جشنِ آزادی اور موجودہ ہندوستان
از قلم : ابو حذیفہ یوسفی
موبائل نمبر: 9839847671
مدرسہ عربیہ نجم الاسلام سکت پور اعظم گڑھ
آج ملک 78 /واں یومِ آزادی منا رہا ہے۔ ہم سب اِس سے واقف ہیں کہ کس طرح ہندوستان انگریزوں کے ظلم و ستم، جابرانہ پالیسیوں اور غلامی کی زنجیروں سے 15/اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا۔ آزادی کے متوالوں نے بلند حوصلوں کے ساتھ کیسی کیسی قربانیاں پیش کیں۔ مجاہدینِ آزادی کی سخت جدوجہد کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان آج بھی صحیح معنوں میں آزادی کا منتظر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے لئے برطانوی حکمرانی سے آزادی حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ہمارے رہنماؤں اور آزادی پسندوں نے مل کر آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور وطن عزیز کی آزادی کے حصول کے لئے پرعزم تھے۔
15/اگست یعنی یوم آزادی ایک قومی چھٹی ہے ریاست اور مقامی حکومت کے دفاتر ، ڈاکخانے اور بینک بند رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسٹورز ٬ دیگر کاروبار کے اوقات یا تو کم ہوجاتے ہیں یا بند رہتے ہیں۔
ہندوستانی یوم آزادی
سنہ 1757 میں ہندوستان میں برطانوی حکمرانی کا آغاز ہوا جس کے بعد پلاسی کی لڑائی میں انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی کی فتح ہوئی اور اس نے ملک پر قبضہ کرلیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں تقریبا 100 سالوں تک اپنا اقتدار سنبھالا اور پھر 1857-58 میں برطانوی تاج نے اسے ہندوستانی بغاوت کے ذریعے تبدیل کیا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران ، ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا آغاز کیا گیا تھا اور اس کی قیادت مہاتما گاندھی نے کی تھی جس نے عدم تشدد ، عدم تعاون کی تحریک کے طریقہ کار کی حمایت کی تھی جس کے بعد ‘سول ڈس اوبیڈینس مومنٹ’ کی تحریک چلائی گئ تھی۔
سنہ1946 میں برطانیہ کے لیبر گورنمنٹ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ان کے دارالحکومت میں ہونے والے نقصان کی وجہ سے ہندوستان پر اپنا اقتدار ختم کرنے کا سوچا۔ پھر ، 1947 کے اوائل میں برطانوی حکومت نے جون 1948 تک تمام اختیارات ہندوستانیوں کو منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن ہندو اور مسلم کے مابین تشدد بنیادی طور پر پنجاب اور بنگال میں کم نہیں ہوا ۔ در حقیقت ، جون 1947 میں متعدد رہنماؤں جیسے پنڈت جواہر لال نہرو ، محمد علی جناح ، ابوالکلام آزاد ، بی آر امبیڈکر ، وغیرہ نے ہندوستان کی تقسیم پر اتفاق کیا۔ مختلف مذہبی گروہوں کے لاکھوں افراد نے رہائش کے لئے جگہیں تلاش کرنا شروع کیں۔ اور اس کی وجہ سے 250،000 سے 500،000 افراد ہلاک ہوگئے۔ 15 اگست ، 1947 کو آدھی رات کو ہندوستان کو آزادی ملی اور جواہر لال نہرو کی تقریر کے ساتھ اس کا اختتام ہوا۔
ہندوستانی آزادی ایکٹ 1947 کیا ہے؟
فروری20 ، 1947 کو برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ اٹلی نے اعلان کیا کہ ہندوستان میں برطانوی حکمرانی 30 جون 1948 کو ختم ہوجائے گی جس کے بعد یہ اختیارات ہندوستانی ہاتھوں میں منتقل کردیئے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد مسلم لیگ کے احتجاج اور ملک کی تقسیم کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر ، جون 3، 1947 کو ، برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ ہندوستانی قانون ساز اسمبلی کا کوئی بھی آئین جو 1946 میں تشکیل دیا گیا تھا ، اس کا اطلاق ملک کے ان حصوں پر نہیں ہوسکتا ہے جو اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ اور اسی دن 3 جون ، 1947 کو ، ہندوستان کے وائس رائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کا منصوبہ پیش کیا ، جسے ماؤنٹ بیٹن پلان کہا جاتا ہے۔ کانگریس اور مسلم لیگ نے اس منصوبے کو قبول کرلیا۔ اس کا فوری اثر ہندوستانی آزادی ایکٹ 1947 کے نفاذ کے منصوبے کو دیا گیا۔
اگست ، 1947 ، آدھی رات کو ، برطانوی حکمرانی کا خاتمہ ہوا ، اور اقتدار ہندوستان اور پاکستان کے دو نئے آزاد تسلط کو منتقل کردیا گیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ جواہر لال نہرو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ 1946 میں قائم ہونے والی قانون ساز اسمبلی ہندوستان کے تسلط کی پارلیمنٹ بن گئی۔
جنگ آزادی میں علماء دیوبندکاکردار
1857ء میں شاملی ضلع مظفرنگرکے میدان میں علماء دیوبندنے انگریزوں سے باقاعدہ جنگ کی، جس کے امیرحاجی امدالله مہاجرمکی رحمہ الله مقررہوئے۔اور اس کی قیادت مولانارشیداحمدگنگوہی رحمہ الله ، مولاناقاسم نانوتوی رحمہ الله ، اورمولانامنیرنانوتوی رحمہ الله کررہے تھے۔ اس جنگ میں حافظ ضامن رحمہ الله شہیدہوئے، مولانا قاسم نانوتوی رحمہ الله انگریزوں کی گولی لگ کرزخمی ہوئے، انگریزی حکومت کی طرف سے آپ کے نام وارنٹ رہا؛لیکن گرفتارنہ ہوسکے،1880ء میں وفات پائی،دیوبندمیں قبرستان قاسمی میں آسودئہ خواب ہیں۔حاجی امدادالله مہاجرمکی رحمہ الله نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ ان حالات میں ملک میں رہ کراب اپنے مشن کوبرقراررکھنا ممکن نہیں، مکہ مکرمہ ہجرت کرگئے۔وہاں سے انھوں نے اپنے مریدین ومتوسلین کے ذریعہ ہندوستان میں اپنے ہدایت وفیض کاسلسلہ جاری رکھا۔1899ء میں وفات پائی اورجنت المعلیٰ میں دفن ہوئے۔ مولانارشیداحمدگنگوہی رحمہ الله کوگرفتارکیاگیااورسہارنپورکے قیدخانہ میں رکھاگیا،پھرکچھ دن کال کوٹھری میں رکھ کرمظفرنگرکے قیدخانہ میں منتقل کیاگیا۔چھ ماہ تک آپ کوقیدوبندکی مصیبتیں جھیلنی پڑی۔1905 ء میں وفات پائی۔گنگوہ کی سرزمین میں آسودہ خواب ہیں۔1857ء کی جنگ میں مسلمانوں کوبظاہرشکست ہوئی، مگریہ شکست نہیں، فتح تھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعدانگریزوں نے اسلام پرحملہ کیا اسلامی عقائد،اسلامی فکراوراسلامی تہذیب کو ہندوستان سے ختم کرنے کافیصلہ کیا، یہاں سے انگریزوں کازوال شروع ہوا،حکومت برطانیہ کا لارڈمیکالے جب وایسرائے بن کرآیا تواس نے مغربی تہذیب اورمغربی فکر،نصرانی عقائد قائم کرنے کاایک پروگرام بنایا،اس نے کہا:’’میں ایک ایسانظام تعلیم وضع کرجاوں گاجس کے نتیجے میں ایک ہندوستانی مسلمان کاجسم توکالاہوگامگردماغ گورایعنی انگریزکی طرح سوچے گا۔
ہندوستان میں اسلام کی حفاظت کے لیے الله تعالیٰ نے چندشخصیات کوپیداکیا،ان میں سے ایک اہم شخصیت حجة الاسلام حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی رحمہ الله کی تھی،اس زمانہ میں اسلام کی بقاء، اسلامی عقائد،اسلامی فکر اوراسلامی تہذیب کی حفاظت کے لیے حجة الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ الله نے ایک تحریک چلائی،جس کوتحریک دیوبندکہاجاتاہے،جگہ جگہ مدرسہ قائم کیے،اس مقصدکے لیے انھوں نے اپنے رفقاء (حاجی عابدحسین دیوبندی رحمہ الله ،مولاناذولفقارعلی دیوبندی رحمہ الله ، مولانا فضل الرحمن عثمانی رحمہ الله اورمولانارفیع الدین رحمہ الله وغیرہم)کی مددسے15 محرم 1283ھ مطابق 30مئی 1866ء جمعرات کے دن ضلع سہارنپورمیں واقع دیوبندنامی مقام پرایک دارالعلوم کی بنیادرکھی؛ تاکہ یہ مسلمانوں میں نظم پیداکرے، جوان کواسلام اورمسلمانوں کی اصل شکل میں قائم رکھنے میں معین ہو،ایشیاکی اس عظیم درسگاہ کاآغازدیوبندکی ایک مسجد(چھتہ مسجدکے صحن میں آنارکے درخت کے سایہ میں ایک استاد(ملامحمود)اورایک طالب علم (محمودحسن)سے ہوا جو بعدمیں ’’ازہرہند‘‘کہلائی اورجسے دارالعلوم دیوبندکے نام سے شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی،بقول حضرت حاجی امدادالله مہاجرمکی رحمہ الله دارالعلوم دیوبندہندوستان میں بقاء اسلام اورتحفظِ علم کاذریعہ ہے۔
موجودہ ہندوستان
طویل عرصہ کے گزر جانے کے بعد ہندوستان دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریتوں میں سے ایک ہے اور اب وہ آزادی کے سفر سے ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے نصب العین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن منزل کے حصول میں اِسے غربت، بے روزگاری اور ایسے ہی کئی اہم مسائل سے آزادی حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ مذہب کے نام پر منافرت، فرقہ وارانہ تشدد عام ہے۔ آج ملک بھر میں نفرت، ہجومی تشدد، فرقہ پرستی کے واقعات دیکھنے کو مِل رہے ہیں۔ اقلیتی طبقہ کو ہر لحاظ سے تکلیف پہنچائی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی حب الوطنی کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ خوف و ہراس کے ماحول میں بے قصوروں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے ۔ اِن ساری باتوں کو ذہن میں رکھ کر سوچیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان آج بھی آزادی کا منتظر ہے۔
اب بھی جاری ہے وطن میں ظلم و ستم
جشنِ آزادی منائیں تو، کیسے مَنائیں ہم
Comments are closed.