جنگ آزادی اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ
رفیع نعمانی
پکڑی خرد مہراج گنج یوپی
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں علماء کرام اور مسلمانوں نے جس قدر حصہ لیا،اتنا کسی بھی قوم و مذہب کے لوگوں نے نہیں لیا ،جنگ آزادی میں جن علماء کرام نے سرگرم رول ادا کیا ہے، انہیں شیدایان وطن میں سے ایک شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی بھی ہے ۔
مولانا مدنی کی ولادت باسعادت 19 /شوال المکرم 1296 ہجری مطابق 6/ اکتوبر 1879/بروز دوشنبہ بوقت 11 بجے شب قصبہ بانگر مئو ضلع اناؤ یوپی میں ہوئی، جہاں ان کےوالد ماجد مولانا سید حبیب اللہ صاحب اردو مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، تاریخی نام چراغ محمد رکھا گیا ،مولانا مدنی کا آبائی وطن یو پی کا مشہور صنعتی قصبہ ٹانڈہ محلہ اللہ داد پور فیض آباد حال ضلع امبیڈکر نگر یو پی ہے۔
عالم با عمل، متبع شریعت، پیر طریقت، دبستان دیوبندیت کے گوہر بے بہا، کاروان آزادی کے سپہ سالار اعظم، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کی شخصیت اس سرزمین پر محتاج تعارف نہیں،مولانا مدنی کی ذات گرامی میں حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، ملک کی آزادی کے لیے انہوں نے 10/ برس 1936 سے لے کر 1945 تک جیلوں میں گزارے، جب شیخ الاسلام جیل میں تھے اور ابھی چار ہی سال ہوئے تھے جس کے دوران ان کے گھر کے 19/ افراد کا انتقال ہوا بھلا بتلائیے اس مرد مجاہد کے دل پر کیا گزری ہوگی،
وہ ہندو مسلم ایکتا اور فرقہ وارانہ اتحاد کے مخلص علمبردار تھے، قرآن کریم پر ان کی گہری نظر نے انہیں یہ نظریہ بخشا تھا ،مولانا مدنی کافی عرصہ تک اپنے استاذ محترم شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمۃاللہ علیہ کے ہمراہ مالٹا میں اسیر رہے، وہاں سے آکر 1947 تک ہندوستان کی تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
اور یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ 1857 کے انقلاب میں ناکامی کے بعد علماء دیوبند نے جو خود ہی اپنی فراست ایمانی میں یگانۂ روزگار تھے، اس بات کو محسوس کیا کہ موجودہ صورتحال میں اگر کامیابی کے ساتھ عہدہ بر آنا ممکن ہو سکتا ہے، تو صرف اس صورت میں کہ علوم ظاہری و باطنی کا ایسا مرکزی ادارہ قائم کیا جائے کہ جس میں علوم ظاہری کے ساتھ ساتھ مجاہدین حریت بھی پیدا کیے جائیں، چنانچہ 15/محرم الحرام 1283 ہجری مطابق30/مئی 1866 میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اپنے رفقاء کو لے کر دارالعلوم دیوبند کی داغ بیل ڈالی ،جو آج ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے نام سے پوری دنیا میں مشہور و معروف ہے، دارالعلوم دیوبند نے اپنے بانیان کے منشاء و خواہش کے مطابق ایسے ایسے مجاہدین اور قائدین پیدا کیے جنہوں نے ایک بار پھر عرصۂ دراز کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے اس مشن کو حیات نو بخشی ،جس کو انہوں نے اپنا مقصد حیات قرار دے کر اپنے جانشینوں کو اس کے لیے تیار کیا تھا، انہی مردان حق آگاہ میں ایک شخصیت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی بھی ہے، حضرت مولانا مدنی ایک طرف اپنے استاذِ محترم بانی تحریک ریشمی رومال شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمۃاللہ علیہ کے علوم کے امین قرار پائے ، تو دوسری طرف کتب الاقطاب ،امام العارفین حضرت مولانا رشید احمد محدث گنگوہی کے فیض تربیت نے ان کو ایک بلند مقام و مرتبہ عطا کیا آپ حضرت گنگوہی کے خلیفہ بھی تھے۔
آپ سے بیعت ہونے والوں کی تعداد بے شمار ہے، دارالعلوم دیوبند میں آنے سے 6/ سال قبل بنگال اور سلہٹ ( آسام ) میں شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز رہے ، اسی لیے بیعت ہونے والوں کی تعداد اس علاقہ میں بے حساب ہے۔
مولانا مدنی نے ایک موقع پر یہ ارشاد فرمایا کہ” اگر لارڈ ریڈنگ (Lord Reading) اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ قرآن شریف کو جلا دیں ،حدیث شریف کو مٹا دیں اور کتب فقہ کو برباد کر دیں تو سب سے پہلے اسلام پر جان قربان کرنے والا میں ہوں” اسی لیے علمی دنیا نے ان کو شیخ الاسلام کا پرشکوہ خطاب دے رکھا ہے ،مولانا مدنی کی مبارک روح میں تحریک حریت مکمل طور سے رچ بس چکی تھی، انہوں نے پورے مجاہدانہ عزم کے ساتھ سیاسی جنگ میں حصہ لیا، مولانا مدنی نے دیوبند میں اس ادارہ کی نصف صدی کی روایات جہاد و انقلاب کی حرارت اپنے خون کے ہر ہر قطرے میں اتار لی تھی ،جہاں وہ اپنے والدین کریمین کے ساتھ اس صدی کے اوائل میں ہندوستان سے مدینہ منورہ کو تشریف لے گئے تھے، وہاں جانے کے بعد مولانا مدنی نے 16/ سال تک حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درس حدیث شریف دیا تھا، ان کے شاگردوں میں رومی ،شامی، مصری، ترکی، ہندی اور عرب ہر طرح کے نوجوان تھے، اسی طرح آپ نے ایشیا کے عظیم مرکز ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں بھی 32/ سال تک درس حدیث شریف دیا تھا،چار ہزار سے زیادہ علماءہند وپاک کو آپ سے شرف تلمذ کی نسبت پر فخر ہے۔
مولانا مدنی کے بارے میں ایک کمیونسٹ دانشور ڈاکٹر اشرف کے قول کے مطابق "شاید کم لوگوں کو اس کا علم ہو کہ مولانا مرحوم نے بچپن ہی سے جہاد کی تیاری شروع کر دی تھی، اور نوجوانی میں ان کا یہ معمول تھا کہ مئی کی تپش اور دھوپ میں گھنٹوں ریت یا پتھر کے فرش پر چلا کرتے تھے اور جاڑوں میں کڑاکے کی سردی میں نیم برہنہ بیٹھے رہتے تھے، بعض دوستوں نے جب اس لاابالی پن کا سبب پوچھا تو فرمایا کہ آئندہ جیلوں میں اس سے زیادہ سختیاں بھگتنی پڑیں گی” (بحوالہ الجمعیۃ شیخ الاسلام نمبر صفحہ 29)
شیخ الاسلام مولانا مدنی کی حیات میں اتنی ہمہ گیریت اور اجتماعیت تھی کہ تاریخ میں ایسی شخصیات کم ہی نظر آئیں گی، میں مناسب و موزوں سمجھتا ہوں کہ آپ کی ایک کھلی ہوئی کرامت کا تذکرہ تحریر کروں 1922 /میں کراچی
کے مقدمہ میں آپ کو پھانسی دیئے جانے کا فیصلہ پورے ملک کی نگاہوں میں یقینی تھا لیکن خدا نے آپ کو محفوظ رکھا۔
بقول رفیع نعمانی
بچایا ہے پھانسی کے پھندے سے رب نے
کرامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟
شیخ الاسلام مولانا مدنی کے بارے میں
مشہور مورخ آزادی مولانا نظام الدین اسیر ادروی مئوی رحمتہ اللہ علیہ المتوفی 20/مئی 2021 اپنی مایہ ناز کتاب "تحریک آزادی اور مسلمان” کے صفحہ 155 پر یوں رقم طراز ہیں” پیکر عمل، سراپا جدوجہد، ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں میں پہاڑ جیسے ٹھوس عزم و ارادہ کے مالک شیخ الہند کے جانشین، قید خانۂ مالٹا کے ہم نشین ،ان کے مشن کو اپنی زندگی کے اخیرلمحوں تک جاری رکھنے والے ،اسلامی ہند کے شیخ الاسلام ،دارالعلوم دیوبند کے صدر وشیخ الحدیث ساڑھے تین ہزار علماء کے جلیل القدر استاذ و مقتدا، لاکھوں انسانوں کے مرشد کامل تھے، انگریزوں کی حکومت سے سخت نفرت رکھتے تھے،
تحریک آزادی ہند میں وہ کون سی مصیبت و مشقت نہیں جھیلی؟ مگر اپنے مشن میں مصروف رہے ،جمعیۃ علماء ہند کے 1940 سے تادم اخیر صدر رہے، کئی بار برطانوی سامراج کی عدالتوں میں پھانسی کی سزا سے بچے، آزادی کے بعد اصلاح کے کاموں میں مصروف ہو گئے، دینی خدمت و تزکیہ نفوس کے مقدس مشن میں لگے رہے۔”
بالآخر 78/سال کی عمر گزار کر دار فانی سے 12 /جمادی الاولٰی 1377 ھجری مطابق 5/ دسمبر 1957 کو دار بقا کی جانب کوچ کر گئے،شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ نے جنازے کی نماز ادا کرائی اور ہمیشہ کے لیے دیوبند کے قبرستان قاسمی میں محوِ خواب ہو گئے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔
جوہرِ علم و صداقت گوہرِ یکتائےفن
شب چراغِ آگہی سوز و گداز انجمن
پیکرِ زہد و تقدس جانشین انبیاء
شانِ تقدیس امم ناموسِ دینِ مصطفی
رہنمائے عالم اسلام فخرِ ایشیا
یعنی مولانا حسین احمد اسیر مالٹا
جنگ آزادی میں یوں تو ہندو اور مسلمان سب ہی شریک رہے، لیکن مسلمانوں نے اپنے مخلص رہنماؤں اور علماءدین کی قیادت میں جو نمایاں حصہ لیا اور زبردست قربانیاں پیش کیں اس کی مثال دنیا میں ملنی محال ہے، ہمارے علماء کرام ہی کی یہ محنتوں اور مشقتوں کا ثمرہ ہے کہ ہندوستان انگریزوں کے ناپاک قدم سے پاک و صاف ہوا، ہمارے ہی علماء کرام 1857 سے لے کر 1947 تک مسلسل جدوجہد کرتے رہے بالآخر کاروان آزادی 90/ سال کی طویل مسافت طے کرتے ہوئے 14 اور 15 اگست کے درمیانی شب کے 12/بجے اپنی منزل مقصود کو پہنچ گیا، جب پورا ہندوستان محوِ خواب تھا، تو ہندوستان کا مقدر جاگ اٹھا اور ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک 12 /بجےآل انڈیا ریڈیو اسٹیشن سے ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہو گیا ۔
ہندوستان زندہ باد
علماء دیوبند پائندہ باد
ملک کی آزادی کے بعد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سرگرم سیاست سے کنارہ کش ہوگئے اور بقیہ زندگی علوم نبویہ کی ترویج و اشاعت اور ہندوستانی مسلمانوں کے بہتر مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں گزاردی۔
شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کے جانشین اور لواحقین میں قابل ذکر ہستیاں فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی علیہ الرحمۃ،امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی مولانا سید اسجد مدنی اور نوجواں دلوں کی دھڑکن مولانا سید محمود اسعد مدنی مدظلہ العالی ہیں ۔اللہ پاک ان کا سایہ ہندوستانی مسلمانوں کے سروں پر تا دیر قائم رکھے آمین ۔
رفیع نعمانی پکڑی خرد مہراج گنج یوپی
Comments are closed.