قرآن و سنت کی روشنی میں آزادی وطن اور ہماری ذمہ داریاں
محمد صابر قاسمی میواتی
آج ١٥ اگست کا دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی اجتماعی نعمتوں میں سے ایک ہندوستان کی آزادی جدوجہد کی یاد دہانی کرانا ہے۔ ١٥ اگست کا دن صرف خوشی کا دن نہیں، بلکہ شکر، فکر اور احساس ذمہ داری کا دن ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کہتا ہے، وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ” (سورہ ابراہیم: اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر کروگے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ عوام(مردوں اور خواتین)کے لیے آزادی کی قدر اور ذمہ داری آزادی ایک انمول نعمت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نعمتان مغبون فيهما كثيرُ من الناس: الصحة والفراغ” (بخاری) دو نعمتیں ایسی ہیں، جن میں اکثر لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں صحت اور فراغت آج ہم ان دونوں کے ساتھ ایک تیسری نعمت آزادی کے مالک ہیں، مگر اس کی قدر کرنا فرض ہے۔
اہم پیغام:
اپنے ایمان کی حفاظت کریں، کیونکہ آزادی ایمان کے تحفظ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اپنے وطن کے قانون، امن اور وسائل کا خیال رکھیں، کیونکہ یہ امانت ہیں۔اپنے گھر اور محلے میں خیر، تعاون اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔
واقعہ:
حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ نے اسلام سے عزت دی، جب ہم اسلام کے علاوہ کسی اور میں عزت ڈھونڈیں گے تو ذلیل ہو جائیں گے۔یہی پیغام آج ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔
دوسرے علماء کے لیے قوم کی فکری و روحانی رہنمائی کا فریضہ کی انجام دہی اور بر وقت قوم و ملت کو پیش آمدہ حالات سے آگاہی کرانا ضروری ہے، چونکہ علماء امت کے چراغ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: العلماء ورثةُ الأنبياء” (ابوداؤد)
علماء انبیاء کے وارث ہیں۔آج کے دور میں صرف درس و تدریس ہی نہیں بلکہ اصلاحِ فکر، اتحاداور نسلِ نو کی تربیت علماء کی اہم ذمہ داری ہے۔
( مدارس کا روحانی کردار)
جیسے نبی ﷺ کی موجودگی اہل مکہ کے لیے اللہ کی رحمت تھی (سورہ انفال: ٣٣)، اسی طرح مدارس، مساجد اور علماء کا وجود آج اس ملک میں اللہ کی رحمت کا باعث ہے آپ کا وجود اس قوم کے ایمان، اخلاق اور روحانیت کا تحفظ ہے
تیسرے – بچوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم اور کردار سازی پر توجہ دینا یہ افراد سازی کے لیے ضروری ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا” (ابن ماجہ)مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔بچوں کو صرف کتابیں نہیں پڑھنی بلکہ اچھا انسان بننا ہے۔
پانچ پیغام (طلبہ کے لیے):
١. عالم بنو، کیونکہ علماء سب سے بہترین لوگ ہیں۔٢. طالب علم بنو کیونکہ طلبہ حضور ﷺ کے مہمان ہیں، ٣ علم سے محبت کرنے والے بنو کیونکہ یہ محبت ایمان کی علامت ہے۔٤ علم کی خدمت کرنے والے بنو کیونکہ یہ جنت کا راستہ ہے۔٥. مدارس و علماء کا تعاون کرنے والے بنو کیونکہ یہ صدقہ جاریہ ہے۔
فضیلت:
نبی ﷺ نے فرمایا من سلك طريقاً يلتمس فيه علماً سهّل الله له به طريقاً إلى الجنة” (مسلم) جو علم کے طلب میں کوئی راستہ چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔
حصہ چہارم (٤): شکر گزاری اللہ کی نعمتوں کی حفاظت کرنا، اس میں ہندوستان ایمان، زندگی اور تعلیم پر عمل پیرا ہونا،
یہ چار بڑی نعمتیں ہیں۔ ان کی قدر کریں اور ان کی قدر کا مطلب یہ ہے کہ: ہم ان پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ان کے خلاف کوئی حرکت نہ کریں۔انہیں مزید بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔
دعا: اے اللہ! ہمارے ملک کو امن، ایمان اور خوشحالی عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے علماء و مشائخ کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے بچوں کو نیک، علم والے اور دین کے خادم بنا۔ اے اللہ! ہمیں شکر گزار اور امانت دار بنا۔ آمین
نسل نو کے بچوں کے لیے اہم پیغام
وہ والدین کی عزت کریں، اساتذہ سے محبت کریں، وطن سے وفاداری کریں اور دین سے وابستگی رکھیں۔سب کو یاد دلائیں کہ آزادی کی اصل حفاظت ایمان اور اخلاق سے ہوتی ہے، اور یہ تب ممکن ہے جب ہم سب اپنا کردار ادا کریں.
Comments are closed.