میوات میں مذبح خانوں کے خلاف آواز بلند ، ماحول اور صحت کے در پیش سنگین خطرات لاحق، مرکزی وزیر راؤ اندراجیت کو میمورنڈم پیش کیا گیا:متحدہ میوات سنگھرش کمیٹی
نوح میوات( پریس ریلیز) متحدہ میوات سنگھرش کمیٹی کے ایک وفد نے بی جے پی کے مقامی رکن پارلیمنٹ گوڑگاؤں راؤ اندرجیت سنگھ و وزیر اعلیٰ ہریانہ کے چیف سکریٹری راجیش کمار کُھلّر سے ملاقات کی۔
اس دوران کمیٹی نے میمبر پارلیمنٹ کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں میوات خطے میں مذبح خانوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے در پیش سنگین مسائل و خطرات کو اجاگر کیا گیا۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ ان مذبح خانوں سے مقامی ماحول کو آلودہ کیا جا رہا ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کی وجہ سے کتے پرتشدد ہو گئے ہیں جو آئے روز مقامی لوگوں پر حملے کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آلودگی اور گندگی کی وجہ سے کئی دیہاتوں میں کینسر اور ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں بھی قابل افسوس اضافہ ہوا ہے۔ پانی کے ذرائع آلودہ ہوچکے ہیں اور پانی کے سوتے بھی متاثر ہو رہے ہیں جو علاقے کی صحت اور ماحولیات کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ ایم پی راؤ اندرجیت سنگھ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چیف سکریٹری راجیش کمار کُھلّر سے فون پر بات کی اور انہیں میوات کے نمائندہ وفد کے ذریعہ میمورنڈم روانہ کیا۔
دونوں عہدیداروں نے میوات میں مذبح خانوں سے پیدا ہونے والے مضر اثرات کو ختم کرنے کا یقین دلایا۔ اور نئے مذبح خانوں کی این او سی کو فوری طور پر رد کرانے کے احکامات جاری کیے، اور جاری مذبح خانوں کو ضابطوں کے تحت خصوصاً آپ ہوا کو آلوگی سے بچانے کے لیے سختی سے عمل کے لیے متعلقہ محکمہ سمیت ڈی سی نوح کو حکم جاری کیا،
آج کے نمائندہ وفد میں ، فجرو الدین بیسر، ارجن دیو چاولہ، پروفیسر مولانا کرم الٰہی، ایڈووکیٹ نورالدین نور، مولانا محمد صابر قاسمی، صدر بار ایسوسی ایشن نوح مقصود احمد، رفیق ہتوڑی کھیڑا، راجو چٹانی، عزیز سرپنچ جلالپور، مبارک اٹیرنا ، ریاض کھیڑی ، ڈاکٹر اشفاق عالم، محسن سرپنچ ٹپکن شامل تھے۔آج کے اس اقدام کو خطے میں ماحولیاتی اور صحت کے بحران کے حل کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
Comments are closed.