مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے بیگم عزیز النسا ہال میں اینٹی ریگنگ ہفتہ اور تعارفی پروگرام کا اہتمام
علی گڑھ، 13 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیگم عزیز النسا ہال میں اینٹی ریگنگ ہفتہ کا آغاز مختلف سرگرمیوں کے ساتھ کیا گیا، جو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) اور سینٹر فار یوتھ کے رہنما خطوط کی روشنی میں منعقد کی گئیں۔ 18 اگست تک جاری رہنے والے اس پروگرام کو ہال میں اقامت پذیر نئی طالبات کے لیے تعارفی تقریب کے طور پر بھی ترتیب دیا گیا، جس کا آغاز شعبہ اراضی و باغات کے تعاون سے ’ایک پودا ماں کے نام‘ عنوان سے شجرکاری مہم سے ہوا۔
پرووسٹ پروفیسر آسیہ چودھری نے طالبات کو خوش آمدید کہا، اور انہیں تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے ہال اور یونیورسٹی میں موجود سہولیات اور کاؤنسلنگ خدمات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔
چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شارق عقیل نے جسمانی اور دماغی صحت کے موضوع پر لیکچر دیا۔ انہوں نے اے ایم یو کی شاندار روایات کا ذکر کرتے ہوئے طالبات کو ادارے کی تاریخ اور بانیان کی قربانیوں سے روشناس ہونے کی تلقین کی۔
اینٹی ریگنگ آگہی سیشن کے دوران طالبات کو بتایا گیا کہ ریگنگ ایک قابلِ سزا مجرمانہ عمل ہے، جس کے سنگین قانونی اور تادیبی نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر خفیہ شکایت کرنے کے ذرائع، بشمول نیشنل اینٹی ریگنگ ہیلپ لائن (1800-180-5522) کے بارے میں بتایا گیا۔ مزید برآں، ایک نکڑ ناٹک کے ذریعے ریگنگ کے خطرات کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام میں ہال کے وارڈنز بھی موجود رہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ نسواں و قبالت میں بریسٹ فیڈنگ بیداری ہفتہ کی تکمیل
علی گڑھ، 13 اگست: اجمل خاں طبیہ کالج، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ نسواں و قبالت میں عالمی بریسٹ فیڈنگ بیداری ہفتہ، مضمون نویسی، پوسٹر سازی، عوامی بیداری مہمات، طبیہ کالج اسپتال میں آگہی مہمات اور خصوصی کیمپوں کے انعقاد کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔
پروگرام کے پہلے دن مضمون نویسی مقابلہ منعقد کیا گیا جس کے بعد انڈرگریجویٹ طلبا نے چھ گروپوں میں پوسٹر سازی کے مقابلے میں حصہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی امراضِ نسواں او پی ڈی میں آنے والی خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤوں کے لیے آگہی سیشن منعقد کیے گئے۔ اس دوران ہندی زبان میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے، جن میں دودھ پلانے کے فوائد اور طریقے بیان کیے گئے تھے۔
ایک بیداری پروگرام مرزاپور گاؤں میں دواخانہ طبیہ کالج اور سوشل ورک شعبہ کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی شعبہ نسواں و قبالت کی او پی ڈی میں بھی ایک خصوصی کیمپ منعقد کیا گیا۔
تمام سرگرمیوں کی نگرانی شعبہ کی صدر پروفیسر صبوحی مصطفیٰ نے کی، جبکہ ڈاکٹر اے احمد خان اور ڈاکٹر فہمیدہ زینت نے ہفتہ بھر کی سرگرمیوں کو مربوط کیا۔ پوسٹ گریجویٹ اسکالرز اور غیر تدریسی عملے نے پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
پروفیسر مصطفیٰ نے خواتین اور مردوں میں بیداری پیدا کرنے، پیدائش کے فوراً بعدماں کا دودھ پلانے اور اسپتال میں کاؤنسلنگ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عوامی شرکت کو ایسے پروگراموں کی کامیابی کی کلید قرار دیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں یوم آزادی کی تقریبات: وکست بھارت یووا کنیکٹ، ہر گھر ترنگا مہم، ثقافتی پروگرام، شجرکاری اور حب الوطنی پر مبنی سرگرمیاں منعقد
علی گڑھ، 13 اگست: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ملک کے 79 ویں یوم آزادی سے قبل متعدد سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی جارہی ہیں جس میں وکست بھارت یووا کنیکٹ اور ہر گھر ترنگا جیسے قومی موضوعات کے تحت متعدد پروگرام شامل ہیں۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، اسکولوں اور ثقافتی اکائیوں کی جانب سے یہ سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن میں اساتذہ، طلبہ، اور عملہ کے اراکین نے بھرپور شرکت کی۔
کلچرل ایجوکیشن سینٹر (سی ای سی) میں ’وکست بھارت 2047 میں نوجوانوں کا کردار‘ موضوع پر ایک گروپ ڈسکشن منعقد کیا گیا، جسے یونیورسٹی ڈیبیٹنگ اینڈ لٹریری کلب اور کلب فار شارٹ ایوننگ کورسز نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا۔
ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی، پروفیسر محمد نوید خان اور پروفیسر نازیہ حسن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہیں قابل تجدید توانائی، شجرکاری، دیہی ترقی، کم لاگت کی ہاؤسنگ، شمولیتی تعلیم، اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے موضوعات پر کام کرنے کی تلقین کی۔
سی ای سی کے اراکین نے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، خلائی تحقیق کی کامیابیاں، نئی تعلیمی پالیسی، تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا کردار، یو پی آئی کے ذریعے مالی قیادت، اور ماحولیاتی آگہی جیسے اہم امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حکومت ہند کی اسکیموں جیسے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ، دیہی رہائشی اسکیمیں، اور محروم طبقات کے لیے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
یہ سیشن مس آمنہ عاصم اور مس مدیحہ ناز کی نظامت میں مکمل ہوا۔ اختتام پرشرکاء کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے اختراع، کاروبار، اور بیداری سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کا حلف دلایا گیا۔
اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر نے ’ذاتی زندگی میں کاؤنسلنگ کا کردار: بہبود کی جانب ایک راستہ‘ موضوع پر آن لائن لیکچر کا اہتمام کیا۔بنارس ہندو یونیورسٹی کی پروفیسر نشاط نے دماغی صحت سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے طلبہ کی کاؤنسلنگ کی اہمیت اجاگر کی۔
پروفیسر رفیع الدین اور ڈاکٹر نشید امتیاز نے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر سارہ جاوید نے پروگرام کی نظامت کی۔
نعرہ نویسی کے مقابلے میں شیرین بدرقہ، فِلزہ کاکُل اور عارفہ شکیل بالترتیب اول، دوم اور سوم انعام حاصل کیا۔
شعبہ عمرانیات نے یوم آزادی کے موقع پر ’ایک درخت لگائیں، ایک مستقبل بنائیں‘ کے نعرے کے ساتھ شجرکاری مہم کا انعقاد کیا۔ اس کے بعد ’میرا ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کا تصور‘ موضوع پر تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ پروفیسر محمد اکرام نے خطاب کیا۔ ان کے ساتھ ہی 20 طلبہ نے معاشی ترقی، سماجی انصاف، ثقافتی تنوع اور پائیداری پر اظہارِ خیال کیا۔تقریری مقابلے میں بدرعالم نے پہلا مقام اور سید علیہ فاطمہ نے دوسرا مقام حاصل کیا۔
فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز نے ہر گھر ترنگا مہم کے تحت ترنگا ریلی نکالی، جس کی قیادت ڈین پروفیسر رئیس اللہ خان نے کی۔ طلبہ، اساتذہ اور عملے نے جوش و خروش سے شرکت کی۔ یہ پروگرام پروفیسر اقبال احمد کی زیر نگرانی ترتیب دیا گیا۔
جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ فزیالوجی نے وکست بھارت ایٹ 2047یووا کنیکٹ کے تحت شجرکاری مہم کا اہتمام کیا اور اشوک و گل مہر کے پودے لگائے گئے۔ پروفیسر گل آر این خان، اساتذہ اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے مہم میں حصہ لیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی بہتری کی تحریکوں میں آگے آئیں اور گھروں، ہاسٹلز یا محلوں میں درخت لگا کر یوم آزادی کا جشن منائیں۔
اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں خصوصی اسمبلی، پوسٹر سازی اور مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کئے گئے۔ یہاں اتحاد اور ٹیم ورک کا جذبہ فروغ دینے کے لئے ’سرکل آف یونٹی‘ بھی ترتیب دی گئی۔
اسکول کی وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن نے طالبات کے جذبے کو سراہا، جبکہ ڈاکٹر فرحت پروین نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔
عبداللہ اسکول نے ’ہر گھر ترنگا‘ مہم کے تحت طلبہ اور عملہ کے اراکین کو قومی پرچم لہرانے کی ترغیب دی۔درجہ پنجم کے بچوں کے لیے مضمون نویسی، پوسٹر سازی اور نعرہ نویسی کے مقابلے منعقد کیے گئے، جن کی نگرانی سپرنٹنڈنٹ محترمہ عمرہ ظہیر نے کی۔
اے ایم یو سٹی گرلز ہائی اسکول (قاضی پاڑہ) میں ’اقوام متحدہ کا 80 سالہ سفر اور ہندوستان کی قیادت‘ موضوع پر ڈاک ٹکٹ ڈیزائن مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں علمہ اکرام نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ علیشا اکرم، عمرہ ریاض، علمہ اور کلثوم کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔
پرنسپل مسٹر محمد جاوید اختر نے ہندوستان کی ترقی اور عالمی امور میں ہندوستان کے کردار کو نمایاں کیا۔
احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں یوم آزادی کی مناسبت سے ’ہر گھر ترنگا‘ کوئز مقابلہ، ریس اور رنگ پاسنگ گیم کا اہتمام کیا گیا۔ دوسری طرف اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) میں مضمون نویسی اور پوسٹر سازی کے مقابلوں کے ساتھ ایک خصوصی اسمبلی منعقد کی گئی، جس میں حب الوطنی پر مبنی پیشکش اور آزادی و اتحاد کی اہمیت پر تقریروں نے سبھی کو متاثر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی پروفیسر صائمہ یونس خان کو بین الاقوامی کانفرنس میں ’ایگزیمپلیری پیئر ریویور ایوارڈ‘ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 13 اگست: ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیڈیاٹرک و پریونٹیو ڈنٹسٹری کی چیئرپرسن پروفیسر صائمہ یونس خان کو کولمبو، سری لنکا میں منعقدہ پانچویں بین الاقوامی کانفرنس آف ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن آف پیڈیاٹرک ڈنٹسٹری میں ان کی تحقیقی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ”ایگزیمپلیری پیئر ریویور ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
یہ ایوارڈ انہیں افتتاحی تقریب کے دوران سری لنکا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر جناب سنتوش جھا نے پیش کیا۔
اس کانفرنس میں 10 سے زائد ممالک سے 250 سے زائد مندوبین نے شرکت کی، جہاں پیڈیاٹرک ڈنٹسٹری کے شعبے میں عالمی سطح پر ہونے والی جدید پیش رفت کو پیش کیا گیا۔
پروفیسر صائمہ یونس خان نے کانفرنس میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا اور ایک سیشن کی صدارت بھی کی۔ وہ اس سے قبل بھی قومی و بین الاقوامی سطح پر کئی اہم اعزازات حاصل کر چکی ہیں، جن میں آئی اے ڈی آر جان کلارکسن فیلوشپ بھی شامل ہے۔ یہ فیلوشپ حاصل کرنے والی وہ ہندوستان کی واحد خاتون ڈاکٹر اور محقق ہیں۔
Comments are closed.