اِس پر بھی ہم نے جشن منایا ہے دوستو

 

✍️از: محمد عظیم فیض آبادی

دارالعلوم النصرہ دیوبند

9358163428

ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ

اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی ایک بڑی نعمت سے اور غلامی وبے بسی ایک لعنت ہے اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ کسی ملک کے لئےقومی سطح پر اس کی آزادی کے دن سے زیادہ کوئی اور دن خوشی ومسرت کا نہیں کیونکہ یہی ایک ایسا دن ہے جس میں ہر فرد وجماعت ، ہر دھرم ومذہب کا پیروکار ، ہر شہری ودیہاتی حتی کہ ہر امیر وغریب اپنی خوشی ومسرت کا اظہار اس دن ترنگے کے ساتھ کرتاہے

15/ اگست ہمارے پیارے ملک ہندستان کا وہ قومی دن ہے جس میں انگریزوں کی غلامی ، اسکے ظلم استبداد اور ظالمانہ حکمرانی سے بڑی قربانیوں کے بعد نجات ملی

نواب سراج الدولہ سے اس کا باضابطہ اغاز ہو کر 1857 کے دلدوز واقعہ اور جلیانوالہ باغ کے خونی حادثہ سے گذر کر بہادر شاہ ظفر کی بے بسے وکسمپرسی اور لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کے بعد یہ نعمت ملی ہے

 

ظاہر ہے کہ یہ دن اس ملک کا سب سے یادگار اور سب سے زیادہ خوشی ومسرت کے اظہار کا دن ہے اور ہونا بھی چاہئے اگر کوئی شخص اس خوشی ومسرت کے اظہار میں شرکت نہ کرے تو محرومی کے سوا اسے کیا کہہ سکتے ہیں

لیکن ظاہر ہے کہ صرف خوشی کا اظہار ہی کافی نہیں ہے بلکہ یہ دن ہمیں اس بات کے غور وفکر کی دعوت بھی دیتاہے کہ ہمارے اکابر اسلاف اور اس ملک کی آزادی میں اہہم کردار ادا کرنے والے اور ملک کی آزادی وملک کی حفاظت کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے والوں نے جو خواب سجایا تھا ہم اس کے حاصل کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے

ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا کسان اپنی کھیتی کسانی سے خوش ہے کہ نہیں، ہمارا مزدور طبقہ کس حال میں جی رہا ہے ، ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا پیشہ ورطبقہ کس حال میں ہے ، ہماری تعلیم وصحت کا معیار کیا ہے اورکیا ہونا چاہئے ، ہماری ماؤں بہنوں کی عزت وحرمت ، ہر شہری کے جان مال عزت آبرؤ، محفوط ہے کہ نہیں؟

یقین مانئے کہ اسکے بغیر ہماری آزادی ادھوری ہےاور خوشی ومسرت نامکمل ہے

جب تک ملک کو غریبی بھکمری اور بے روزگاری کے دلدل سے آزادی نہ مل جائے ، جب تک بے گناہوں کو جیل کی سلاخوں سے آزادی نہ مل جائے،جب تک اس ملک کو نفرت اور دنگوں کی بھٹھیوں میں جلنے سے چھٹکارا نہ مل جائے، اس دیش کا کسان خوشحال نہ ہو جائے، جب تک قانون کو اپنے مفاد کےبجائے ملک وملت کے مفاد کےلئے استعمال کرنے کی فکر دامن گیر نہ ہوجائے ، جب تک قانون کے مطابق اظہار خیال کی آزادی نہ مل جائے، جب تک تعلیم کا حق ہر ایک کویکساں طور پر نہ مل جائے ، وصحت سائنس کے حوالے سے ملک ترقی تمام تر بلندیوں کو حاصل نہ کرلے، بدعنوانی اور ملک کوکھوکھلا کردینے والی رشوت کی گرم بازاری سے ملک کے ہر شہری کو نجات نہ مل جائے اس وقت تک حقیقی آزادی کا خواب ادھورا ہے،

اس کے علاوہ ملک کے بنیادی مسائل سے منہ پھیر کر اس طرح صرف جشن منانے اور جشن وجلوس پر لاکھوں روپئے خرچ کرنا نہ ملک سے سچی محبت کی علامت ہے اور نہ ہی ملک کی عوام کے ساتھ انصاف ، ایک اندازے کے مطابق

” ہر گھر ترنگا مہم میں لاکھوں کروڑوں روپئے خرچ ہو رہے ہیں

جبکہ اترپردیش سرکار اسکولوں میں کھانا اور بچوں کو ڈریس کے پیسے نہیں دے پا رہی ہے ” ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لئے کتابیں سستی ہوتیں

خود "بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ورن گاندھی نے ٹیوٹر پر لکھا تھا ہے کہ ” آزادی کے 75 ویں سال کا جشن اگر غریبوں پر بوجھ بن جائے تو یہ افسوسناک ہوگا ” غور کیجئے کہ

70 سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اس ملک میں مرکزی حکومت نے کھانے پینے کی چیزوں پر ٹیکس لگا دیا ، دال چاول ،گیہوں آٹا،دودھ، دہی ، گڑ چینی اور پہلی بار ایسا ہوا کہ سرکار ڈیزل پٹرول پر 60 روپئے کے قریب ٹیکس وصل کر رہی ہے اور اسطرح ایک سال میں تقریبا 3.5 لاکھ کروڑ روپئے کے قریب بنتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ یہ پیسہ عوامی فلاح وبہبود کے بجائے مالداروں کی خوشنودی کے حصول پر خرچ ہوتے ہیں ، ٹیکس کے پیسوں سے مالداروں کے کروڑوں کے قرض معاف کرکے اپنے یارانے کو مضبوط کیا گیا مگر غیرب کی چھولھا بجھتارہا ، غریب غربت وافلاس سےجوجھ رہاہے مگر ہر گھر ترنگا مہم کو فروغ دینی والی سرکار کوکوئی فرق نہیں، غریبوں کے پاس جھنڈا خریدنے کے پیسے نہیں اور لاکھوں لوگوں کے پاس اگر ترنگا ہے تو اس پھرانے کے لئے مکان نہیں ،

کیا ایسے میں ازادی کا جشن پھیکا نہیں رہے گا ،

جو بے گناہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ، جن لوگوں کے گھروں کو زمین دوزکرکے بے گھر کردیا گیا، ماب لنچنگ میں جن لوگوں نے اپنی جان گنوادی ، فسادات میں جن کا سب کچھ برباد ہوگیا، جو لوگ سماج میں پھیل رہے نفرت کی بھینٹ چھڑ کر ویران ہوگئے وہ کس طرح سے آزادی کا جشن منائیں ، مذہبی آزادی خطرات سے دوچارہے ، مذہب کے نام پر بچیوں کو بے حجاب کیا جارہاہے ، مذہبی عبادت گاہیں محفوظ نہیں ، اسلاف بزگوں کے مزارات پر بھگوا لہرا کر اسے نفرتی نعرے لگائے جاتے ہیں، نفرت اس حد تک کہ تین منٹ کی آذان تک برداشت نہیں، قومی یکجہتی فنا کے گھاٹ اتر رہی ہے ، نفرت کا زہر سماج میں گھول کر گنگا جمنی تہذیب ختم کی جا رہاہے ، مذہب کے نام پر سماج کو ہندو مسلم کے دوخانوں میں بانٹ دیا گیا ہے ، ایسے میں آزادی کا جشن کامل نہیں ہوسکتا

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے حقیقی معنوں میں آزادی کےتصور کے خواب شرمندہء تعبیر کرنے کی طرف پیش قدمی کی جائے اس لئے ہم سوچیں کہ ہمارا پیارا ملک امن وآمان کا گہوارہ کیسے ہو اور جمہوری استحکام اور عدل وانصاف کی مضبوطی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ میں ترقی کی منزلوں کو کس طرح تیز رفتاری کے ساتھ طے کرے اور اس بناوٹی جشن حقیقی جشن کا حقدار کیسے بنیں ، ملک کے مجاہدین آزادی کو یہی سچی خراج عقیدت بھی ہوگی اور یہ ذمہ داری صرف سرکار کی نہیں یا کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں بلکہ سماج کے ہر فردوہر طبقے ، بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں، مذہبی جماعتوں اور سماجی اداروں کی ہے

خدا کرے یہ امن وآمان کا گہوارہ ، گنگا جمنی تہذیب کا مرکز اور ملک آزادی کی حقیقی نعمت سے سرفراز ہو

 

آزاد ہوکے ہم نے جو پایا ہے دوستو

اس سےکہیں زیادہ گنوایا ہے دوستو

عـزت گئی وقـار گیـا کاروبـار بھی

اِس پربھی ہم نےجشن منایاہےدوستو

Comments are closed.