جعلی اندراجات نہیں، اعتماد کا بحران: بھارت میں انتخابی عمل کا کڑا امتحان
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین (اکولہ،مہاراشٹر)
——————————————
جمہوریت ایک زندہ، سانس لیتا نظام ہے جو اس وقت تک قائم و دائم رہتا ہے جب اس کے ادارے شفاف ہوں، عوام کا اعتماد قائم رہے اور احتساب کا عمل مسلسل چلتا رہا ۔ اس نظام کی اصل روح وہ لمحہ ہے جب ایک عام شہری خاموشی سے بیلٹ باکس(ای وی ایم مشین ) تک پہنچ کر اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ اسی رائے کے تقدس کی حفاظت کے لیے الیکشن کمیشن وجود رکھتا ہے۔ لیکن جب محافظ اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرے، جب خبر دینے والا میڈیا اختیار کے سامنے سر جھکا دے، اور جب انتخابی عمل کے بنیادی ڈھانچے میں شکوک کی دیمک لگ جائے تو خطرہ محض وقتی بحران نہیں رہتا، یہ جمہوریت کی بقا کا سوال بن جاتا ہے۔ آج بھارت اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں تازہ انکشافات نے دھاندلی کے الزامات کو محض سیاسی شور نہیں رہنے دیا، بلکہ ٹھوس سوالات کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ کیا جمہوریت کی حرمت خود اس کے نگہبان اداروں کے ہاتھوں پامال ہو رہی ہے؟
راہل گاندھی کی جانب سے پیش کی گئی مثالیں کسی جلسے کی جذباتی تقریر کے جملے نہیں، بلکہ ایک ایسے نظامی عیب کی علامت ہیں جو اندر ہی اندر پورے انتخابی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ایک ہی ووٹر آدتیہ شریواستو کا ایک جیسے شناختی نمبر کے ساتھ چار مختلف ریاستوں میں اندراج ہونا کسی معمولی بے ترتیبی سے بہت آگے کی بات ہے۔ اسی طرح بنگلورو کے ایک چھوٹے سے کمرے کے پتے پر درجنوں ووٹروں کا رجسٹر ہونا سادہ انتظامی غلطی کا نتیجہ نہیں لگتا؛ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یا تو ڈیٹا انٹری اور ویری فکیشن کے مراحل میں سنگین سستی اور بدنظمی موجود ہے، یا پھر ایک منظم منصوبے کے تحت ووٹر لسٹوں میں چھیڑ چھاڑ ہو رہی ہے۔ اگر ایک شہری کی شناخت کئی حلقوں میں فعال رہے، یا فرضی پتے جعلی اندراجات کو سہارا دیں، تو اس کا اثر صرف ایک نشست تک محدود نہیں رہتا؛ یہ مجموعی نتائج پر ایسی خاموشی سے اثر انداز ہوتا ہے کہ عوام کو خبر بھی نہیں ہوتی اور اقتدار کا توازن بدل جاتا ہے۔
یہ معاملہ محض تکنیکی کمزوری کا نہیں؛ یہ ڈیٹا گورننس اور سائبر سکیورٹی کی بنیادی دراڑوں کا بھی ہے۔ جب انتخابی ڈیٹا بیس غیر محفوظ رہے، جب اندراج اور حذف کے قواعد و ضوابط کاغذ پر تو سخت ہوں مگر عمل میں نرم پڑ جائیں، جب فزیکل ویری فکیشن محض خانہ پُری بن جائے، تو ووٹر لسٹیں ایک ایسے ہتھیار میں بدل جاتی ہیں جن سے نتائج کی سمت بتدریج مگر فیصلہ کن انداز میں موڑی جا سکتی ہے۔ ایسے نظام میں جعلی یا دہرا اندراج صرف ایک نمبر نہیں رہتا، وہ اس اجتماعی اعتماد پر ضرب بنتا ہے جو جمہوری فیصلوں کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہ چوٹ ایک انتخاب تک محدود نہیں رہتی؛ یہ آنے والی دہائیوں تک سیاسی ثقافت اور ادارہ جاتی ساکھ کو زخمی کرتی ہے۔
اس تصویر کا سب سے افسوسناک رنگ میڈیا کے کردار میں جھلکتا ہے۔ میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، اس پر لازم تھا کہ وہ سوال اٹھاتا، حقائق کی تہہ تک جاتا، اور عوام کو وہ معلومات فراہم کرتا جس سے سچ اور پروپیگنڈہ الگ ہو۔ مگر جب بھارت ایک ایک بڑے سب سے تیز چینل کا فیکٹ چیک عجلت میں مخالف بیانیہ رد کرنے کے لیے پیش ہو، پھر شواہد سامنے آنے پر وہی خبر خاموشی سے ہٹا دی جائے، تو یہ صحافتی اصولوں کی شکست کا اعلان ہوتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی رپورٹ بظاہر تحقیقات کرتی نظر آئے مگر متعلقہ افراد کے سیاسی تعلقات یا تضادات کو نرم لہجے میں پیش کرے، وضاحتوں کو بغیر سخت سوالات کے قبول کر لے، تو یہ عمل خبر کی غیر جانب داری کو داغدار کرتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ میڈیا کا ایک مؤثر حصہ عوام کا وکیل رہنے کے بجائے اقتدار کے بیانیے کا محافظ دکھائی دیتا ہے، اور یہ تبدیلی جمہوریت کی سانسوں کو بوجھل کر دیتی ہے۔
اس کہانی کا تاریک ترین موڑ الیکشن کمیشن کی روش میں دکھائی دیتا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ ادارہ اپنی غیر جانب داری، سختی اور فوری کاروائی کے لیے مثالی سمجھا جاتا تھا۔ آج جب سنگین نوعیت کے شواہد اور سوالات سامنے آتے ہیں تو اولین ردعمل شفاف انکوائری، ڈیٹا کے آزادانہ آڈٹ، اور قصورواروں کے خلاف فوری کارروائی ہونا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس مدعی سے حلف نامے طلب کرنا، یا معاملے کو بیوروکریٹک کارروائیوں کی نذر کر دینا اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ یا تو ادارہ دباؤ میں ہے، یا پھر اس نے جمود کو تحفظ دینے میں عافیت تلاش کر لی ہے۔ بوتھ لیول پر تعینات عملے کی جانب سے یہ کہنا کہ مہاجر مزدور جعلی کرایہ ناموں پر کارڈ بنوا لیتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں، محض ایک عذر نہیں، پورے نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ اگر یہی صورت حال ہے تو پھر سوال لازم ہے کہ گھر گھر تصدیق کا دعویٰ کہاں کھڑا ہے، فیلڈ ویری فکیشن کے معیار کیا ہیں، ڈیپلیکیشن پکڑنے کے الگورتھم کتنے مؤثر ہیں، اور داخلی آڈٹ کب اور کیسے ہوتا ہے؟
اس تمام پس منظر میں اصل مسئلہ چند ہزار اندراجات کی درستگی نہیں، اعتماد کی بحالی ہے۔ جمہوری ڈھانچے کی مضبوطی اعداد و شمار کے کم و بیش ہونے سے کم اور عمل کے منصفانہ، قابلِ تصدیق اور بے خوف ہونے سے زیادہ جڑی ہے۔ جب ووٹر فہرستوں میں منظم بے ضابطگیوں کے آثار دکھیں، جب میڈیا سوالات کی جگہ صفائیاں دے، اور جب الیکشن کمیشن بروقت، آزاد اور قابلِ بھروسہ تفتیش نہ کرے، تو انتخاب محض ایک رسم رہ جاتا ہے، اس کی روح نکل جاتی ہے۔ ایسی فضا میں انتخابی آمریت کا خدشہ جنم لیتا ہے جہاں پولنگ تو ہوتی ہے مگر اعتماد غائب ہو جاتا ہے، نتیجہ آتا ہے مگر ساکھ باقی نہیں رہتی۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے چند واضح اور قابلِ عمل اقدامات ناگزیر ہیں۔ الیکشن کمیشن کو آزاد ماہرین کے ساتھ مل کر ووٹر ڈیٹا بیس کا مکمل آڈٹ کرانا چاہیے، جس میں بایومیٹرک ڈیڈپلیکیشن، پتوں کی جغرافیائی تصدیق، اور اندراج/حذف کے ورک فلو کا ریڈ ٹیم ٹیسٹنگ شامل ہو۔ بوتھ لیول افسران کی تربیت، فیلڈ ویری فکیشن کے معیارات کی از سر نو تشکیل، اور ہر اندراج کے ساتھ ٹائم اسٹیمپڈ، جیو ٹیگڈ ثبوت کی لازمی شرط اعتماد بڑھا سکتی ہے۔ شہریوں کے لیے ایک شفاف پورٹل ہو جہاں وہ اپنے محلے کی ووٹر لسٹ میں مشتبہ اندراجات کی نشاندہی کر سکیں اور اس پر مقررہ مدت میں کارروائی کی پابندی ہو۔ میڈیا اداروں کے اندر نیوز روم ایتھکس، سورس ڈاکیومنٹیشن اور تصحیح کے شفاف پروٹوکول مضبوط کیے جائیں تاکہ فیکٹ چیک نام کے تحت رائے تراشی کا دروازہ بند ہو۔ پارلیمانی نگرانی کی سطح پر ایک کثیر الجماعتی اسٹینڈنگ کمیٹی انتخابی عمل کے ہر کلیدی مرحلے کی کھلی سماعت کرے، رپورٹیں عام کی جائیں اور سفارشات پر باندھنے والی مدت میں عمل ہو۔
تاہم قوانین اور پروٹوکول تبھی جان پائیں گے جب عوام اپنی شہری ذمہ داری نبھائیں۔ ہر شہری کا حق اور فرض ہے کہ وہ اپنے اندراج کی وقتاً فوقتاً جانچ کرے، مشتبہ اندراجات کی نشاندہی کرے، اور مقامی نمائندوں، میڈیا اور سول سوسائٹی پر دباؤ ڈالے کہ معاملہ دبنے نہ پائے۔ یہ جدوجہد کسی ایک جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں، جمہوری وقار کے لیے ہے۔ اگر ہم نے اس مرحلے پر اداروں کو ان کی آئینی ذمہ داری یاد نہ دلائی تو تاریخ محض یہ نہیں لکھے گی کہ دھاندلی ہوئی؛ وہ یہ بھی لکھے گی کہ جب وقار نیلام ہو رہا تھا تو عوام خاموش تھے۔
آخر میں یہی حقیقت باقی رہتی ہے کہ جمہوریت اعتماد کے ستون پر کھڑی ہے۔ اگر ووٹ کی حرمت پر شائبہ پڑ جائے تو اقتدار کی عمارت خواہ کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہو، اسے گرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ آج وقت ہے کہ ہم الفاظ سے آگے بڑھ کر نظام کی درستی کے لیے اجتماعی مطالبہ کریں، شفافیت کو معیار بنائیں، اور ہر اس کمزوری کو دور کریں جو ہماری اجتماعی آواز کو کمزور بناتی ہے۔ یہی راستہ جمہوریت کی روح کو تازہ سانس دے سکتا ہے اور اسی سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، منصفانہ اور معتبر نظام چھوڑا جا سکتا ہے۔
Comments are closed.