جمعہ نامہ: جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو
ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِربانی ہے:’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟ ‘‘۔عربوں میں لڑکیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ درگور کرنے کا رواج تھا ۔ ایک شخص نے حضوراکرم ﷺ سے اپنے عہد جاہلیت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میری ایک بیٹی مجھ سے بہت مانوس تھی، جب میں اس کو پکارتا تھا تو وہ دوڑی دوڑی میرے پاس آتی تھی، ایک روز میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا، راستہ میں ایک کنواں آیا میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کنویں میں دھکا دے دیا، آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ یہ تھی، ہائے ابا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ رو دیئے اور آپؐ کے آنسو بہنے لگے، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا اے شخص ! تو نے حضور اکرمﷺ کو غمگین کردیا۔نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا اسے مت روکو، اس چیز کا اسے سخت احساس ہے اسے سوال کرنے دو ، دوبارہ قصہ سن کر آپؐ اس قدر روئے کہ داڑھی آنسووں سے تر ہوگئی، اس کے بعد آپؐ نے بشارت دی’’ جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اللہ نے اسے معاف کردیا اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کر‘‘۔
زمانہ جاہلیت کےعرب معاشرے میں بہت سے لوگوں کو اس رسم کی قباحت کا احساس تھا۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں کچھ اچھے اعمال بھی کئے ہیں جیسے میں نے 360 لڑکیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچایا اور ہر ایک کی جان کے لئے دو دو اونٹ فدیے میں دیئے ہیں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا ؟ نبی ٔ رحمتؐ نے فرمایا : ہاں تیرے لئے اجر یہ ہے کہ اللہ نے تجھے اسلام کی نعمت عطا فرمائی۔ عرب معاشرے کی اس سنگدلی کو ختم کرنے کے لیے دین اسلام نے اس تخیل کا قلع قمع کردیا کہ بیٹی کی پیدائش کو بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے کیونکہ وہ حادثہ اور مصیبت ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے بیٹیوں کی پر ورش اور عمدہ تعلیم و تربیت کو نیکی بنادیا۔ قرآن حکیم میں ویسےتو مال و اولاد کو آزمائش قرار دیا گیا مگر نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے بچاو کا ذریعہ بنیں گی‘‘۔
نبیٔ رحمتؐ نےترغیب فرمائی:’’ جس کے یہاں لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ ذلیل کر کے رکھے، نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ جس کے یہاں تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے اور اپنی وسعت کے مطابق انہیں اچھے کپڑے پہنائے تو وہ جہنم کی آگ سے بچاو کا ذریعہ ہوں گی۔ جس مسلمان کے یہاں دو بٹیاں ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح رکھے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اسے جنت میں نہ پہنچائیں‘‘۔یہ بشارت بھی دی :’’ جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئے گا، یہ فرما کر حضور نے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا‘‘۔طلاق کے بعد نان نفقہ پر اصرار کرنے والے نہیں جانتے کہ نبی کریم ﷺ نے پوچھا، تمہیں بتاوں کہ سب سے بڑا صدقہ کیا ہے ؟صحابی نے عرض کیا ضرور بتائیے، فرمایا تیری وہ بیٹی جو (طلاق پا کر یا بیوہ ہو کر) تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا اس کے لئے کمانے والا کوئی نہ ہو‘‘۔ ان تعلیمات نے عرب و عجم میں لڑکیوں کے متعلق نقطہ نظر تبدیل کر دیا۔
عصرِ حاضر میں بھی جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل کے سبب مختلف صوبوں میں مردو زن کی آبادی کا توازن متاثر ہورہا ہے۔ شادی کے لیے وہاں کےلوگوں کو دیگر ریاستوں میں جانا پڑتا ہے بلکہ ہماچل پردیش کے کچھ قبائل میں ایک عورت اور کئی شوہر کے رواج پر بھی فخر جتایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ دن بہ دن خواتین پر مظالم میں اضافہ کی خبریں آئے دن ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ پرجول ریونا جیسا درندہ رکن پارلیمان اپنے گھر میں کام کرنے والی خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بناتا ہے تاکہ بلیک میل کیا جاسکے ۔ دھرم ستھالاکے منجو ناتھ مندر میں سیکڑوں خواتین کو عصمت دری کے بعدمار کر درگور کردیا جاتا ہے مگرمقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ مظلومین کو انصاف دلانے کے بجائے ظالموں کو بچانے کی سعی کرتے ہیں لیکن کیا ہوگا جب قرآن کی یہ پیشنگوئی حقیقت بن جائے گی : ’’ اعمال نامے کھولے جائیں گے ۔ اور آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا، اور جہنم دہکائی جائے گی، اور جنت قریب لے آئی جائے گی ۔ اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے ‘‘۔
آخرت کا یہ منظر ملاحظہ فرمائیں:’’ اور (سب لوگ) آپ کے رب کے حضور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے، (ان سے کہا جائے گا:) بیشک تم ہمارے پاس (آج اسی طرح) آئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لئے ہرگز وعدہ کا وقت مقرر ہی نہیں کریں گے، اور (ہر ایک کے سامنے) اَعمال نامہ رکھ دیا جائے گا سو آپ مجرموں کو دیکھیں گے (وہ) ان (گناہوں اور جرائم) سے خوفزدہ ہوں گے جو اس (اَعمال نامہ) میں درج ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہلاکت! اس اَعمال نامہ کو کیا ہوا ہے اس نے نہ کوئی چھوٹی (بات) چھوڑی ہے اور نہ کوئی بڑی (بات)، مگر اس نے (ہر ہر بات کو) شمار کر لیا ہے اور وہ جو کچھ کرتے رہے تھے (اپنے سامنے) حاضر پائیں گے، اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ فرمائے گا ‘‘۔ اترپردیش میں جرائم کے خاتمہ کا بلند بانگ دعویٰ کیا جاتا ہے مگر حال میں راجدھانی لکھنو کےپولس کمشنر کی رہائش پرلگے سی سی ٹی وی کیمرے نے ایک گونگی اور بہری لڑکی ویڈیو قید کرلی۔ وی وی آئی پی علاقے میں چار بدمعاشوں نے اسے دوڑاکر پولیس تھانے کے پیچھے عصمت دری کرکےبھاگ گئے۔ بروزِ قیامت ہر انسان کی ویسی ہی ویڈیو اس کےسامنے ہوگی اور وہ معذور لڑکی جب سوال کرے گی کہ کس جرم میں اس پر زیادتی کی گئی تواپنے سیاسی آقاوں سمیت یہ سارے دبنگ مجرم غضب الٰہی کا شکار ہوجائیں گے۔
Comments are closed.