خصوصی سروے کے معاہدہ ملازمین کا حکومت کو الٹی میٹم، 16 اگست سے غیر معینہ مدت کا دھرنا
جالے (محمد رفیع ساگر/بی این ایس)
خصوصی سروے کے معاہدہ ملازمین اور انجینئرز کی تنظیم نے حکومت کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے دیرینہ مطالبات کو فوراً منظور نہ کیا گیا تو 16 اگست 2025 سے ریاست گیر غیر معینہ مدت کا دھرنا اور ستیہ گرہ شروع کیا جائے گا۔ تنظیم کے مطابق، وہ گزشتہ پانچ برس سے محکمہ اراضی سروے میں اپنی قیمتی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن بارہا یاد دہانی کے باوجود حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
تنظیم کے اہم مطالبات میں خصوصی سروے کے تمام معاونین، بندوبست افسران، سروے قانون گو، سروے معائنہ کار، جونیئر انجینئر، ڈرافٹس مین اور اعلیٰ و ادنیٰ درجے کے کلرکوں کی ریٹائرمنٹ عمر 60 سال مقرر کرنا، مستقل تقرری میں 5 اضافی نمبر دینا اور سبھی کو مساوی تنخواہ و مراعات فراہم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ESIC اور EPFO کی سہولتیں فوری طور پر فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
اعلان کیا گیا ہے کہ بطور احتجاج تمام ملازمین 11 اگست سے 14 اگست تک بازو پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کام کریں گے، اور مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں 16 اگست سے محکمانہ کام کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت تک دھرنا و ستیہ گرہ جاری رکھیں گے۔
یہ فیصلہ سمدھنیا پنچایت سرکار بھون میں منعقدہ ایک اجلاس میں لیا گیا، جس میں گپال کمار (صدر)، کشور کنال، گھنشام کمار، کنور جیت راجہ، ارمان خان، محمد معظّم سمیت کئی عہدیداران اور اراکین موجود تھے۔
Comments are closed.