ملت کے نام آزادی کا پیام

حسن مدنی ندوی

ریسرچ اسکالر

آزادی مبارک!

“مگر اسلام کہتا ہے کہ وطن سے محبت کرو اور اس کے لئے مر مٹ جاؤ” یہ جملہ بہت عام ہوگیا ہے ہندوستان میں، یہ بالکل شرعی ضابطہ کے خلاف ہے اور اس کا دین اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں، ہاں اگر معاہدہ امن ہو کسی بھی غیر مسلم ملک میں دیگر مذاہب کے ساتھ تو قوانین کو تسلیم کرنا چاہئے مگر جب بات ملت کی بقا کی ہو اور دفاع عن النفس کی ہو تو یاد رکھیں اسلام کبھی بھی مجبوری اور بے کسی اور بزدلی کی دعوت نہیں دیتا، اور یہ رونا بند ہونا چاہئے کہ دیش ہم نے آزاد کرایا تھا!! اب اس سے آگے نکل کر قوم و ملت بلکہ وطن کے لئے بھی ہم کیا کر رہے ہیں کتنے تعلیم یافتہ ہیں معاش میں کس قدر مضبوط ہیں ان نکات پر نظر ہو، وہی آزاد و آزادی کے شہیدوں کی داستاں ہر سال اسی طرح رٹنا پھر پورے سال نہ خود کا نہ قوم کا نا وطن کا بھلا کرنا اور بس جھنڈے لہرا لہرا کر اپنی دیش بھکتی ثابت کرنا جہالت اور بزدلی ہے اور ایسی محبت کہیں بھی قرآن و حدیث کی تعلیمات میں نہیں ملتیں، آزادی منائیں اور آزادی کے جلسے جلوس میں فرد و ملت حکمت عملی اور منصوبہ بندی پر توجہ دیں تو شاید مستقبل روشن ہو، اور وہیں اگر کسی بھی خطے میں اگر اسلامی اصول و ضوابط سے ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو تو اس کے دو ہی واضح اور صریح حل ہیں اسلام میں، یاں مزاحمت یاں ہجرت، نفرت کے ماحول میں محبت کے کھوکھلے دعوے اسلام سے متصادم ہیں اور یہ خیانت ہے البتہ دعاء و دعوت و حسن سلوک کے راستے کھلے ہیں، اور ضروری ہیں اگر مد مقابل اسلامی روایات کا لحاظ رکھتا ہے، اور اگر نہیں رکھتا اور سرکشی دکھاتا ہے، توہین کرتا ہے، اور ذلت و رسوائی کے ہر حربے اپناتا ہے، ایسے میں سر خم تسلیم کرنا اسلام سے براہ راست خیانت کرنے کے مترادف ہے ۔

Comments are closed.