مکیش امبانی نے مسلسل پانچویں سال نہیں لی کوئی تنخواہ
• کورونا کے باعث 2020 میں رضاکارانہ طور پر چھوڑ دی تنخواہ
• کورونا سے پہلے انہوں نے لگاتار 12 سال تک 15 کروڑ تنخواہ لی تھی
ممبئی: دنیا کی امیر ترین شخصیات میں سے ایک مکیش امبانی نے مسلسل پانچویں سال کمپنی سے کوئی تنخواہ نہیں لی۔ امبانی نے مالی سال 2020-21 سے کوئی تنخواہ نہیں لی ہے۔ درحقیقت، کورونا کی وبا کے بعد پیدا ہونے والے سنگین حالات کے پیش نظر مکیش امبانی نے رضاکارانہ طور پر اپنی پوری تنخواہ بشمول تمام قسم کے الاؤنس، ریٹائرمنٹ کے فوائد اور کسی بھی قسم کے کمیشن کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
کورونا سے پہلے، مالی سال 2008-09 سے 2019-20 کے درمیان، مکیش امبانی نے اپنا سالانہ معاوضہ 15 کروڑ روپے تک محدود رکھا تھا۔ اس کیوجہ انتظامی سطح پر انڈسٹری اور کمپنی کے لیے ذاتی مثال قائم کرنا تھی۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں کوویڈ 19 وبائی بیماری نے ملک کے سماجی، اقتصادی اور صنعتی حالات پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔ ریلائنس کی سالانہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے۔
ریلائنس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکھل میسوانی کو تنخواہ اور دیگر اشیاء کی مد میں کل 25 کروڑ روپے سالانہ ملتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کے چھوٹے بھائی ہیتل میسوانی کی تنخواہ بھی 25 کروڑ روپے ہے۔ ریلائنس کے دوسرے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی ایم ایس پرساد کو تنخواہ اور دیگر اشیاء کی مد میں تقریباً 20 کروڑ روپے ملتے ہیں۔
Comments are closed.