میرا عظیم و آزاد ہندوستان جس پرمیں قربان !
ذکی نور عظیم ندوی ۔ لکھنؤ
ہر سال 15 اگست کی صبح جب پورے ہندوستان کی فضا میں ترنگا لہرایا جاتا ہے اور اس کی چھاؤں تلے قوم کا بچہ بچہ "وطن کی مٹی گواہ رہنا” کے نغمے گاتا ہے، تو میرے دل میں آزادی کی وہ پوری کہانی رقص کرنے لگتی ہے ، جس کیلئے لاکھوں شہیدوں نےاپنے خون کا نذرانہ پیش کیا، جہاں لاکھوں معلوم و نامعلوم مجاہدوں نے اپنی جانوں کی قربانی پیش کرکے ہمیں یہ آزادی بخشی تاکہ ہم اب اپنی مرضی سے جئیں، بولیں، سوچیںاور آگے بڑھیں۔ اور اس طرح ہمیںوہ تا ریخی و عظیم آزادی ملی جو صرف انگریزوں کی زنجیروں سے نجات کا نام نہیں بلکہ در حقیقت وہ آزادی ہےجو دلوں کو جوڑے، ذہنوں کو آزاد کرے، اور ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے دیکھے گئے خوابوں کو سچی تعبیر عطا کرے۔
اس آزادی کے بعد ہم نےاس احساس کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم کیا کہ اب میرآ زادہندوستان اس عظیم ملک اور اس حیثیت اور مقام پر آپہنچا جہاں انسان کا تعارف اس کے مذہب، زبان، یا نسل سے نہیں، بلکہ اس کے کردار، خلوص اور انسانیت سے ہو۔اور یہاں کی سرزمین وہ سرزمین بن گئی ہے جہاں دلوں کے درمیان دیواریں نہیں بلکہ پل ہوں، جہاں ایک ہندو کا درد کسی مسلمان کو تڑپا دے، جہاں ایک سکھ کی مسکراہٹ کسی عیسائی کے چہرے پر خوشی بکھیر دے، جہاں ایک بودھ کی خاموشی کسی جین کے دل میں آواز بن کر گونجے۔
یہ وہ آزادی ہے جس کے بعد تمام محبین وطن نے عہد کیا کہ میرا عظیم و آزاد ہندوستان ایک مکمل آزادی کا چہرہ بنے، جہاں صرف سیاسی یا قانونی آزادی نہیں، بلکہ روحانی، سماجی، تہذیبی اور فکری آزادی ہو اور یہ سرزمین رنگوں کا حسین امتزاج بنے۔ یہاں مندروں کی گھنٹیاں بجیں، تو اذان کی آواز فضاؤں میں رس گھولے، گردواروں میں کیرتن اور گرجا گھروں میں گیت گانے کی بھی آزادی ہو۔ یہ سب طریقے، آوازیں مختلف مگر ان کے پیروکاروں کا مقصد امن، محبت، اور روحانی سکون کے علاوہ کوئی منفی کردار یا کسی کی ایذارسانی ہرگز نہ ہو۔
میرا عظیم و آزادہندوستان مختلف زبانوں کا مرکز اور سنگم ہو۔ کوئی بنگلہ بولے تو کوئی تمل، کوئی پنجابی توکوئی سنسکرت، کوئی کنّڑ تو کوئی کشمیری، کوئی مراٹھی تو کوئی اردوکے موتی بکھیرتا نظر آئے۔ ان سب زبانوں کی مٹھاس، ان کی لطافت، ان کی نغمگی مل کر ایک ایسا سرور پیدا کرے جسے سن کر روح وجد میں آ جائے۔ زبان کا فرق دوری نہیں، قربت کا ذریعہ بن جائے، ہر زبان نئی تہذیب کا دروازہ کھولے، ایک نیا زاویہ عطا کرے۔
میرا عظیم و آزاد ہندوستان ایک ایسا گلستاں ہو جہاں ہر پھول کا رنگ جدا، ہر خوشبو کا مزاج مختلف، مگر سب مل کر ایک ایسی فضا تخلیق کریں جس میں مہک بھی ہو اور کشش بھی۔ یہاں گنگا جمنی تہذیب صرف ایک تاریخی اصطلاح نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی میں ہر جگہ اپنے وجود کا احساس دلائے۔ یہاں دیوالی کی چمک اور ہولی کے رنگ میں ہندو خوشی منائیں تو عید کی شیرینی اور عید قرباں کی قربانی میں مسلمان اطاعت و قربانی کے جذبہ سے سرشار نظر آئے۔
اس عظیم اور آزاد ہندوستان میں ہر مذہب کا پیروکار دوسرے کے عقائد کا احترام کرے۔ نہ کوئی تعصب ہو، نہ کینہ، نہ خوف، نہ نفرت۔ اختلاف رائے ہو مگر دشمنی نہیں۔ مذہب پر بحث، اس کی تعلیم وتبلیغ ہو، مگر دل آزاری نہیں، کوئی کسی کو کمتر سمجھ کر خود کی برتری کے دعوے کے بجائے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر مزید بلندی کی طرف رواں دواں رہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی اور وہاں امن و عافیت کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کرے۔
میرے عظیم و آزاد ملک کی یہ سرزمین صرف تہذیبوں کا سنگم نہیں، دلوںکے میل کا مرکز بن جائے۔ سڑک پر بیٹھے بھوکے و پریشان حال شخص سے کوئی یہ نہ پوچھے کہ اس کا مذہب اور ذات کیا ہے، بلکہ اس کی ضرورت پوری کرکےاپنی تسکین کا سامان کرے اور اگر ضرورت ہو تو اس کے ہاتھ میں روٹی رکھ کر انسانیت کی بقا کا ثبوت دے۔ اگر کسی کے گھر میں خوشیاں آئیں تو مل کرسب اس کا لطف اٹھائیں،اور کبھی کوئی پریشانی دستک دےتو اس کے روک تھام کیلئے مضبوط چٹان بن جائیں اور اگر کہیں آگ لگ جائے توبنا بلائے سب لوگ پانی لے کر آجائیں۔
میرے اس عظیم اور آزاد ہندوستان میں ہر کوئی "اپنا” ہو۔ یہاں پردیسی کا کوئی تصور نہ ہو ،آپسی بھائی چارے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تعاون باہمی کے مقصد سے اپنی ذات، زبان یا عقیدہ کا تصور ذہنوں سے محو ہوجائے،اور صرف یہ نظر آئے کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے، اور درد کا احساس اس کی زندگی کی سب سے بڑی شناخت بن جائے۔یہاں دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ اور دوسروں کے زخم پر مرہم رکھنا فرض سمجھا جائے۔جہاں محبت کا دریا بہے، جہاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر سب ترقی کی طرف بڑھیں ۔
میرےعظیم اور آزاد ہندوستان میں تعلیم کا دروازہ ہر بچے کے لیے کھلا ہو، کسی کو اس لیے تعلیم سے محروم نہ رکھا جائے کہ وہ کسی خاص برادری یا طبقہ سے ہے۔ جہاں ہر شخص کو صحت، عزت، انصاف اور روزگار ملے، چاہے وہ کسی بھی نسل یا علاقے سے ہو۔ یہاں سب کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں، اور سب کے خوابوں کو حقیقت بننے کی آزادی ہو۔اور یہ آزادی سماجی مساوات، معاشی انصاف اور انسانی شرافت کا ضامن بن جائے۔
میرے اس عظیم اور آزاد ہندوستان میں سیاست جوڑنے کا ذریعہ ہو، توڑنے کا نہیں۔ لیڈر عوام کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کریں۔انتخابی جلسوں میں نفرت کی نہیں، ترقی، اخوت، انصاف، اور روشن مستقبل اور خوشحالی کی باتیں ہوں۔ پارلیمان و اسمبلیوںمیں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے سنجیدہ غور و فکر اور مذاکرات ہوں، گالم گلوچ نہیں۔ میڈیا آگ لگانے کے بجائے حق اور سچ دکھانے کو اپنا مشن سمجھے۔
میرے اس عظیم اور آزاد ملک کی سرزمین میں رات کو ہر کوئی بلا خوف گھر لوٹ سکے، جہاں کوئی اقلیت، کمزور یا پسماندہ اور بے سہارا اپنے وجود سے خوفزدہ نہ ہو، جہاں کمزور و مزدور کے بچے ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا خواب بھی دیکھیں اور اسے حقیقت میں بدل سکیں۔ جہاں فرقہ وارانہ فسادات تاریخ کے گرد آلود صفحات میں دفن ہوجائیں، اور حال صرف امن اور ترقی سے عبارت ہو۔
یہ ہمارا عظیم و آزاد ہندوستان ہے جو ہمارے اندر چھپا ہے، جسے ہم بیدار کر سکتے ہیں۔ اس کیلئے نہ کسی بڑی فوج کی ضرورت ہے، نہ ہتھیاروں کی، بلکہ صرف دلوں کو جوڑنے والی زبان ، ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے، گلے لگانے اور معاف کرنے والے حوصلے کی ضرورت ہے۔اور پھر میں فخر سے کہ سکتا ہوں کہ میں جس عظیم و آزاد ہندوستان کا باشندہ ہوں، وہ انمول ہے، نایاب ہے۔
یہی ہندوستان ہماری ترقی،خوشحالی اوراقوام عالم کی قیادت کا محور ہے ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے ایک ایسی حقیقت بنا سکتے ہیں جو ہماری نسلوں کے فخر،خوشی اورسکون کا ضامن بن جائے۔اور ہم فخر سے کہہ سکیں ہمارا عظیم و آزادہندوستان وہ ہے جہاں محبت بولتی ہے، دل سنتے ہیں، اور روحیںشاداں و فرحاں رہتی ہیں۔ اور اس کی آزادی کا مطلب صرف پرچم لہرانا نہیں بلکہ، دلوں کا ملنا اور خوشیوں میںجھومنا ہے۔ جہاں بینڈسے زیادہ احساس میں خوشبو بکھرتی ہے۔ یہی میرا خواب ہے، یہی میرا عظیم اورآزادہندوستان ہے۔
(zakinoorazeem@gmail.com)
Comments are closed.