یومِ آزادی کے موقع پر آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفترمیں تقریب کا انعقاد

 

آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے:حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی

پٹنہ، 16 اگست (پریس ریلیز)

ملک کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفتر میں پرچم کشائی اور ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مفکرِ ملت، امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ اور کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل، حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 15 اگست 1947ء ہماری قومی تاریخ کا وہ سنہرا دن ہے جب ہندوستان انگریزوں کی غلامی اور ظلم و جبر سے آزاد ہوا۔** یہ دن ہر ہندوستانی کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے، اس لیے ملک کے تمام شہری، خواہ ملک کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک رہ کر اس کی خدمت انجام دے رہے ہوں، سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

مولانا قاسمی نے کہا کہ آزادی محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی اصل روح یہ ہے کہ ہر شہری کی شہریت محفوظ رہے اور کسی کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔

انہوں نے زور دے کر کہا: ووٹ دینا ہر 18 سالہ شہری کا بنیادی حق ہے۔ کسی شہری کو اس حق سے محروم کرنا یا ووٹر لسٹ سے اس کا نام ہٹانا، یا پھر ووٹ ڈالنے کے دن رکاوٹ کھڑی کرنا، آزادی کے منافی اور ایک سنگین جرم ہے۔

مولانا نےآزادی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب صرف سیاسی آزادی نہیں، بلکہ تحریر و تقریر کی آزادی، مذہب پر عمل کرنے کی آزادی، اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں میں مکمل آزادی ہے۔آزادی کا مطلب ہے کہ کوئی شخص کسی پر ظلم نہ کرے اور سب کو مساوات اور انصاف میسر ہو۔

حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے جدوجہدِ آزادی کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اسلاف کی قربانیاں صرف ایک دن یا چند برسوں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ تقریباً دو صدیوں تک جاری رہیں۔ ہمارے بزرگوں اور مجاہدینِ آزادی نے انگریزوں کا مقابلہ کیا، اپنی جان و مال نچھاور کیے اور بالآخر ہمیں آزادی دلائی۔

انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی محض جشن منانے کا دن نہیں بلکہ عہد و پیمان کی تجدید کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں اور اس ملک کے تمام طبقات—ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی—کی مشترکہ قربانیوں کو یاد رکھیں جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا نے کہا:ہم سب آزاد رہیں، انصاف قائم ہو، مساوات کی بنیاد پر سب کو برابری حاصل ہو، اور اس ملک کا ہر شہری کسی بھی قسم کے جبر و غلامی سے محفوظ رہے۔ حقیقی آزادی یہی ہے۔

Comments are closed.