اگر یہی آزادی ہے تو غلامی کیا ہے؟

 

آزادی کامطلب ہے کہ بھارت کے آخری شہری تک آزادی کے ثمرات پہنچ جائیں

 

عبدالغفارصدیقی

9897565066

ملک کی آزادی ایک بڑی نعمت ہے۔بڑی مشکلوں میں آزادی نصیب ہوتی ہے۔بھارت کی آزادی کے لیے لاکھوں سروں کو قربان ہونا پڑا ہے۔قدم قدم پر شہیدوں کا خون موجودہے جوآزادی کی جدوجہد کو یاد دلا رہا ہے۔ یہ کہنا کہ ہمیں آزادی سے کیا ملا؟یا ملک کی موجودہ ناگفتہ بہ صورت حال کو دیکھ کر غلامی کے دور کو اچھا سمجھنا حماقت اور ناسمجھی بلکہ آزادی جیسی بیش بہا نعمتوں کی ناقدری ہے۔آزادی خود ہی ایک بڑی نعمت ہے۔غلامی ذلت کا طوق ہے۔غلامی میں خواہ کتنی بھی آسائشیں اور مسرتیں حاصل ہوں وہ آزادی کا بدل ہرگز نہیں ہوسکتیں۔اس لیے سب سے پہلے تو ہمیں اپنی آزادی کی قدر کرنی چاہئے اور اس کے بعد اسے بچانے کی جد جہد کرنی چاہئے۔جب تک ہم نعمت کو نعمت سمجھ کر اس کی قدر نہیں کریں گے تب تک ہم اسے بچانے اور اس کی حفاظت کے لیے کوئی اقدام نہیں کرسکتے۔ہم نے انگریزوں کو بھگا کر ملک آزاد کرالیا ہے،لیکن ابھی نفرت،تعصب،افلاس،اور جہالت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک اور جنگ جاری ہے،جسے فتح کرکے ہی مکمل آزادی سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔

اگر ہم آزادی کے بعد کھونے اور پانے کا جائزہ لیں اوراپنی ترقی اور تنزلی کا احتساب کریں تو بلا مبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہم نے آزادی کے بعد کھویا زیادہ ہے اور پایا کم ہے۔ایک عام شہری جس قدر آزادی کے وقت پریشان تھا،اس سے زیادہ آج پریشان ہے،جس طرح غریب کو اس وقت دو وقت کی روٹی کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے،اسی طرح آج بھی اسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔اناج تقسیم کرنے کی کئی سرکاری اسکیموں کے باوجودہمارا ملک بھکمری کے معاملے میں دنیا کے 116ملکوں کی فہرست میں 91مقام پر ہے۔دنیا بھر میں 69کروڑ لوگ بھوکے سوتے ہیں۔جس میں ہمارے ملک کے 20کروڑ لوگ شامل ہیں۔سرکاری پیمانے کے مطابق شہروں میں یومیہ 32روپے اور گاؤں میں 26روپے یومیہ سے کم خرچ کرنے والا غریب ہے۔اس پیمانے کے مطابق ملک میں غریبوں کی تعداد 27کروڑ ہے۔اگر ورلڈ بینک کا پیمانہ نافذ کردیا جائے جس کے مطابق 166روپے یومیہ سے کم کمانے والا غریب مانا جائے گا تو ہمارے ملک میں 80کروڑ لوگ خط افلاس سے نیچے پہنچ جائیں گے۔اگر آپ گھر مکان اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کا جائزہ لیں گے تو یہ صورت حال مزید بدتر نظر آئے گی۔ملک کا ہر چوتھا انسان بے گھر ہے،صرف دہلی ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہر موسم میں کھلے آسمان کے نیچے سوتے ہیں۔بے روزگاری کی شرح میں مستقل اضافہ ہورہا ہے۔دوکروڑ سالانہ روزگار دینے کے وعدے پر آنے والی حکومت ہر سال کروڑوں افراد کو بے روزگار کررہی ہے۔2014کے بعد سے 7کروڑ لوگ اپنا روزگار کھوچکے ہیں۔سابقہ حکومتوں کے دور میں مہنگائی پر ہنگامہ کرنے والے، گیس سلنڈر کے ساتھ احتجاج کرنے والے آج خاموش ہیں جب کہ تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔گیس سلنڈر ایک ہزار سے بھی زیادہ کا ہوگیا ہے۔لوگ دوبارہ لکڑی کے چولہے تلاش کرنے لگے ہیں۔پیٹرول ڈیزل سے لے کر دودھ،تیل،دال چاول عام انسان کی پہنچ سے دورہورہے ہیں۔تعلیم اور صحت کا عوام کی پہنچ سے دور ہونے کا شکوہ تو موہن بھاگوت جی کو بھی ہے۔کبھی عبدل عید کے میلے سے دو پیسے کالوہے کا چمٹا خریدکر لاتا تھا لیکن آج وہی عبدل اپنے بچوں کے لیے مٹی کا کھلونا نہیں خرید سکتا۔کسی شاعر کا یہ شعر آج کے حالات پر زیادہ صادق آتا ہے۔

گھر آکے بہت روئے ماں باپ اکیلے میں

مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

آزادی حاصل کرنے والوں کا سپنا تھا کہ اپنے وطن میں ہر ہندوستانی کااپنا گھر ہوگا،بولنے کی آزادی ہوگی،اپنی مرضی سے کھائیں گے پئیں گے،اپنی مرضی کا کام کریں گے،کوئی زمین دار لگان وصول کرنے نہیں آئے گا،کسی ضروری چیز پر لائسنس نہیں ہوگا،مگر اسے کیا خبر تھی کہ ایک سرکار ایسی بھی آئے گی جو اس کے دستر خوان کا مینو طے کرے گی،آٹے اور دودھ پر بھی ٹیکس وصول کرے گی۔جی ایس ٹی نام کا ناگ اسے ہر طرف سے ڈسے گا۔اسے اپنی مرضی سے اپنے خدا کی عبادت کرنے کا حق تک نہیں ہوگا۔اپنے ہی ملک کے کسانوں کو نہیں معلوم تھا کہ کوئی سرکار ان کی فصلوں کو کسی مالدار کے ہاتھ ان کی مرضی کے بغیر فروخت کرنے کا قانون بنانے کا سوچے گی۔

آزادی کے بعدتعلیم کے شعبے میں جہاں اخلاقی تعلیم ختم ہوگئی ہے وہیں گزشتہ دس سال میں اٹھارہ ہزار پرائمری سرکاری اسکول بند کردیے گئے ہیں۔جبکہ آبادی کا اضافہ ایک لاکھ نئے اسکولوں کا متقاضی تھا۔مالداروں کے لیے میڈیکل کالجوں میں اضافہ ہوا ہے،سیٹیں بڑھائی گئی ہیں۔لیکن غریبوں کی تعلیم کے ادارے بند ہوگئے ہیں۔پرائمری اور جونئر اسکولوں میں لاکھوں آسامیاں خالی ہیں،ہزاروں اسکول بغیر ہیڈ ماسٹر کے چل رہے ہیں،جو اساتذہ وہاں تعینات ہیں ان سے ڈیجٹلائزیشن کے نام پر ایساکام کرایا جارہا ہے کہ بے چاروں کے پاس پڑھانے کے لیے وقت نہیں ہے،حالانکہ ان کی اکثریت خود بھی پڑھانا نہیں چاہتی۔

موجودہ دور میں علاج معالجہ بھی مہنگا ہوا ہے۔سرکاری اسپتالوں میں لاپرواہی اپنے عروج پر ہے،ڈاکٹر ہے تو دوا نہیں اور دوا ہے تو ڈاکٹر نہیں ہے،شہروں میں قائم سرکاری اسپتال بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ایکسرے،سی ٹی اسکین اور ایم آرآئی کے لیے مریضوں کو پرائیویٹ اداروں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔جہاں ان کی جیب کاٹی جارہی ہے۔ایمس جیسے اسپتالوں میں اگر یہ سہولت ہے بھی تو ایک لمبی قطار ہے،جب تک مریض کا نمبر آتا ہے بے چارہ دنیا سے اٹھ جاتا ہے۔ایک ایم آر آئی مشین ایک کروڑروپے میں دوسرے ملک سے خریدی جاتی ہے،ہمارا ملک جو ماشاء اللہ ایٹمی طاقت ہے،بڑے بڑے جہاز بنا رہا ہے،لیکن ایم آر آئی مشینیں دوسرے ملک سے منگاتا ہے۔نوجوانوں کو چائے پکوڑا بیچنے کی ترغیئب دینے والی حکومت انھیں عوام کی فلاح و بہبود میں استعمال ہونے والی مشینوں کو بنانے کی ٹریننگ پر پیسہ خرچ نہیں کرتی،مجسمہ پر سینکڑوں کروڑ روپے خرچ کرنے والے اسپتالوں کو جدید آلات مہیا نہیں کراتے۔گاؤں کے اسپتالوں پر مدتوں سے تالا پڑا ہوا ہے۔پرائیویٹ اسپتال کا خرچ عام انسان کے بس کا نہیں،سرکاری اسکیمیں کرپشن کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتا۔

آزادی کے بعد ہم نے سوچا تھا کہ ہر شہری کو اپنے دین و مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی۔اس کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی لیکن موجودہ حکومت ہر وقت مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔وہ ایک مخصوص مذہب اور کلچر کوبڑھاوا دے رہی ہے،دوسرے مذاہب کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے،مذہبی شعائر کی بے حرمتی کرائی جارہی ہے۔1991میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کی گئی تھی کہ بابری مسجد کے علاوہ تمام مذہبی عبادت گاہوں کا وہی اسٹیٹس برقرار رکھاجائے گا جو 1947یا اس سے پہلے تھا۔لیکن اس کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں،تازہ معاملہ فتح پور مزار کا ہے جہاں شرپسندوں نے مزار کی بے حرمتی کی ہے اور اس کو نقصان پہنچایا ہے،سر عام مسلمانوں کو مارنے اور ان سے سامان نہ خریدنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔بلاتحقیق اور کسی عدالتی کارروائی کے بغیر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں۔ان اقدامات نے غلامی کے دورکو تازہ کردیا ہے، نام نہاد دیش بھکتی کے نام پر عوام کو گمراہ کیاجارہا ہے۔یہ سب بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے حربے ہیں۔

آزادی کا مطلب اگر یہی ہے کہ حکمران بدل جائیں۔گوروں کی جگہ کالوں کا راج ہوجائے،ودیشیوں کی جگہ دیشی حکمران لے لیں تو ایسی آزادی کا جشن کوئی کیوں منائے گا؟آزادی کا مطلب تو یہ ہے کہ ایک انسان کو آئین کے سوا کسی کا خوف نہ ہو،اسے آئین کے بدل جانے کا بھی ڈر نہ ہو،اسے اس بات کا بھی یقین ہو کہ آئین کا صحیح استعمال ہوگا۔اسے یہ بھی تیقن ہو کہ حکمران بھید بھاؤ نہیں کریں گے۔اسے اپنے ملک میں اپنائیت ملے گی،تحفظ حاصل ہوگا تو وہ کیوں کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرے گا۔2015 سے 2024کے درمیان دس لاکھ سے زیادہ بھارت کے شہری اپنے ملک کی شہریت چھوڑ کر دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔صرف 2021یعنی ایک سال میں 163,370افراد ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔حیرت اس بات پر ہے کہ اکثربھارتیوں نے اُنہیں ملکوں کی شہریت حاصل کی ہے جن سے ہم نے آزادی حاصل کی تھی۔یہ صورت حال ہمارے لیے توہین آمیز ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ سب کچھ خراب ہے۔لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ بہت کچھ خراب ہے۔جسے صحیح کرنے کی ضرورت ہے۔آزادی کامطلب ہے کہ بھارت کے آخری شہری تک آزادی کے ثمرات پہنچ جائیں۔ میں آپ سب کو آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں۔اسی کے ساتھ ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آزادی کی اس نعمت کی حفاظت کریں،اسے کسی کو چھیننے کا موقع نہ دیں،دیش کے امر شہیدوں کے خون کو رائگاں نہ ہونے دیں۔نفرت اور تعصب کے مقابلے پر محبت و الفت اور بھائی چارے کے چراغ کو اس قدر روشن کریں کہ پورا بھارت جگمگا اٹھے اور نفرت کے سوداگر بے نقاب ہوجائیں۔

Comments are closed.