ممبئی میں رکے ہوئے SRA پروجیکٹ کے لیے ونچت بہوجن اگھاڑی کا جن آکروش مورچہ!
ممبئی کی 35 ہاؤسنگ سوسائٹی کے ہزاروں مکینوں کی شرکت , باندرا ہیڈ آفس کا گھیراؤ, بلڈرز اور ایس آر اے کے خلاف زبردست نعرہ بازی
سی ای او مہیندر کلیانکر نے تین نوڈل آفیسر اور ونچت لیڈران پر مشتمل مشترکہ تفتیشی کمیٹی تشکیلِ دی
ممبئی – ممبئی میں کچی بستیوں کی بحالی کا منصوبہ برسوں سے تعطل کا شکار ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ شہریوں کی بنیادی سہولیات اور ترقی کے وعدے صرف کاغذوں پر ہیں۔ ایس آر اے اور متعلقہ حکام کو بار بار آگاہ کرنے کے باوجود حکومت اور انتظامیہ نے کان نہیں دھرے یہ بے حسی اور غفلت اب شہریوں کے لیے قابل قبول نہیں۔
بلڈرز اور ایس آر اے کی تانا شاہی اور من مانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی نے 13 اگست 2025 کو دوپہر 2 بجے ممبئی کے باندرہ میں واقع سلم ری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SRA) کے دفتر پر جن آکروش مورچہ نکالا ۔ منتظمین نے متنبہ کیا ہے کہ یہ مورچہ محض نمائندگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ رکے ہوئے منصوبوں کو مکمل نہیں کیا جاتا۔
اس مارچ کی قیادت ونچت بہوجن اگھاڑی کے نوجوان لیڈر سوجات امبیڈکر، ونچت کے ممبئی صدر چیتن اہیرے, مہیلا اگھاڑی کی ممبئی صدر اسنیہل سوہنی اور ونچت مسلم آگھاڈی کے لیڈر عبدالباری خان نے کی ۔
اس سلسلے میں ونچت لیڈر عبدالباری خان نے بتایا کی حال ہی میں SRA متاثرہ خاندانوں نے ونچت بہوجن اگھاڑی کے قومی صدر پرکاش امبیڈکر صاحب سے ملاقات کی تھی۔
اور اس حساس معاملے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ شہریوں نے احساس ظاہر کیا کہ آج تک کسی سیاسی جماعت نے اس مسئلے کے حل کے لیے جدوجہد نہیں کی اس لیے شہریوں نے اپنا یقین ظاہر کیا کہ یہ لڑائی صرف ونچت بہوجن اگھاڑی ہی لڑ سکتی ہے۔
عبدالباری نے مزید بتایا کہ مہاراشٹر سلم ایریا ایکٹ 1971 میں ترمیم شدہ سلم ری ہیبیلیٹیشن اتھارٹی 6اگست ،1995 میں وجود میں لائی گئی تھی جسکا مقصد یہ تھا کہ حکومت اور بلڈرز کی پارٹنر شپ سے ممبئی کی جھگھی جھونپڑیوں کے مکینوں کو اسی جگہ 1 bhk فلیٹ مفت میں بلڈرز بناکر دے اور شہر سے جھونپڑپٹی کا خاتمہ ہوسکے۔
عبدالباری نے بتایا کہ بلڈرز نے سالوں تک پروجیکٹ یا تو شروع نہیں کیے یا مکمل نہیں کیے اور آج لاکھوں شہری خود کی چھت کے کیلئے احتجاج کر رہے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں ہے
عبدالباری نے بتایا کہ 2002 سے 2014 کے درمیان 517 رکے ہوئے پروجیکٹس کے ذمے دار بلڈرز پر سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی مگر اب مہاراشٹرا حکومت نے ہی دھاراوی کی طرز پر مهاڈا,ایم ایم آر ڈی, بی ایم سی کے ذریعے نئے بلڈرز کو دینے کیلئے نیلامی کی شروعات کردی ہے اور مکینوں کو کوئی اطلاع تک نہیں دی گئی ، انہوں نے زور دیکر کہا کی دھاراوی کی طرح یہ 517 پروجیکٹس بھی حکومت کسی بڑی کمپنیوں کو بیچنے کی تیاری میں ہے جو اب ہم ہونے نہیں دینگے ضرورت پڑی تو سڑک سے کورٹ تک یہ لڑائی لڑی جائیگی اس کا ہم نے عزم کر لیا ہے۔
تحریک کے اہم مطالبات
1-ایس آر اے کے تمام رکے ہوئے منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور 517 پروجیکٹس کی نیلامی کا ارادہ حکومت فوری طور پر منسوخ کریں۔
2. کرایہ کے بقایا جات فوری ادا کیے جائیں۔
3. من مانی کرنے والے بلڈرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
4. کچی آبادیوں کو بروقت اور صحیح جگہ پر بحال کیا جائے
5. ایس آر اے کے شکار شہریوں کا استحصال بند ہو اور اتھارٹی منصوبوں کی پیش رفت کا اعلان کرے۔
6. بلڈرز اور حکام کے درمیان ملی بھگت بند کی جائے۔
7. ضرورت پڑنے پر حکومت اس منصوبے کو اپنے ہاتھ میں لے اور خود ایکشن لے جس میں دیگر بہت سے مطالبات شامل ہے
Comments are closed.