں نے پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر ہماری 25 سالہ روڈ میپ پر ہونے والی قومی مشاورتی میٹنگ میں شرکت کی۔”
عامر ادریسی، صدر  اے ایم پی

نئی دہلی(پریس ریلیز)

ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز (اے ایم پی) نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی)، دہلی کے تعاون سے، جمعرات 7 اگست 2025 کو اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ اپنی 3 روزہ قومی مشاورتی میٹنگ مکمل کی۔ اس اجلاس کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لیے 25 سالہ روڈ میپ تیار کرنا تھا۔

تیسرے دن کے اجلاس میں کئی اراکینِ پارلیمنٹ اور ممتاز شخصیات شریک ہوئیں، جن میں نمایاں تھے:
ڈاکٹر سید نصیر حسین – ایم پی (آئی این سی)، کرناٹک، جناب چندر شیکھر آزاد راون – ایم پی (اے ایس پی)، اتر پردیش، جناب ایم۔ ایم۔ عبداللہ – ایم پی (ڈی ایم کے)، تمل ناڈو اور جناب ندیم الحق – ایم پی (ٹی ایم سی)، مغربی بنگال۔

ہر ایم پی نے 3 دن کے دوران روڈ میپ میں بیان کردہ مسائل کی نشاندہی کی اور اے ایم پی کے اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پارلیمنٹ اور اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں ان سفارشات پر عمل درآمد کے لیے کام کریں گے۔

اہم شرکاء میں شامل، سابق مرکزی وزیر اور صدر آئی آئی سی سی سلمان خورشید نے کہا کہ اے ایم پی اور اس کی ٹیم نے کمیونٹی کے لیے ایک اعلیٰ معیار قائم کیا ہے۔ انہوں نے اے ایم پی کے 25 سالہ روڈ میپ کو بے حد سراہا اور کہا کہ یہ کمیونٹی کو بااختیار بنانے کا درست راستہ ہے۔

حیدرآباد سے ایم پی اور صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اسدالدین اویسی نے حکومت کے اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ مسلمانوں کی حالت ایس سی اور ایس ٹی سے بھی بدتر ہے، اور وہ سماجی اشاریوں میں انتہائی پسماندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی مداخلت فوری طور پر ضروری ہے۔

کیرانہ، یو پی سے لوک سبھا ایم پی محترمہ اقرا حسن چودھری نے کہا کہ وہ کئی اجلاسوں میں شریک ہوئی ہیں جہاں بات تو ہوتی ہے مگر عملی اقدامات نہیں ہوتے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے کسی تنظیم کو تحریری تجاویز کے ساتھ دیکھا جو کمیونٹی کی بہتری کا راستہ دکھاتی ہیں۔

ڈاکٹر سید نصیر حسین – ایم پی (آئی این سی)، کرناٹک نے کہا کہ اس شمال-جنوب اشتراک میں ہم شمال یا مغرب کے پسماندہ اضلاع کو اپنانے اور اے ایم پی کے 25 سالہ روڈ میپ کی سفارشات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ڈاکٹر فوزیہ خان، راجیہ سبھا ایم پی، مہاراشٹر نے کہا کہ مرکزی دھارے کی سماجی تنظیموں کو مدارس اور دیگر کمیونٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ تعلیمی چیلنجز کم کیے جا سکیں۔ انہوں نے شرعی دائرے میں خواتین کو بااختیار بنانے کو بھی کمیونٹی کی ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیر الدین شاہ، سابق ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف و سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ اے ایم پی کا روڈ میپ اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک ہر پسماندہ ضلع میں ایک ماڈل کمیونٹی اسکول قائم نہ ہو۔

دیگر شریک شخصیات میں شامل تھے:
سنجے دینا پاٹل، ایم پی، ممبئی؛ ضیا الرحمن برق، ایم پی، سنبھل، یو پی؛ ڈاکٹر محمد جاوید، ایم پی (آئی این سی)، بہار؛ رقیب الحسن، سابق وزیر داخلہ آسام و ایم پی (آئی این سی)، آسام؛ عبد الوہاب پی وی، ایم پی (آئی یو ایم ایل)، کیرالا؛ پپو یادو – ایم پی (آزاد)، بہار؛ شاہد صدیقی – سابق ایم پی، راجیہ سبھا و سابق چیف ایڈیٹر، نئی دنیا؛ وجاہت حبیب اللہ، سابق چیف انفارمیشن کمشنر و سابق چیئرمین، نیشنل کمیشن برائے اقلیت؛ ڈاکٹر ایس وائی قریشی، سابق چیف الیکشن کمشنر؛ اور خواجہ شاہد، سابق وائس چانسلر، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی۔

ان تمام شخصیات نے اے ایم پی کے 25 سالہ روڈ میپ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں اور حلقوں میں ان سفارشات پر عمل کے لیے تیار ہیں۔

اے ایم پی کے صدر عامر ادریسی نے تمام اراکینِ پارلیمنٹ اور شخصیات کا شکریہ ادا کیا اور آئی آئی سی سی کا خصوصی طور پر اس تقریب کی شراکت داری پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اے ایم پی ملک بھر میں بااثر مسلمانوں اور صنعت کاروں سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ ان تجاویز پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

ملک بھر سے اے ایم پی کی سینئر ٹیم کے اراکین، جن میں محمد امین، سجاد پرویز، عویس سروش والا، ریاض عالم، ڈاکٹر عبد الاحد اور دیگر شامل تھے، تینوں دن شریک رہے۔

تقریب کی میزبانی اے ایم پی نیشنل کوآرڈینیشن ٹیم کے سربراہ فاروق صدیقی نے نہایت خوبصورتی سے کی اور تمام شرکاء کا قیمتی وقت دینے پر شکریہ ادا

کیا۔

 

Comments are closed.