جمہوریت کے نگہبان کا زوال: بھارتی عدلیہ کی گرتی ہوئی ساکھ اور عوام کا کم ہوتا اعتماد

 

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)

 

بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا فخر کرتا ہے، اپنی عدلیہ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اس کا تاریخی وقار اور غیر جانبداری داؤ پر لگے ہیں۔ عدلیہ، جو کبھی آئینی اقدار کی نگہبان اور شہریوں کے حقوق کی محافظ سمجھی جاتی تھی، آج سیاسی دباؤ، غیر ضروری بیانات، اور ریٹائرمنٹ کے بعد مشکوک تقرریوں کی دلدل میں پھنستی دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ دہائی سے زائد عرصے میں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے بعض فیصلوں اور ججوں کے رویوں نے عوام کے اعتماد کو مسلسل کمزور کیا ہے۔

 

بھارتی عدلیہ کی داستان اپنی ابتداء سے ہی ایک شاندار سفر رہی ہے۔ 1950 میں آئین کے نفاذ کے بعد، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کا فریضہ سنبھالا۔ 1973 کا کیشوانند بھارتی کیس اس کی ایک عظیم مثال ہے، جہاں سپریم کورٹ نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے نظریے کو متعارف کرایا، جس نے پارلیمنٹ کی مطلق العنانیت کو محدود کیا اور جمہوریت کی روح کو محفوظ رکھا۔ اس دور میں عدلیہ عوام کی امید کا مینار تھی، جو ایمرجنسی (1975-77) جیسے مشکل حالات میں بھی اپنی آزادی کے لیے لڑی۔ لیکن یہ چمکدار ماضی آج کے حالات میں ایک دور کی کہانی لگتا ہے، جہاں عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 

2010 کی دہائی سے عدلیہ کے فیصلوں اور ججوں کے رویوں میں ایک نیا رجحان سامنے آیا، جو اس کی ساکھ کو چیلنج کرنے لگا۔ 2014 کے بعد، جب سے موجودہ حکمراں جماعت برسراقتدار آئی، عدلیہ کے بعض فیصلے اور ججوں کے بیانات سیاسی بیانیوں کے ساتھ غیر معمولی طور پر ہم آہنگ دکھائی دینے لگے۔ مثال کے طور پر، 2017 میں نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن (NJAC) کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ، اگرچہ آئینی طور پر درست تھا، لیکن اس نے ججوں کی تقرری کے کالجیم سسٹم کی غیر شفافیت پر بحث کو ہوا دی۔ کالجیم سسٹم، جس میں جج خود اپنے جانشینوں کا انتخاب کرتے ہیں، پر اکثر غیر شفاف ہونے کے الزامات لگتے ہیں۔ عالمی معیارات، جیسے کہ کینیڈا کا جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن، ایک آزاد اور شفاف تقرری کے عمل کی مثال دیتے ہیں، لیکن بھارت میں یہ نظام اب بھی تنازعات کا شکار ہے۔

 

2018 میں عدلیہ کے اندرونی تنازعات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے ایک پریس کانفرنس کر کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حساس کیسز کی تقسیم غیر منصفانہ طریقے سے کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ، جو عدلیہ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی لمحہ تھا، نے عوام کے سامنے عدلیہ کی داخلی کمزوریوں کو عیاں کیا۔ اسی سال، چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں رام مندر کیس کی سماعت شروع ہوئی، جو بعد میں ایک طنزیہ موڑ لیتی ہے۔ یہ واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالات نہ صرف باہر سے بلکہ اندر سے بھی اٹھ رہے تھے۔

 

2019 میں رام مندر کیس کا فیصلہ عدلیہ کے لیے ایک اہم امتحان تھا۔ سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے ایودھیا میں متنازع زمین کو رام مندر کے لیے مختص کیا۔ فیصلے سے قطع نظر، جسٹس گوگوئی کے بعد کے اقدامات نے زیادہ تنازع کھڑا کیا۔ 2020 میں، ریٹائرمنٹ کے چند ماہ بعد، انہیں راجیہ سبھا کا رکن نامزد کیا گیا۔ یہ تقرری، جو حکومتی فیصلے کا نتیجہ تھی، نے ایک طنزیہ سوال اٹھایا: کیا عدلیہ کے فیصلے مستقبل کی سیاسی تقرریوں کی سیڑھیاں ہیں؟ اسی سال، جسٹس ارون مشرا نے ایک بین الاقوامی عدالتی کانفرنس میں وزیراعظم نریندر مودی کی تعریفوں کے پل باندھے، اور بعد میں وہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین بنے۔ اقوام متحدہ کے بنیادی اصول برائے عدلیہ کی آزادی (1985) واضح کرتے ہیں کہ ججوں کو سیاسی دباؤ سے آزاد رہنا چاہیے، لیکن یہ تقرریاں ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہیں جہاں عدلیہ کی آزادی ایک طنزیہ مذاق بنتی جا رہی ہے۔

 

2020 کا گالوان تصادم بھارتی عدلیہ کے لیے ایک اور امتحان لایا۔ جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے 2022 میں اپنی "بھارت جوڑو یاترا” کے دوران کہا کہ چین نے 2000 مربع کلومیٹر بھارتی زمین پر قبضہ کیا اور 20 فوجی شہید ہوئے، تو ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج ہوا۔ سیٹلائٹ تصاویر اور بین الاقوامی رپورٹس، جیسے کہ رائٹرز کی 2022 کی رپورٹس، اس بیان کی تائید کرتی ہیں۔ لیکن 2023 کی سماعت کے دوران، جسٹس دیپانکر دتا نے راہول گاندھی کی "دیس بھکتی” پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سچا دیس بھکت ایسی بات نہ کرتا۔ یہ ریمارک، جو مقدمے کے قانونی دائرہ کار سے باہر تھا، ایک طنزیہ تناقض پیش کرتا ہے: ایک طرف عدلیہ آزادیِ رائے کی محافظ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، اور دوسری طرف اپوزیشن کے جمہوری حق پر سرزنش کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (1948) کا آرٹیکل 19 ہر شخص کو آزادیِ رائے کا حق دیتا ہے، لیکن جب عدلیہ اسے کمزور کرتی ہے، تو یہ جمہوریت کے لیے ایک طنزیہ چیلنج بن جاتا ہے۔

 

2024 میں الیکٹورل بانڈز کیس نے عدلیہ کی ساکھ کو ایک اور دھچکا دیا۔ سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈز کو غیر آئینی قرار دیا، لیکن اس کی تحقیقات یا اثرات پر کوئی ٹھوس ایکشن نہ لینا ایک طنزیہ صورتحال پیش کرتا ہے۔ ایک طرف عدلیہ بڑے فیصلے سنا رہی ہے، اور دوسری طرف ان کے نفاذ سے گریز کر رہی ہے۔ اسی طرح، پیگاسس جاسوسی اسکینڈل جیسے معاملات میں عدلیہ کی خاموشی اسے ایک تماشائی کردار دیتی ہے، جو عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کرتی ہے۔ عالمی سطح پر، برطانیہ یا آسٹریلیا کی عدالتیں ایسی سنگین خلاف ورزیوں پر فعال تحقیقات کا حکم دیتی ہیں، لیکن بھارت میں عدلیہ کی یہ خاموشی ایک طنزیہ تناقض ہے۔

 

عدلیہ کی اپنی ساکھ کی حفاظت میں ناکامی بھی اس زوال کی کہانی کا حصہ ہے۔ جب حکمراں جماعت کے رہنما، جیسے نشیکانت دوبے، چیف جسٹس پر خانہ جنگی جیسے سنگین الزامات لگاتے ہیں، یا جب ایک وزیر کرنل صوفیہ کے بارے میں نازیبا ریمارکس کرتا ہے، تو عدلیہ کی خاموشی اسے ایک کمزور ادارہ دکھاتی ہے۔ عالمی معیارات، جیسے کہ برطانیہ کا جوڈیشل کمپلینٹس کمیشن، ججوں کے رویے کی تحقیقات کرتا ہے، لیکن بھارت میں عدلیہ کی یہ خاموشی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جہاں وہ اپنی عزت کی حفاظت سے بھی قاصر ہے۔

 

عدلیہ کے اس زوال کے حل کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، ججوں کی تقرری کا عمل شفاف ہونا چاہیے۔ کالجیم سسٹم کی جگہ ایک آزاد کمیشن، جیسے کہ کینیڈا کا جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن، قائم کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا، ججوں کو غیر ضروری سیاسی یا مذہبی تبصروں سے گریز کرنا چاہیے، اور ان کے فیصلے تحریری شکل میں واضح ہونے چاہئیں۔ تیسرا، عدلیہ کو اہم معاملات، جیسے الیکٹورل بانڈز یا جاسوسی اسکینڈلز، پر فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ آخر میں، ایک آزاد نگرانی کا نظام، جیسے کہ آسٹریلیا کا جوڈیشل کمیشن، ججوں کے رویے کی جانچ کے لیے قائم کیا جائے۔

 

بھارتی عدلیہ آج ایک طنزیہ موڑ پر کھڑی ہے، جہاں اس کی ساکھ، جو دہائیوں کی محنت سے بنی، ایک مذاق بنتی جا رہی ہے۔ غیر ضروری بیانات، سیاسی تقرریاں، اور خاموشی عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ عالمی معیارات کے مطابق، ایک مضبوط عدلیہ قانون کی حکمرانی کی ضامن ہوتی ہے، لیکن بھارت میں عدلیہ کو اپنی آزادی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک معجزے کی ضرورت ہے۔ اگر عدلیہ اپنی غیر جانبداری اور شفافیت بحال کر لیتی ہے، تو یہ نہ صرف بھارت کی جمہوریت بلکہ عالمی عدالتی نظاموں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ اپنی تاریخی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لے، اپنی ساکھ کو طنزیہ تماشے سے بچائے، اور عوام کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کرے۔ کیونکہ، اگر عدلیہ اپنی چمک کھو دیتی ہے، تو جمہوریت کا تاج بھی دھندلا جاتا ہے۔

Comments are closed.