اپنی دینی تہذیب اوراسلامی شناخت کاتحفظ

 

مفتی احمدنادرالقاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

اس دورمیں ہمارے اندر اپنے دین وایمان کی شناخت کے تعلق سے اس قدرمداہنت آگئی ہےکہ دنیاکی دوسری اقوام کے طورطریقے ۔تہذیب و ثقافت۔ زبان اور کلچر ۔یہاں تک کہ لباس وپوشاک تک بڑی آسانی سے قبول کرتےجارہےہیں۔اوراپنی دینی اوراسلامی شناخت کو خیرباد کہتےجارہےہیں۔اپنے نبی کی فطرت اورسنت تک کاہمیں پاس ولحاظ نہیں۔اورمزید اس پرستم یہ ہےکہ فورا اسے فرض واجب۔اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہونے۔ یانہ ہونے وغیرہ کی بحثوں میں الجھ جاتےہیں۔اورحالات کے دھارے پرچلنے کی راہیں تلاش کرتےہیں اس طرح ہمارامعاشرہ اپنی شناخت سے دورہورہاہے۔۔حالانکہ ہمارادینی اصول یہ ہے کہ دین وایمان اورعملی زندگی کے بارے میں قران وحدیث اورپیارے حبیب کی زندگی سے جوبھی ثابت ہے۔اس پرجمے رہنا باعث افتخاربھی ہے اورمطلوب شریعت بھی ہے۔اوراگراس کاتعلق دینی شعائراورشناخت سے ہو تو نہ صرف یہ کہ اس پر جمے رہنا۔بلکہ اس کااظہار بھی ضروری ہوجاتاہے۔ دین کے کسی عمل کو ہلکا سمجھ کر چھوڑانہیں جاسکتا۔یہ استخفاف اورمداہنت ہے۔جوایمان کے منافی ہے۔ اب زبان کا ہی مسئلہ دیکھئے۔لوگ اپنی زبان چھوڑ کر دنیاکی اورخاص کر انگریزی زبان بولنے اورسیکھنے کو فخرکی چیزسمجھتےہیں۔دوسرے ملکوں کو توبالائے طاق رکھئے خود عرب جن کی زبان میں رب کائنات نے اپنی کتاب اتاری۔اپنے آخری رسول ﷺ کوان کی زبان بولنے والے انھیں میں سے مبعوث فرمایا۔وہ تک اس طرح انگریزی کی طرف بھاگ رہےہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ہم توعقیدت میں عربی زبان وادب کو گلے لگانے کے لئے مرتےہیں۔اوران کوانگریزی پر فخراوراپنی عربی دانی پرسبکی کااحساس ہوتاہے۔{ضرورت کے بقدرسیکھنا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا}۔مگرتفاخراسیکھنا تہذیبی اعتبار سے سوال ضرورکھڑاکرتاہے۔۔ہمارےاسلاف اپنی دینی تہذیب وثقافت اورزبان وکلچر کے معاملہ میں اتنے سخت تھے کہ دوسری اقوام کی زبان تک اپنی زبان پرلاناگوارہ نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کااثرنقل کرتے ہیں وہ فرماتےہیں:۔” ہم قطعی کسی دوسری قوم کے لباس وپوشاک۔کرتے پاجامے ۔ٹوپی۔عمامے۔جوتے اوربالوں کے اسٹائل اختیارنہیں کرتے ہیں اورنہ ہی ہم ان کی زبان بولتےہیں۔یعنی زبان تک بولناگوارہ نہیں کرتے۔“{لانشبہ بھم ملابسھم۔قلنسوۃ۔اوعمامۃ۔اونعلین۔اوفرق شعر ۔ولانتکلم کلامھم“(اقتضاء الصراط المستقیم۔بہ حوالہ اعلاء السنن ۔علام ظفراحمد تھانوی۔جلد ١٢۔صفحہ ٣٧١)۔اورہمارا اورہمارےبچوں کاحال بالکل برعکس ہے۔لباس پوشاک۔طرز حیات بال اورچہرہ مہرہ کون سی چیز ایسی بچی ہے جوغیروں کی ہم نے اختیار نہیں کررکھی ہے۔کیا اسی طرح ہم اپنی دینی اورمذھبی شناخت اورشعائرکاتحفظ کرسکتےہیں۔؟ہرگزنہیں۔جب تک ہمارے اندراپنے نبی کے اسوہ۔اورصحابہ کرام اورصلحاء امت کے طرزحیات سے الفت ومحبت نہیں ہوگی۔ہم دوسروں کی تہذیب میں ضم ہوتے چلے جائیں گے۔اورپھررفتہ رفتہ اپنی دینی۔مذھبی اورملی شناخت کھودیں گے۔ اس کی فکرکرنے کی ضرورت ہے۔ اننی ھدانی ربی الی صراط مستقیم۔(میرے رب نے ہمیں زندگی ہرمعاملہ میں صراط مستقیم کی رہنمائی فرمائی ہے) اوراسی پرہمیں فخرہے۔اورہم اپنےقول وعمل سےاسکے محافظ ہیں۔

Comments are closed.